Wednesday, 20 February 2013

raja pervez ashraf-14

دہشت گردوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا ۔ راجا پرویز اشرف

ٹارگٹڈ آپریشن میں حکومت اور سیکیورٹی اداروں کو کافی کامیابی حاصل ہوئی، وزیر اعظم کا کابینہ سے خطاب ۔۔۔۔۔۔۔
مذہبی جذبات کے احترام سے امن کو فروغ دیا جاسکتا ہے بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس سے خطاب ۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام آباد ‘ وزیر اعظم راجا پرویز اشرف نے کہا ہے کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے عوام کے تحفظ کے لیے حکومت تمام وسائل بروئے کار لائے گی دہشت گردوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا کوئٹہ میں ہونے والا واقعہ افسوس ناک ہے ہزارہ کمیونٹی سے کئے گئے تمام وعدوں پر عمل کریں گے تمام سیکیورٹی اداروں کو الرٹ رہنا ہو گا تاکہ آئندہ ایسے واقعات نہ ہوں جیسا کہ کوئٹہ میں پیش آیا ۔ ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم راجا پرویز اشرف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب میں کیا ۔ اجلاس کے شروع میں کابینہ ارکان نے کوئٹہ ، پشاور اور کراچی میں دہشت گردی کے واقعات میں جاں بحق افراد کے لیے فاتحہ خوانی کی ۔ کابینہ اجلاس سے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ ہزارہ برادری سے مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں ۔ ان مذاکرات میں جتنے بھی وعدے کئے گئے ان پر عمل یقینی بنایا جائے گا ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کوئٹہ میں ٹارگٹڈ آپریشن شروع ہو چکا ہے اور اس آپریشن میں حکومت اور سیکیورٹی اداروں کو کافی کامیابی حاصل ہوئی ۔انہوں نے توقع ظاہر کی کہ ایسے عناصر کا قلع قمع کر کے آئندہ کے لیے ملک میں امن قائم کیا جائے ۔دریں اثنا اسلام آباد میں بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم راجہ پرویزاشرف نے کہاہے کہ تمام مذاہب، امن، محبت اور اخوت کا درس دیتے ہیں، تمام مکاتب فکرکے علما ملکرامن کیلئے کردار ادا کریں۔ بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس وقت کا اہم تقاضا ہے۔ دوسروں پر زبردستی سے اپنی مرضی مسلط کرنے سے جھگڑا پیداہوتا ہے، ہر مذہب ایک انسان کو دوسرے انسان پر ظلم ڈھانے سے روکتا ہے کسی کو دوسرے پر زبردستی اپنی مرضی مسلط نہیں کرنی چاہئے۔ اگر ہم ایک دوسرے کی رائے کا احترام کریں تو کوئی جھگڑا پیدا نہیں ہوگا۔ دوسروں پر اپنا طرز زندگی مسلط کرنے کی اجازت نہیں د ی جاسکتی۔ ۔ پرویز اشرف نے کہا کہ اگر ہم ایک دوسرے کی رائے کا احترام کریں تو کوئی جھگڑا پیدا نہیں ہوگا۔ دوسروں پر اپنا طرز زندگی مسلط کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ تمام مکاتب فکر کے علما مل کرامن کیلئے کردارادا کریں۔ معاشرے کو امن و سلامتی کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ امن و امان کا قیام حکومت کا فرض ہے اور ہر شہری کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ قانون کی پاسداری کر ے۔ قانون پر عملدرآمد سے ہی معاشرہ قائم رہ سکتاہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں ایک ہو کر امن کا پیغام گلی گلی لے کر جانا ہوگا۔ ایک دوسرے کے مذہبی جذبات کے احترام سے امن کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔ خواتین، بچوں اوربے گناہ افراد کو مارنے کی کوئی توجیہہ پیش نہیں کی جاسکتی۔ اسلام تہذیبوں کی کسی جنگ کو نہیں مانتا۔ ہم سب نے ملکر امن، محبت اور پیار کا گیت گانا ہے۔ میڈیا کا امن کے فروغ میں اہم کردارہے۔ بدقسمتی سے ملک میں دہشت گردی کے واقعات رونما ہو ر ہے ہیں۔ ہزارہ واقعہ پر ہر آنکھ پرنم ہے، اس سے پاکستان کا امیج خراب ہوا ہے۔ پوری قوم ہزارہ برادری کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔ اگر افغانستان پرامن ہے تو پاکستان بھی پرامن ہے۔

0 comments:

Post a Comment