بیجنگ…این
جی ٹی…علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یارب۔۔شاعرِ مشرق علامہ اقبال کی نظم
کا یہ مصرعہ تعلیم کے شیدائی چینی بچوں پر بخوبی پورا اُترتا ہے جو روز بلا
ناغہ کئی فٹ اونچی چوٹی سے لٹکی لکڑی کی سیڑھی چڑھ کر گھر سے اسکول اور
اسکولسے گھر پہنچتے ہیں۔ جہاں کچھ بچے روز وین سے اسکول پہنچتے ہیں تو کچھ
کے والدین انہیں گاڑی پر اسکول چھوڑنے آتے ہیں لیکن چین کے صوبے ہنان کے
قصبے کے ان ننھے منے بچوں کو کیا کہیے، جو اپنے اسکول تک آنے کے لیے پہاڑی
سلسلے سے گزرنے کے بعد چوٹی سے عمودی طور پر لٹکائی گئی لکڑی کی خطرناک
سیڑھی چڑھتے، اُترتے ہیں۔ یہ بچے روزانہ اپنا اسکول یونیفارم اور بستہ لٹکا
کر تقریباً 30میل طویل راستہ طے کرکے اسکول پہنچتے ہیں جس کے لیے انہیں
پہاڑ کے دشوار گزار راستوں اور چوٹیوں سے اُترنے کے لیے دس، دس میٹر لمبی
لکڑی کی سیڑھیوں کا سہارا لینا پڑتا ہے جو اپنی مدد آپ کے تحت قصبے کے
باسیوں نے خطرناک انداز میں ان پہاڑیوں کے ساتھ لٹکائی ہیں۔ کہتے ہیں کہ
ارادہ پختہ ہوتو بڑی سے بڑی مشکل بھی آسان ہوجاتی ہے اور شاید یہ بچے بھی
اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں جبھی تو انہوں نے اس خطرناک راستے کو کبھی اپنی
تعلیم کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔
Sunday, 7 April 2013
اونچی چوٹی چڑھ کر اسکول جانے والے باہمت علم کے شیدائی چینی بچے
Posted by Unknown on 01:13 with No comments
Subscribe to:
Post Comments (Atom)

0 comments:
Post a Comment