Showing posts with label Makki Life. Show all posts
Showing posts with label Makki Life. Show all posts

Thursday, 20 June 2013

شہنشاہ رسالت مدینہ میں

حضورِ اکرم صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی آمد آمد کی خبر چونکہ مدینہ میں پہلے سے پہنچ چکی تھی اور عورتوں بچوں تک کی زبانوں پر آپ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی تشریف آوری کا چرچا تھا۔ اس لئے اہل مدینہ آپ کے دیدار کے لئے انتہائی مشتاق و بے قرار تھے۔ روزانہ صبح سے نکل نکل کر شہر کے باہر سراپا انتظار بن کر استقبال کے لئے تیار رہتے تھے اور جب دھوپ تیز ہو جاتی تو حسرت و افسوس کے ساتھ اپنے گھروں کو واپس لوٹ جاتے۔
ایک دن اپنے معمول کے مطابق اہل مدینہ آپ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی راہ دیکھ کر واپس جا چکے تھے کہ ناگہاں ایک یہودی نے اپنے قلعہ سے دیکھا کہ تاجدار دو عالم صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی سواری مدینہ کے قریب آن پہنچی ہے۔ اس نے بہ آواز بلند پکارا کہ اے مدینہ والو! لو تم جس کا روزانہ انتظار کرتے تھے وہ کاروانِ رحمت آگیا۔ یہ سن کر تمام انصار بدن پر ہتھیار سجا کر اور وجد و شادمانی سے بے قرار ہو کر دونوں عالم کے تاجدار صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا استقبال کرنے کے لئے اپنے گھروں سے نکل پڑے اور نعرہ تکبیر کی آوازوں سے تمام شہر گونج اُٹھا۔
(مدارج النبوة ج۲ ص۶۳ وغيره)

مدینہ منورہ سے تین میل کے فاصلہ پر جہاں آج “مسجد قبا” بنی ہوئی ہے۔ ۱۲ ربیع الاول کو حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم رونق افروز ہوئے اور قبیلۂ عمرو بن عوف کے خاندان میں حضرت کلثوم بن ہدم رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے مکان میں تشریف فرما ہوئے۔ اہل خاندان نے اس فخر و شرف پر کہ دونوں عالم کے میزبان ان کے مہمان بنے ﷲ اکبر کا پر جوش نعرہ مارا۔ چاروں طرف سے انصار جوشِ مسرت میں آتے اور بارگاہ رسالت میں صلاۃ و سلام کا نذرانہ عقیدت پیش کرتے۔ اکثر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے پہلے ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئے تھے وہ لوگ بھی اس مکان میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ بھی حکم نبوی کے مطابق قریش کی امانتیں واپس لوٹا کر تیسرے دن مکہ سے چل پڑے تھے وہ بھی مدینہ آ گئے اور اسی مکان میں قیام فرمایا اور حضرتِ کلثوم بن ہدم رضی ﷲ تعالیٰ عنہ اور ان کے خاندان والے ان تمام مقدس مہمانوں کی مہمان نوازی میں دن رات مصروف رہنے لگے۔

(مدارج النبوة ج ۲ ص۶۳ و بخاری ج۱ ص۵۶۰)
ﷲ اکبر! عمرو بن عوف کے خاندان میں حضرت سید الانبیاء صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم و سید الاولیاء اور صالحین صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے نورانی اجتماع سے ایسا سماں بندھ گیا ہو گا کہ غالباً چاند، سورج اور ستارے حیرت کے ساتھ اس مجمع کو دیکھ کر زبانِ حال سے کہتے ہوں گے کہ یہ فیصلہ مشکل ہے کہ آج انجمن آسمان زیادہ روشن ہے یا حضرت کلثوم بن ہدم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مکان؟ اور شاید خاندان عمر و بن عوف کا بچہ بچہ جوشِ مسرت سے مسکرا مسکرا کر زبانِ حال سے یہ نغمہ گاتا ہو گا کہ

اُن کے قدم پہ میں نثارجن کے قدوم ناز نے

اُجڑے ہوئے دیار کو رشک چمن بنا دیا

اَللّٰهمَّ صَلِّ وَ سَلِّمْ وَ بَارِكْ عَلٰي سَيِّدِنَا وَ مَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّ آلِه
وَ صَحْبِه وَ بَارِكْ وَ سَلِّمْ


اَلْحَمْدُ ِﷲِ! حضور رحمتِ عالم صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی ’’مکی زندگی‘‘ آپ پڑھ چکے۔ اب ہم آپ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی ’’مدنی زندگی‘‘ پر سنہ وار واقعات تحریر کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ آپ بھی اس کے مطالعہ سے آنکھوں میں نور اور دل میں سرور کی دولت حاصل کریں۔
حضرت زبیر کے بیش قیمت کپڑے

اس سفر میں حسن اتفاق سے حضرت زبیر بن العوام رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے ملاقات ہو گئی جو حضور اکرم صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی پھوپھی حضرت صفیہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کے بیٹے ہیں۔ یہ ملک شام سے تجارت کا سامان لے کر آ رہے تھے۔ انہوں نے حضورِ انور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں چند نفیس کپڑے بطور نذرانہ کے پیش کیے جن کو تاجدار دو عالم صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے قبول فرما لیا۔
(مدارج النبوة ج۲ ص۶۳)
بریدہ اسلمی کا جھنڈا

جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام مدینہ کے قریب پہنچ گئے تو “بریدہ اسلمی” قبیلۂ بنی سہم کے ستر سواروں کو ساتھ لے کر اس لالچ میں آپ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی گرفتاری کے لئے آئے کہ قریش سے ایک سو اونٹ انعام مل جائے گا۔ مگر جب حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے سامنے آئے اور پوچھا کہ آپ کون ہیں؟ تو آپ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں محمد بن عبداﷲ ہوں اور خدا کا رسول ہوں۔ جمال و جلال نبوت کا ان کے قلب پر ایسا اثر ہوا کہ فوراً ہی کلمہ شہادت پڑھ کر دامن اسلام میں آ گئے اور کمال عقیدت سے یہ درخواست پیش کی کہ یا رسول ﷲ! صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم میری تمنا ہے کہ مدینہ میں حضور کا داخلہ ایک جھنڈے کے ساتھ ہونا چاہیے، یہ کہا اور اپنا عمامہ سر سے اتار کر اپنے نیزہ پر باندھ لیا اور حضورِ اقدس صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے علمبردار بن کر مدینہ تک آگے آگے چلتے رہے۔ پھر دریافت کیا کہ یا رسول ﷲ! صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم آپ مدینہ میں کہاں اتریں گے تاجدار دو عالم صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری اونٹنی خدا کی طرف سے مامور ہے۔ یہ جہاں بیٹھ جائے گی وہی میری قیام گاہ ہے۔
(مدارج النبوة ج۲ ص۶۲)
سراقہ کا گھوڑا

جب اُمِ معبد کے گھر سے حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم آگے روانہ ہوئے تو مکہ کا ایک مشہور شہسوار سراقہ بن مالک بن جعشم تیز رفتار گھوڑے پر سوار ہو کر تعاقب کرتا نظر آیا۔ قریب پہنچ کر حملہ کرنے کا ارادہ کیا مگر اس کے گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور وہ گھوڑے سے گر پڑا مگر سو اونٹوں کا انعام کوئی معمولی چیز نہ تھی۔ انعام کے لالچ نے اسے دوبارہ اُبھارا اور وہ حملہ کی نیت سے آگے بڑھا تو حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی دعا سے پتھریلی زمین میں اس کے گھوڑے کا پاؤں گھٹنوں تک زمین میں دھنس گیا۔ سراقہ یہ معجزہ دیکھ کر خوف و دہشت سے کانپنے لگا اور امان! امان! پکارنے لگا۔ رسول اکرم صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا دل رحم و کرم کا سمندر تھا۔ سراقہ کی لاچاری اور گریہ زاری پر آپ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا دریائے رحمت جوش میں آ گیا۔ دعا فرما دی تو زمین نے اس کے گھوڑے کو چھوڑ دیا۔ اس کے بعد سراقہ نے عرض کیا کہ مجھ کو امن کا پروانہ لکھ دیجیے۔ حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے حکم سے حضرت عامر بن فہیرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے سراقہ کے لئے امن کی تحریر لکھ دی۔ سراقہ نے اس تحریر کو اپنے ترکش میں رکھ لیا اور واپس لوٹ گیا۔ راستہ میں جو شخص بھی حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے بارے میں دریافت کرتا تو سراقہ اس کو یہ کہہ کر لوٹا دیتے کہ میں نے بڑی دور تک بہت زیادہ تلاش کیا مگر آنحضرت صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اس طرف نہیں ہیں۔ واپس لوٹتے ہوئے سراقہ نے کچھ سامان سفر بھی حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں بطور نذرانہ کے پیش کیا مگر آنحضرت صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے قبول نہیں فرمایا۔
(بخاری باب هجرة النبی ج۱ ص۵۵۴ و زرقانی ج۱ ص۳۴۶ و مدارج النبوة ج۲ ص۶۲)

سراقہ اس وقت تو مسلمان نہیں ہوئے مگر حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی عظمت نبوت اور اسلام کی صداقت کا سکہ ان کے دل پر بیٹھ گیا۔ جب حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فتح مکہ اور جنگ طائف و حنین سے فارغ ہو کر “جعرانہ” میں پڑاؤ کیا تو سراقہ اسی پروانۂ امن کو لے کر بارگاہِ نبوت میں حاضر ہو گئے اور اپنے قبیلہ کی بہت بڑی جماعت کے ساتھ اسلام قبول کر لیا۔
(دلائل النبوة ج۲ ص۱۵ و مدارج النبوة ج۲ ص۶۲)

واضح رہے کہ یہ وہی سراقہ بن مالک رضی ﷲ تعالیٰ عنہ ہیں جن کے بارے میں حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے علم غیب سے غیب کی خبر دیتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا تھا کہ اے سراقہ! تیرا کیا حال ہوگا جب تجھ کو ملک فارس کے بادشاہ کسریٰ کے دونوں کنگن پہنائے جائیں گے ؟ اس ارشاد کے برسوں بعد جب حضرت عمر فاروق رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں ایران فتح ہوا اور کسریٰ کے کنگن دربار خلافت میں لائے گئے تو امیر المومنین حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے تاجدار دو عالم صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے فرمان کی تصدیق و تحقیق کے لئے وہ کنگن حضرت سراقہ بن مالک رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو پہنا دیئے اور فرمایا کہ اے سراقہ ! رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ کہو کہ ﷲ تعالیٰ ہی کے لئے حمد ہے جس نے ان کنگنوں کو بادشاہ فارس کسریٰ سے چھین کر سراقہ بدوی کو پہنا دیا۔ حضرت سراقہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے ۲۴ھ میں وفات پائی۔ جب کہ حضرت عثمان غنی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ تخت خلافت پر رونق افروز تھے۔
(زرقانی علی المواهب ج۱ ص۲۴۶ و ص۳۴۸)
اُمِ معبد کی بکری

