Showing posts with label Ahsan Danish. Show all posts
Showing posts with label Ahsan Danish. Show all posts
Monday, 8 July 2013
Monday, 4 February 2013
Na siyo hon'tt Na Khawabon Mein Sadaa Do Hum Ko
Posted by Unknown on 04:23 with No comments
نہ سیو ھونٹ نہ خوابوں میں صدا دو ہم کو
مصلحت کا یہ تقاضا ھے ، بھلا دو ہم کو
جرم سقراط سے ھٹ کر نہ سزا دو ہم کو
زہر رکھا ھے تو یہ آب بقا دو ہم کو
بستیاں آگ میں بہہ جائیں کہ پتھر برسیں
ہم اگر سوئے ھوئے ھیں جگا دو ہم کو
ہم حقیقت ھیں تو تسلیم نہ کرنے کا سبب ؟
ہاں اگر حرف غلط ھیں تو مٹادو ہم کو
زیست ھے اس سحرو شام سے بیزار و زبو
لالہ گل کی طرح رنگ قبا دو ہم کو
شورش عشق میں ھے حسن برابر کا شریک
سوچ کر جرم تمنا کی سزا دو ہم کو
احسان دانش
مصلحت کا یہ تقاضا ھے ، بھلا دو ہم کو
جرم سقراط سے ھٹ کر نہ سزا دو ہم کو
زہر رکھا ھے تو یہ آب بقا دو ہم کو
بستیاں آگ میں بہہ جائیں کہ پتھر برسیں
ہم اگر سوئے ھوئے ھیں جگا دو ہم کو
ہم حقیقت ھیں تو تسلیم نہ کرنے کا سبب ؟
ہاں اگر حرف غلط ھیں تو مٹادو ہم کو
زیست ھے اس سحرو شام سے بیزار و زبو
لالہ گل کی طرح رنگ قبا دو ہم کو
شورش عشق میں ھے حسن برابر کا شریک
سوچ کر جرم تمنا کی سزا دو ہم کو
احسان دانش
Subscribe to:
Posts (Atom)

