تُو کہ شمعِ شامِ فراق ہے دلِ نامراد سنبھل کے رویہ کسی کی بزمِ نشاط ہے یہاں قطرہ قطرہ پگھل کے رو
کوئی آشنا ہو کہ غیر ہو نہ کسی سے حال بیان کریہ کٹھور لوگوں کا شہر ہے کہیں دُور پار نکل کے رو
کسے کیا پڑی سرِ انجمن کہ سُنے وہ تیری کہانیاںجہاں کوئی تجھ سے بچھڑ گیا اُسی رہگزار پہ چل کے رو
یہاں اور بھی ہیں گرفتہ دل کبھی اپنے جیسوں سے جا کے مِلترے دکھ سے کم نہیں جن کے دکھ کبھی اُن کی آگ میں جل کے رو
ترے دوستوں کو خبر ہے سب تری بے کلی کا جو ہے سببتُو بھلے سے اُس کا نہ ذکر کر تُو ہزار نام بدل کے رو
غمِ ہجر لاکھ کڑا سہی پر فراز کچھ تو خیال کرمری جاں یہ محفلِ شعر ہے تو نہ ساتھ ساتھ غزل کے رو
(اے عشق جنوں پیشہ سے انتخاب)
Tuesday, 15 January 2013
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
0 comments:
Post a Comment