دوسرے روز مقامِ قدید میں اُمِ معبد عاتکہ بنت خالد خزاعیہ کے مکان پر آپ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا گزر ہوا۔ اُمِ معبد ایک ضعیفہ عورت تھی جو اپنے خیمہ کے صحن میں بیٹھی رہا کرتی تھی اور مسافروں کو کھانا پانی دیا کرتی تھی۔ حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس سے کچھ کھانا خریدنے کا قصد کیا مگر اس کے پاس کوئی چیز موجود نہ تھی۔ حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے دیکھا کہ اس کے خیمہ کے ایک جانب ایک بہت ہی لاغر بکری ہے۔ دریافت فرمایا کیا یہ دودھ دیتی ہے ؟ اُمِ معبد نے کہا نہیں۔ آپ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم اجازت دو تو میں اس کا دودھ دوہ لوں۔ اُمِ معبد نے اجازت دے دی اور آپ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ” بسم ﷲ” پڑھ کر جو اس کے تھن کو ہاتھ لگایا تو اس کا تھن دودھ سے بھر گیا اور اتنا دودھ نکلا کہ سب لوگ سیراب ہو گئے اور اُمِ معبد کے تمام برتن دودھ سے بھر گئے۔ یہ معجزہ دیکھ کر ام معبد اور ان کے خاوند دونوں مشرف بہ اسلام ہو گئے۔
(مدارج النبوة ج ۲ ص۶۱)

روایت ہے کہ اُمِ معبد کی یہ بکری ۱۸ھ تک زندہ رہی اور برابر دودھ دیتی رہی اور حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں جب ”عام الرماد” کا سخت قحط پڑا کہ تمام جانوروں کے تھنوں کا دودھ خشک ہو گیا اس وقت بھی یہ بکری صبح و شام برابر دودھ دیتی رہی۔
(زرقانی علی المواهب ج۱ ص۳۴۶)
سو اونٹ کا انعام

اُدھر اہل مکہ نے اشتہار دے دیا تھا کہ جو شخص محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کو گرفتار کرکے لائے گا اس کو ایک سو اونٹ انعام ملے گا۔ اس گراں قدر انعام کے لالچ میں بہت سے لالچی لوگوں نے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی تلاش شروع کر دی اور کچھ لوگ تو منزلوں دور تک تعاقب میں گئے۔
کاشانۂ نبوت کا محاصرہ
کفار مکہ نے اپنے پروگرام کے مطابق کاشانۂ نبوت کو گھیر لیا اور انتظار کرنے لگے کہ حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سو جائیں تو ان پر قاتلانہ حملہ کیا جائے۔ اس وقت گھر میں حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس صرف علی مرتضیٰ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ تھے۔ کفار مکہ اگرچہ رحمت عالم صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے بدترین دشمن تھے مگر اس کے باوجود حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی امانت و دیانت پر کفار کو اس قدر اعتماد تھا کہ وہ اپنے قیمتی مال و سامان کو حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس امانت رکھتے تھے۔ چنانچہ اس وقت بھی بہت سی امانتیں کاشانۂ نبوت میں تھیں۔ حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ تم میری سبز رنگ کی چادر اوڑھ کر میرے بستر پر سو رہو اور میرے چلے جانے کے بعد تم قریش کی تمام امانتیں ان کے مالکوں کو سونپ کر مدینہ چلے آنا۔

یہ بڑا ہی خوفناک اور بڑے سخت خطرہ کا موقع تھا۔ حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو معلوم تھا کہ کفار ِ مکہ حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے قتل کا ارادہ کر چکے ہیں مگر حضورِ اقدس صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے اس فرمان سے کہ تم قریش کی ساری امانتیں لوٹا کر مدینہ چلے آنا حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو یقین کامل تھا کہ میں زندہ رہوں گا اور مدینہ پہنچوں گا اس لئے رسول ﷲ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا بستر جو آج کانٹوں کا بچھونا تھا۔ حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے لئے پھولوں کی سیج بن گیا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بستر پر صبح تک آرام کے ساتھ میٹھی میٹھی نیند سوتے رہے۔ اپنے اسی کارنامے پر فخر کرتے ہوئے شیر خدا نے اپنے اشعار میں فرمایا کہ

وَقَيْتُ بِنَفْسِيْ خَيْرَ مَنْ وَطِئَ الثَّريٰ

وَمَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ الْعَتِيْقِ وَ بِالْحَجَرِ

میں نے اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر اس ذات گرامی کی حفاظت کی جو زمین پر چلنے والوں اور خانہ کعبہ و حطیم کا طواف کرنے والوں میں سب سے زیادہ بہتر اور بلند مرتبہ ہیں۔

رَسُوْلُ اِلٰه خَافَ اَنْ يَّمْکُرُوْا بِه

فَنَجَّاه ذُوالطَّوْلِ الْاِلٰه مِنَ الْمَکْرِِ

رسول خدا صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو یہ اندیشہ تھا کہ کفار مکہ ان کے ساتھ خفیہ چال چل جائیں گے مگر خداوند مہربان نے ان کو کافروں کی خفیہ تدبیر سے بچا لیا۔
(زرقانی علی المواهب ج۱ ص۳۲۲)

