Tuesday, 15 January 2013

Tera Qurb Tha ke Faraq Tha...

Posted by Unknown on 03:19 with No comments
تیرا قرب تھا کہ فراق تھا وہی تیری جلوہ گری رہی
کہ جو روشنی تیرے جسم کی تھی میرے بدن میں بھری رہی

تیرے شہر میں چلا تھا جب تو کوئی بھی ساتھ نہ تھا میرے
تو میں کس سے محوِ کلام تھا؟ تو یہ کس کی ہمسفری رہی؟

مجھے اپنے آپ پہ مان تھا کہ نہ جب تلک ترا دھیان تھا
تو مثال تھی میری آگہی تو کمال بے خبری رہی

میرے آشنا بھی عجیب تھے نہ رفیق تھے نہ رقیب تھے
مجھے جاں سے درد عزیز تھا انہیں فکرِ چارہ گری رہی

میں یہ جانتا تھا میرا ہنر ہے شکست و ریخت سے معتبر
جہاں لوگ سنگ بدست تھے وہیں میری شیشہ گری رہی

جہاں ناصحوں کا ہجوم تھا وہیں عاشقوں کی بھی دھوم تھی
جہاں بخیہ گر تھے گلی گلی وہیں رسمِ جامہ دری رہی

تیرے پاس آ کے بھی جانے کیوں میری تشنگی میں ہراس تھا
بہ مثالِ چشمِ غزال جو لبِ آبجو بھی ڈری رہی

جو ہوس فروش تھے شہر کے سبھی مال بیچ کے جا چکے
مگر ایک جنسِ وفا میری سرِ رَہ دھری کی دھری رہی

مرے ناقدوں نے فرازؔ جب میرا حرف حرف پرکھ لیا
تو کہا کہ عہدِ ریا میں بھی جو بات کھری تھی کھری رہی

(اے عشق جنوں پیشہ سے انتخاب)

0 comments:

Post a Comment