تیرا قرب تھا کہ فراق تھا وہی تیری جلوہ گری رہیکہ جو روشنی تیرے جسم کی تھی میرے بدن میں بھری رہی
تیرے شہر میں چلا تھا جب تو کوئی بھی ساتھ نہ تھا میرےتو میں کس سے محوِ کلام تھا؟ تو یہ کس کی ہمسفری رہی؟
مجھے اپنے آپ پہ مان تھا کہ نہ جب تلک ترا دھیان تھاتو مثال تھی میری آگہی تو کمال بے خبری رہی
میرے آشنا بھی عجیب تھے نہ رفیق تھے نہ رقیب تھےمجھے جاں سے درد عزیز تھا انہیں فکرِ چارہ گری رہی
میں یہ جانتا تھا میرا ہنر ہے شکست و ریخت سے معتبرجہاں لوگ سنگ بدست تھے وہیں میری شیشہ گری رہی
جہاں ناصحوں کا ہجوم تھا وہیں عاشقوں کی بھی دھوم تھیجہاں بخیہ گر تھے گلی گلی وہیں رسمِ جامہ دری رہی
تیرے پاس آ کے بھی جانے کیوں میری تشنگی میں ہراس تھابہ مثالِ چشمِ غزال جو لبِ آبجو بھی ڈری رہی
جو ہوس فروش تھے شہر کے سبھی مال بیچ کے جا چکےمگر ایک جنسِ وفا میری سرِ رَہ دھری کی دھری رہی
مرے ناقدوں نے فرازؔ جب میرا حرف حرف پرکھ لیاتو کہا کہ عہدِ ریا میں بھی جو بات کھری تھی کھری رہی
(اے عشق جنوں پیشہ سے انتخاب)
Tuesday, 15 January 2013
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
0 comments:
Post a Comment