حضورِ اقدس صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے بستر نبوت پر جان ولایت کو سلا کر ایک مٹھی خاک ہاتھ میں لی اور سورہ یس کی ابتدائی آیتوں کو تلاوت فرماتے ہوئے نبوت خانہ سے باہر تشریف لائے اور محاصرہ کرنے والے کافروں کے سروں پر خاک ڈالتے ہوئے ان کے مجمع سے صاف نکل گئے۔ نہ کسی کو نظر آئے نہ کسی کو کچھ خبر ہوئی۔ ایک دوسرا شخص جو اس مجمع میں موجود نہ تھا اس نے ان لوگوں کو خبر دی کہ محمد (صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) تو یہاں سے نکل گئے اور چلتے وقت تمہارے سروں پر خاک ڈال گئے ہیں۔ چنانچہ ان کور بختوں نے اپنے سروں پر ہاتھ پھیرا تو واقعی ان کے سروں پر خاک اور دھول پڑی ہوئی تھی۔
(مدارج النبوة ج۲ ص۵۷)

رحمت عالم صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے دولت خانہ سے نکل کر مقام ” حزورہ” کے پاس کھڑے ہو گئے اور بڑی حسرت کے ساتھ ” کعبہ ” کو دیکھا اور فرمایا کہ اے شہر مکہ! تو مجھ کو تمام دنیا سے زیادہ پیارا ہے۔ اگر میری قوم مجھ کو تجھ سے نہ نکالتی تو میں تیرے سوا کسی اور جگہ سکونت پذیر نہ ہوتا۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے پہلے ہی قرار داد ہو چکی تھی۔ وہ بھی اسی جگہ آ گئے اور اس خیال سے کہ کفار مکہ ہمارے قدموں کے نشان سے ہمارا راستہ پہچان کر ہمارا پیچھا نہ کریں پھر یہ بھی دیکھا کہ حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے پائے نازک زخمی ہو گئے ہیں حضرت ابوبکر صدیق رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے آپ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اپنے کندھوں پر سوار کر لیا اور اس طرح خاردار جھاڑیوں اور نوک دار پتھروں والی پہاڑیوں کو روندتے ہوئے اسی رات “غارِ ثور” پہنچے۔
(مدارج النبوة ج۲ ص۵۸)
غار ثور

حضرت ابوبکر صدیق رضی ﷲ تعالیٰ عنہ پہلے خود غار میں داخل ہوئے اور اچھی طرح غار کی صفائی کی اور اپنے بدن کے کپڑے پھاڑ پھاڑ کر غار کے تمام سوراخوں کو بند کیا۔ پھر حضور اکرم صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم غار کے اندر تشریف لے گئے اور حضرت ابوبکر صدیق رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کی گودمیں اپنا سر مبارک رکھ کر سو گئے۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے ایک سوراخ کو اپنی ایڑی سے بند کر رکھا تھا۔ سوراخ کے اندر سے ایک سانپ نے بار بار یار غار کے پاؤں میں کاٹا مگر حضرت صدیق جاںنثار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس خیال سے پاؤں نہیں ہٹایا کہ رحمت ِ عالم صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے خوابِ راحت میں خلل نہ پڑ جائے مگر درد کی شدت سے یار غار کے آنسوؤں کی دھار کے چند قطرات سرور کائنات کے رخسار پرنثار ہو گئے۔ جس سے رحمت ِ عالم صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بیدار ہو گئے اور اپنے یارِ غار کو روتا دیکھ کر بے قرار ہو گئے۔
پوچھا ابوبکر! کیا ہوا؟
عرض کیا کہ یا رسول ﷲ! صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مجھے سانپ نے کاٹ لیا ہے۔ یہ سن کر حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے زخم پر اپنا لعاب دہن لگا دیا جس سے فوراً ہی سارا درد جاتا رہا۔ حضورِ اقدس صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تین رات اس غار میں رونق افروز رہے۔

جبل ثور

حضرت ابوبکر صدیق رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے جوان فرزند حضرت عبدﷲ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ روزانہ رات کو غار کے منہ پر سوتے اور صبح سویرے ہی مکہ چلے جاتے اور پتہ لگاتے کہ قریش کیا تدبیریں کر رہے ہیں؟ جو کچھ خبر ملتی شام کو آکر حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے عرض کر دیتے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے غلام حضرت عامر بن فہیرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کچھ رات گئے چراگاہ سے بکریاں لے کر غار کے پاس آ جاتے اور ان بکریوں کا دودھ دونوں عالم کے تاجدار صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور ان کے یار غار پی لیتے تھے۔
(زرقانی علی المواهب ج۱ ص۳۳۹)

حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تو غار ثور میں تشریف فرما ہو گئے۔ اُدھر کاشانۂ نبوت کا محاصرہ کرنے والے کفار جب صبح کو مکان میں داخل ہوئے تو بستر نبوت پر حضرت علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ تھے۔ ظالموں نے تھوڑی دیر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھ گچھ کر کے آپ کو چھوڑ دیا۔ پھر حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی تلاش و جستجو میں مکہ اور اطراف و جوانب کا چپہ چپہ چھان مارا۔ یہاں تک کہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے غار ثور تک پہنچ گئے مگر غار کے منہ پر اس وقت خداوندی حفاظت کا پہرہ لگا ہوا تھا۔ یعنی غار کے منہ پر مکڑی نے جالا تن دیا تھا اور کنارے پر کبوتری نے انڈے دے رکھے تھے۔
یہ منظر دیکھ کر کفار قریش آپس میں کہنے لگے کہ اس غارمیں کوئی انسان موجود ہوتا تو نہ مکڑی جالا تنتی نہ کبوتری یہاں انڈے دیتی۔ کفار کی آہٹ پا کر حضرت ابوبکر صدیق رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کچھ گھبرائے اور عرض کیا کہ یا رسول ﷲ! صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اب ہمارے دشمن اس قدر قریب آ گئے ہیں کہ اگر وہ اپنے قدموں پر نظر ڈالیں گے تو ہم کو دیکھ لیں گے۔ حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ

لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰه مَعَنَا

مت گھبراؤ! خدا ہمارے ساتھ ہے۔
اس کے بعد ﷲ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے قلب پر سکون و اطمینان کا ایسا سکینہ اُتار دیا کہ وہ بالکل ہی بے خوف ہو گئے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کی یہی وہ جاں نثاریاں ہیں جن کو دربار نبوت کے مشہور شاعر حضرت حسان بن ثابت انصاری رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کیا خوب کہا ہے کہ

وَثَانِيُ اثْنَيْنِ فِي الْغَارِ الْمُنِيْفِ وَ قَدْ

طَافَ الْعَدُوُّ بِه اِذْ صَاعَدَ الْجَبَلَا

اور دو میں کے دوسرے (ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ) جب کہ پہاڑ پر چڑھ کر بلند مرتبہ غار میں اس حال میں تھے کہ دشمن ان کے ارد گرد چکر لگا رہا تھا۔


وَکَانَ حِبَّ رَسُوْلِ اﷲِ قَدْ عَلِمُوْاْ

مِنَ الْخَلَائِقِ لَمْ يَعْدِلْ بِه بَدَلَاْ

اور وہ (ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ) رسول ﷲ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے محبوب تھے۔ تمام مخلوق اس بات کو جانتی ہے کہ حضور صلی ﷲ تعالیٰ علہہ وسلم نے کسی کو بھی ان کے برابر نہیں ٹھہرایا ہے۔
(زرقانی علی المواهب ج ۱ص ۳۳۷)

بہر حال چوتھے دن حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم یکم ربیع الاول دو شنبہ کے دن غار ثور سے باہر تشریف لائے۔ عبدﷲ بن اریقط جس کو رہنمائی کے لئے کرایہ پر حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے نوکر رکھ لیا تھا وہ قرارداد کے مطابق دو اونٹنیاں لے کر غار ثور پر حاضر تھا۔ حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور ایک اونٹنی پر حضرت ابوبکر صدیق رضی ﷲ تعالیٰ عنہ اور حضرت عامر بن فہیرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ بیٹھے اور عبدﷲ بن اُریقط آگے آگے پیدل چلنے لگا اور عام راستہ سے ہٹ کر ساحل سمندر کے غیر معروف راستوں سے سفر شروع کر دیا۔
ہجرتِ رسول کا واقعہ

جب کفار حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے قتل پر اتفاق کر کے کانفرنس ختم کر چکے اور اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو گئے تو حضرت جبریل امین علیہ السلام رب العالمین کا حکم لے کر نازل ہو گئے کہ اے محبوب! آج رات کو آپ اپنے بستر پر نہ سوئیں اور ہجرت کرکے مدینہ تشریف لے جائیں۔
چنانچہ عین دوپہر کے وقت حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم حضرت ابوبکر صدیق رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے گھر تشریف لے گئے اور حضرت ابو بکر صدیق رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ سب گھر والوں کو ہٹا دو کچھ مشورہ کرنا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول ﷲ! صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم آپ پر میرے ماں باپ قربان یہاں آپ کی اہلیہ (حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا) کے سوا اور کوئی نہیں ہے (اُس وقت حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی شادی ہو چکی تھی) حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابوبکر! ﷲ تعالیٰ نے مجھے ہجرت کی اجازت فرما دی ہے۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم پر قربان! مجھے بھی ہمراہی کا شرف عطا فرمائیے۔ آپ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کی درخواست منظور فرما لی۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے چار مہینے سے دو اونٹنیاں ببول کی پتی کھلا کھلا کر تیار کی تھیں کہ ہجرت کے وقت یہ سواری کے کام آئیں گی۔ عرض کیا کہ یا رسول ﷲ! صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ان میں سے ایک اونٹنی آپ قبول فرما لیں۔ آپ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قبول ہے مگر میں اس کی قیمت دوں گا۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے بادل ناخواستہ فرمان رسالت سے مجبور ہو کر اس کو قبول کیا۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا تو اس وقت بہت کم عمر تھیں لیکن ان کی بڑی بہن حضرت بی بی اسماء رضی ﷲ تعالیٰ عنہا نے سامان سفر درست کیا اور توشہ دان میں کھانا رکھ کر اپنی کمر کے پٹکے کو پھاڑ کر دو ٹکڑے کیے۔ ایک سے توشہ دان کو باندھا اور دوسرے سے مشک کا منہ باندھا۔ یہ وہ قابل فخر شرف ہے جس کی بنا پر ان کو “ذات النطاقین” (دو پٹکے والی) کے معزز لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔
اس کے بعد حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک کافر کو جس کا نام “عبدﷲ بن اُرَیْقَطْ” تھا جو راستوں کا ماہر تھا راہ نمائی کے لئے اُجرت پر نوکر رکھا اور ان دونوں اونٹنیوں کو اس کے سپرد کر کے فرمایا کہ تین راتوں کے بعد وہ ان دونوں اونٹنیوں کو لے کر “غارثور” کے پاس آ جائے۔ یہ سارا نظام کر لینے کے بعد حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے مکان پر تشریف لائے۔
(بخاری ج۱ ص۵۵۳ تا ۵۵۴ باب هجرت النبی صلی الله تعالیٰ عليه وسلم)

