نفس کا اکرام
حضرت عبدالرحمن بن جبیر رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسسلم کو ایک مرتبہ تیز بھوک لگی (اور کھانے کو کچھ نہ تھا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسسلم نے ایک پتھر لیا اور اسے پیٹ پر رکھ لیا اور فرمایا کتنے لوگ اٍیسے ہیں جواس دنیا میں لذیذ کھانوں اور نازو نعمت میں لگے ہیں اور وہ قیامت کے دن ننگے اور بھوکے ہوں گے اور بہت سے ایسے لوگ ہیں جو نفس کا اکرام کرنے والے ہوں گے لیکن حقیقت میں اسے ذلیل کرنے والے ہوں گے بہت سے وہ لوگ جو نفس کی تذلیل کرنے والے ہوں گے(دنیا میں) حقیقت میں اس کی (آخرت میں) عزت کرنے والے ہوں گے۔
(ترغیب جلد۳ ص ۱۴۰)
(ترغیب جلد۳ ص ۱۴۰)
حضرت ابوحجیفہ رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں کہ میں نے گوشت روٹی کا ثرید کھایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسسلم کی خدمت میں حاضر ہوا‘ مجھے ڈکار ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسسلم نے فرمایا اس ڈکار سے بچو جو آج دنیا میں جس قدر پیٹ بھرکر کھانے والا ہوگا کل قیامت میں اسی قدر بھوکا ہوگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسسلم کے اس فرمان مبارک کے بعد حضرت ابوحجیفہ رضی اللہ عنہٗ نے کبھی پیٹ بھر نہیں کھایا یہاں تک کہ اس دنیا سے چل بسے۔ صبح کھاتے تو شام نہ کھاتے‘ شام کھاتے تو صبح نہ کھاتے۔ ابن ابی الدنیا کی ایک روایت میں ہے کہ ابوحجیفہ رضی اللہ عنہٗ نے کہا میں نے تیس سال تک پیٹ بھر نہیں کھایا۔
(ترغیب جلد۳ ص ۱۳۷)
(ترغیب جلد۳ ص ۱۳۷)

0 comments:
Post a Comment