Saturday, 13 July 2013

ہجرت کا دوسرا سال

تاجدار دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ سلم بدر کے میدان میں

حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے جب بدر میں نزول فرمایا تو ایسی جگہ پڑاؤ ڈالا کہ جہاں نہ کوئی کنواں تھا نہ کوئی چشمہ اور وہاں کی زمین اتنی ریتلی تھی کہ گھوڑوں کے پاؤں زمین میں دھنستے تھے۔ یہ دیکھ کر حضرت حباب بن منذر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول ﷲ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم آپ نے پڑاؤ کے لئے جس جگہ کو منتخب فرمایا ہے یہ وحی کی رو سے ہے یا فوجی تدبیر ہے؟
آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے بارے میں کوئی وحی نہیں اتری ہے۔ حضرت حباب بن منذر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ پھر میری رائے میں جنگی تدابیر کی رو سے بہتر یہ ہے کہ ہم کچھ آگے بڑھ کر پانی کے چشموں پر قبضہ کر لیں تا کہ کفار جن کنوؤں پر قابض ہیں وہ بیکار ہو جائیں کیونکہ انہی چشموں سے ان کے کنوؤں میں پانی جاتا ہے۔
حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کی رائے کو پسند فرمایا اور اسی پر عمل کیا گیا۔ خدا کی شان کہ بارش بھی ہو گئی جس سے میدان کی گرد اور ریت جم گئی جس پر مسلمانوں کے لئے چلنا پھرنا آسان ہو گیا اور کفار کی زمین پر کیچڑ ہو گئی جس سے ان کو چلنے پھرنے میں دشواری ہو گئی اور مسلمانوں نے بارش کا پانی روک کر جا بجا حوض بنالئے تا کہ یہ پانی غسل اور وضو کے کام آئے۔ اسی احسان کو خداوند عالم نے قرآن میں اس طرح بیان فرمایا کہ

وَ يُنَزِّلُ عَلَيْکُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّيُطَهِّرَكُمْ بِهٖ (انفال)

اور خدا نے آسمان سے پانی برسا دیا تا کہ وہ تم لوگوں کو پاک کرے۔

0 comments:

Post a Comment