Wednesday, 19 June 2013

کفار کانفرنس

جب مکہ کے کافروں نے یہ دیکھ لیا کہ حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے مددگار مکہ سے باہر مدینہ میں بھی ہوگئے اور مدینہ جانے والے مسلمانوں کو انصار نے اپنی پناہ میں لے لیا ہے تو کفار مکہ کو یہ خطرہ محسوس ہونے لگا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ محمد (صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) بھی مدینہ چلے جائیں اور وہاں سے اپنے حامیوں کی فوج لے کر مکہ پر چڑھائی نہ کر دیں۔ چنانچہ اس خطرہ کا دروازہ بند کرنے کے لئے کفار مکہ نے اپنے دارالندوہ (پنچائت گھر) میں ایک بہت بڑی کانفرنس منعقد کی۔ اور یہ کفار مکہ کا ایسا زبردست نمائندہ اجتماع تھا کہ مکہ کا کوئی بھی ایسا دانشور اور بااثر شخص نہ تھا جو اس کانفرنس میں شریک نہ ہوا ہو۔

خصوصیت کے ساتھ ابو سفیان، ابو جہل، عتبہ، جبیر بن مطعم، نضر بن حارث، ابو البختری، زمعہ بن اسود، حکیم بن حزام، اُمیہ بن خلف وغیرہ وغیرہ تمام سردارانِ قریش اس مجلس میں موجود تھے۔
شیطانِ لعین بھی کمبل اوڑھے ایک بزرگ شیخ کی صورت میں آ گیا۔ قریش کے سرداروں نے نام و نسب پوچھا تو بولا کہ میں ’’ شیخ نجد ‘‘ ہوں اس لئے اس کانفرنس میں آگیا ہوں کہ میں تمہارے معاملہ میں اپنی رائے بھی پیش کر دوں۔
یہ سن کر قریش کے سرداروں نے ابلیس کو بھی اپنی کانفرنس میں شریک کر لیااور کانفرنس کی کارروائی شروع ہو گئی۔ جب حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا معاملہ پیش ہوا تو ابو البختری نے یہ رائے دی کہ ان کو کسی کوٹھری میں بند کرکے ان کے ہاتھ پاؤں باندھ دو اور ایک سوراخ سے کھانا پانی ان کو دے دیا کرو۔
شیخ نجدی (شیطان) نے کہا کہ یہ رائے اچھی نہیں ہے۔ خدا کی قسم! اگر تم لوگوں نے ان کو کسی مکان میں قید کر دیا تو یقینا ان کے جانثار اصحاب کو اس کی خبر لگ جائے گی اور وہ اپنی جان پر کھیل کر ان کو قید سے چھڑا لیں گے۔
ابو الاسود ربیعہ بن عمرو عامری نے یہ مشورہ دیا کہ ان کو مکہ سے نکال دو تا کہ یہ کسی دوسرے شہر میں جا کر رہیں۔ اس طرح ہم کو ان کے قرآن پڑھنے اور ان کی تبلیغ اسلام سے نجات مل جائے گی۔ یہ سن کر شیخ نجدی نے بگڑ کر کہا کہ تمہاری اس رائے پر لعنت، کیا تم لوگوں کو معلوم نہیں کہ محمد (صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے کلام میں کتنی مٹھاس اور تاثیر و دل کشی ہے؟ خدا کی قسم! اگر تم لوگ ان کو شہر بدر کرکے چھوڑ دو گے تو یہ پورے ملک عرب میں لوگوں کو قرآن سنا سنا کر تمام قبائل عرب کو اپنا تابع فرمان بنا لیں گے اور پھر اپنے ساتھ ایک عظیم لشکر کو لے کر تم پر ایسی یلغار کر دیں گے کہ تم ان کے مقابلہ سے عاجز و لاچار ہو جاؤ گے اور پھر بجز اس کے کہ تم ان کے غلام بن کر رہو کچھ بنائے نہ بنے گی اس لئے ان کو جلا وطن کرنے کی تو بات ہی مت کرو۔

ابوجہل بولا کہ صاحبو ! میرے ذہن میں ایک رائے ہے جو اب تک کسی کو نہیں سوجھی یہ سن کر سب کے کان کھڑے ہو گئے اور سب نے بڑے اشتیاق کے ساتھ پوچھا کہ کہیے وہ کیا ہے ؟ تو ابوجہل نے کہا کہ میری رائے یہ ہے کہ ہر قبیلہ کا ایک ایک مشہور بہادر تلوار لے کر اٹھ کھڑا ہو اور سب یکبارگی حملہ کر کے محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کو قتل کر ڈالیں۔ اس تدبیر سے خون کرنے کا جرم تمام قبیلوں کے سر پر رہے گا۔ ظاہر ہے کہ خاندان بنو ہاشم اس خون کا بدلہ لینے کے لئے تمام قبیلوں سے لڑنے کی طاقت نہیں رکھ سکتے۔ لہٰذا یقینا وہ خون بہا لینے پر راضی ہو جائیں گے اور ہم لوگ مل جل کر آسانی کے ساتھ خون بہا کی رقم ادا کر دیں گے۔ ابوجہل کی یہ خونی تجویز سن کر شیخ نجدی مارے خوشی کے اُچھل پڑا اور کہا کہ بے شک یہ تدبیر بالکل درست ہے۔ اس کے سوا اور کوئی تجویز قابل قبول نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ تمام شرکاء کانفرنس نے اتفاق رائے سے اس تجویز کو پاس کر دیا اور مجلس شوریٰ برخاست ہو گئی اور ہر شخص یہ خوفناک عزم لے کر اپنے اپنے گھر چلا گیا۔
خداوند قدوس نے قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیت میں اس واقعہ کا ذکر فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ

وَاِذْ يَمْکُرُ بِکَ الَّذِيْنَ کَفَرُوْا لِيُثْبِتُوْکَ اَوْ يَقْتُلُوْکَ اَوْ يُخْرِجُوْکَ ط وَيَمْکُرُوْنَ وَيَمْکُرُ ﷲُ ط وَﷲُ خَيْرُ الْمَاکِرِيْنَ

