کمرہ
عدالت میں جج نے ملزم کو کہا۔ دس جون کو تم نے بیوی کو کلہاڑی اٹھا کر
ڈرایا دھمکایا۔ ملزم نے اقرار کیا کہ جی جناب ایسا ہی ہوا تھا۔
عدالت میں موجود ایک آدمی نے یہ سن کر زور سے کہا۔ شرم کرو بے غیرت انسان۔
جج نے اس آدمی کو ڈانٹا کہ عدالت میں اونچا نہیں بولتے۔ پھر جج نے ملزم کو مخاطب کر کے کہا۔ بیس جون کو تم نے اپنی بیوی کو پھر دھمکایا اور بیلچا اٹھا کر اس کو زندہ دفن کرنے کی دھمکی دی۔
یہ سن کر پھر وہی آدمی کھڑا ہوگیا اور اس ملزم پر لعن و طعن کرنے لگ گیا۔ جج کو غصہ آگیا اس نے کہا کہ میں تمہارے جذبات سمجھتا ہوں، کوئی بھی غیرتمند شخص اپنی بیوی کو ایسا دھمکی نہیں دے سکتا لیکن میں نے تمہیں پہلے بھی منع کیا تھا، کہ عدالت کا احترام لازم ہے۔ اب تم بولے تو تم توہین عدالت کا کیس کردوں گا۔
وہ آدمی بولا جناب آپ نہیں جانتے یہ ملزم کتنا مکار اور جھوٹا ہے۔ یہ میرا پڑوسی ہے اور میں نے کئ بار اس سے کلہاڑی اور بیلچہ ادھار مانگے لیکن اس نے کہا کہ ا سکے پاس یہ چیزیں نہیں ہیں۔
عدالت میں موجود ایک آدمی نے یہ سن کر زور سے کہا۔ شرم کرو بے غیرت انسان۔
جج نے اس آدمی کو ڈانٹا کہ عدالت میں اونچا نہیں بولتے۔ پھر جج نے ملزم کو مخاطب کر کے کہا۔ بیس جون کو تم نے اپنی بیوی کو پھر دھمکایا اور بیلچا اٹھا کر اس کو زندہ دفن کرنے کی دھمکی دی۔
یہ سن کر پھر وہی آدمی کھڑا ہوگیا اور اس ملزم پر لعن و طعن کرنے لگ گیا۔ جج کو غصہ آگیا اس نے کہا کہ میں تمہارے جذبات سمجھتا ہوں، کوئی بھی غیرتمند شخص اپنی بیوی کو ایسا دھمکی نہیں دے سکتا لیکن میں نے تمہیں پہلے بھی منع کیا تھا، کہ عدالت کا احترام لازم ہے۔ اب تم بولے تو تم توہین عدالت کا کیس کردوں گا۔
وہ آدمی بولا جناب آپ نہیں جانتے یہ ملزم کتنا مکار اور جھوٹا ہے۔ یہ میرا پڑوسی ہے اور میں نے کئ بار اس سے کلہاڑی اور بیلچہ ادھار مانگے لیکن اس نے کہا کہ ا سکے پاس یہ چیزیں نہیں ہیں۔

0 comments:
Post a Comment