(اے محبوب یاد کیجیے)
جس وقت کفار آپ کے بارے میں خفیہ تدبیر کر رہے تھے کہ آپ کو قید کر دیں یا قتل کر دیں یا شہر بدر کر دیں یہ لوگ خفیہ تدبیر کر رہے تھے اور ﷲ خفیہ تدبیر کر رہا تھا اور ﷲ کی پوشیدہ تدبیر سب سے بہتر ہے۔

Migrated to Medina...ہجرت مدینہ

Posted by Unknown on 21:27 with No comments
ہجرت مدینہ

مدینہ منورہ میں جب اسلام اور مسلمانوں کو ایک پناہ گاہ مل گئی تو حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو عام اجازت دے دی کہ وہ مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ چلے جائیں۔ چنانچہ سب سے پہلے حضرت ابو سلمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے ہجرت کی۔ اس کے بعد یکے بعد دیگرے دوسرے لوگ بھی مدینہ روانہ ہونے لگے۔ جب کفار قریش کو پتہ چلا تو انہوں نے روک ٹوک شروع کر دی مگر چھپ چھپ کر لوگوں نے ہجرت کا سلسلہ جاری رکھا یہاں تک کہ رفتہ رفتہ بہت سے صحابہ کرام مدینہ منورہ چلے گئے۔ صرف وہی حضرات مکہ میں رہ گئے جو یا تو کافروں کی قید میں تھے یا اپنی مفلسی کی وجہ سے مجبور تھے۔

حضورِاقدس صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو چونکہ ابھی تک خدا کی طرف سے ہجرت کا حکم نہیں ملا تھا اس لئے آپ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مکہ ہی میں مقیم رہے اور حضرتِ ابوبکر صدیق اور حضرتِ علی مرتضیٰ رضی ﷲ تعالیٰ عنہما کو بھی آپ نے روک لیا تھا۔ لہٰذا یہ دونوں شمع نبوت کے پروانے بھی آپ ہی کے ساتھ مکہ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔

بيعت عقبه ثانيه

اس کے ایک سال بعد سن ۱۳ نبوی میں حج کے موقع پر مدینہ کے تقریباً بہتّر اشخاص نے منیٰ کی اسی گھاٹی میں اپنے بت پرست ساتھیوں سے چھپ کر حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے دست حق پرست پر بیعت کی اور یہ عہد کیا کہ ہم لوگ آپ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی اور اسلام کی حفاظت کے لئے اپنی جان قربان کر دیں گے۔ اس موقع پر حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ بھی موجود تھے جو ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔

انہوں نے مدینہ والوں سے کہا کہ دیکھو ! محمد صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے خاندان بنی ہاشم میں ہر طرح محترم اور باعزت ہیں۔ ہم لوگوں نے دشمنوں کے مقابلہ میں سینہ سپر ہو کر ہمیشہ ان کی حفاظت کی ہے۔ اب تم لوگ ان کو اپنے وطن میں لے جانے کے خواہشمند ہو تو سن لو! اگر مرتے دم تک تم لوگ ان کا ساتھ دے سکو تو بہتر ہے ورنہ ابھی سے کنارہ کش ہو جاؤ۔ یہ سن کر حضرت براء بن عازب رضی ﷲ تعالیٰ عنہ طیش میں آ کر کہنے لگے کہ ہم لوگ تلواروں کی گود میں پلے ہیں۔
حضرت براء بن عازب رضی ﷲ تعالیٰ عنہ اتنا ہی کہنے پائے تھے کہ حضرت ابو الہیثم رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے بات کاٹتے ہوئے یہ کہا کہ یا رسول ﷲ ! صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ہم لوگوں کے یہودیوں سے پرانے تعلقات ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ ہمارے مسلمان ہو جانے کے بعد یہ تعلقات ٹوٹ جائیں گے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ جب ﷲ تعالیٰ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو غلبہ عطا فرمائے تو آپ ہم لوگوں کو چھوڑ کر اپنے وطن مکہ چلے جائیں۔
یہ سن کر حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ تم لوگ اطمینان رکھو کہ ” تمہارا خون میرا خون ہے “اور یقین کرو” میرا جینا مرنا تمہارے ساتھ ہے۔ میں تمہارا ہوں اور تم میرے ہو۔ تمہارا دشمن میرا دشمن اور تمہارا دوست میرا دوست ہے۔
(زرقانی علی المواهب ج۱ ص۳۱۷ و سيرت ابن هشام ج۴ ص۴۴۱ تا ۴۴۲)

جب انصار یہ بیعت کر رہے تھے تو حضرت سعد بن زرارہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے یا حضرت عباس بن نضلہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میرے بھائیو! تمہیں یہ بھی خبر ہے؟ کہ تم لوگ کس چیز پر بیعت کر رہے ہو؟ خوب سمجھ لو کہ یہ عرب و عجم کے ساتھ اعلان جنگ ہے۔
انصار نے طیش میں آ کر نہایت ہی پر جوش لہجے میں کہا کہ ہاں! ہاں! ہم لوگ اسی پر بیعت کر رہے ہیں۔
بیعت ہو جانے کے بعد آپ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس جماعت میں سے بارہ آدمیوں کو نقیب (سردار) مقرر فرمایا۔ ان میں نو آدمی قبیلہ خزرج کے اور تین اشخاص قبیلۂ اوس کے تھے جن کے مبارک نام یہ ہیں۔

(۱)
حضرت ابوامامہ اسعد بن زرارہ
(۲)
حضرت سعدبن ربیع
(۳)
حضرت عبدﷲ بن رواحہ
(۴)
حضرت رافع بن مالک
(۵)
حضرت براء بن معرور
(۶)
حضرت عبدﷲ بن عمرو
(۷)
حضرت سعد بن عبادہ
(۸)
حضرت منذر بن عمر
(۹)
حضرت عبادہ بن ثابت ۔
یہ نو آدمی قبیلہ خزرج کے ہیں۔
(۱۰)
حضرت اُسید بن حضیر
(۱۱)
حضرت سعد بن خیثمہ
(۱۲)
حضرت ابو الہیثم بن تیہان۔
یہ تین شخص قبیلۂ اوس کے ہیں۔
(رضی اﷲ تعالیٰ عنہم اجمعین)
(زرقانی علی المواهب ج۱ ص۳۱۷)

اس کے بعد یہ تمام حضرات اپنے اپنے ڈیروں پر چلے گئے۔
صبح کے وقت جب قریش کو اس کی اطلاع پہنچی تو وہ آگ بگولا ہو گئے اور ان لوگوں نے ڈانٹ کر مدینہ والوں سے پوچھا کہ کیا تم لوگوں نے ہمارے ساتھ جنگ کرنے پر محمد (صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) سے بیعت کی ہے؟
انصار کے کچھ ساتھیوں نے جو مسلمان نہیں ہوئے تھے اپنی لاعلمی ظاہر کی۔
یہ سن کر قریش واپس چلے گئے مگر جب تفتیش و تحقیقات کے بعد کچھ انصار کی بیعت کا حال معلوم ہوا تو قریش غیظ و غضب میں آپے سے باہر ہو گئے اور بیعت کرنے والوں کی گرفتاری کے لئے تعاقب کیا مگر قریش حضرت سعد بن عبادہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے سوا کسی اور کو نہیں پکڑ سکے۔
قریش حضرت سعد بن عبادہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو اپنے ساتھ مکہ لائے اور ان کو قید کر دیا مگر جب جبیر بن مطعم اور حارث بن حرب بن امیہ کو پتہ چلا تو ان دونوں نے قریش کو سمجھایا کہ خدا کے لئے سعد بن عبادہ (رضی ﷲ تعالیٰ عنہ) کو فوراً چھوڑ دو ورنہ تمہاری ملک ِ شام کی تجارت خطرہ میں پڑجائے گی۔ یہ سن کر قریش نے حضرت سعد بن عبادہ کو قید سے رہا کر دیا اور وہ بخیریت مدینہ پہنچ گئے۔
(سيرت ِابن هشام ج۴ص ۴۴۹ تا ۴۵۰)

بيعت عقبه اولیٰ

دوسرے سال سن ۱۲ نبوی میں حج کے موقع پر مدینہ کے بارہ اشخاص منیٰ کی اسی گھاٹی میں چھپ کر مشرف بہ اسلام ہوئے اور حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے بیعت ہوئے۔ تاریخ اسلام میں اس بیعت کا نام “بیعت عقبہ اولیٰ” ہے۔

ساتھ ہی ان لوگوں نے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے یہ درخواست بھی کی کہ احکامِ اسلام کی تعلیم کے لئے کوئی معلم بھی ان لوگوں کے ساتھ کر دیا جائے۔ چنانچہ حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت مصعب بن عمیر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو ان لوگوں کے ساتھ مدینہ منورہ بھیج دیا۔ وہ مدینہ میں حضرت اسعد بن زرارہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے مکان پر ٹھہرے اور انصار کے ایک ایک گھر میں جا جا کر اسلام کی تبلیغ کرنے لگے اور روزانہ ایک دو نئے آدمی آغوش اسلام میں آنے لگے۔ یہاں تک کہ رفتہ رفتہ مدینہ سے قباء تک گھر گھر اسلام پھیل گیا۔

قبیلۂ اوس کے سردار حضرت سعد بن معاذ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بہت ہی بہادر اور بااثر شخص تھے۔ حضرت مصعب بن عمیر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے جب ان کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی تو انہوں نے پہلے تو اسلام سے نفرت و بیزاری ظاہر کی مگر جب حضرت مصعب بن عمیر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے ان کو قرآنِ مجید پڑھ کر سنایا تو ایک دم اُن کا دل پسیج گیا اور اس قدر متاثر ہوئے کہ سعادتِ ایمان سے سر فراز ہو گئے۔ ان کے مسلمان ہوتے ہی ان کا قبیلہ “اوس” بھی دامنِ اسلام میں آ گیا۔

اسی سال بقول مشہور ماہ رجب کی ستائیسویں رات کو حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو بحالت بیداری “معراجِ جسمانی” ہوئی۔ اور اِسی سفر معراج میں پانچ نمازیں فرض ہوئیں جس کا تفصیلی بیان ان شاء ﷲ تعالیٰ معجزات کے باب میں آئے گا۔

Tuesday, 18 June 2013


مدینہ میں اسلام کیونکر پھیلا؟

انصار گو بت پرست تھے مگر یہودیوں کے میل جول سے اتنا جانتے تھے کہ نبی آخر الزمان کا ظہور ہونے والا ہے اور مدینہ کے یہودی اکثر انصار کے دونوں قبیلوں اوس و خزرج کو دھمکیاں بھی دیا کرتے تھے کہ نبی آخر الزمان کے ظہور کے وقت ہم ان کے لشکر میں شامل ہو کر تم بت پرستوں کو دنیا سے نیست و نابود کر ڈالیں گے۔ اس لئے نبی آخر الزمان کی تشریف آوری کا یہود اور انصار دونوں کو انتظار تھا۔

گیارہ 11 نبوی میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم معمول کے مطابق حج میں آنے والے قبائل کو دعوت اسلام دینے کے لئے منیٰ کے میدان میں تشریف لے گئے اور قرآنِ مجید کی آیتیں سنا سنا کر لوگوں کے سامنے اسلام پیش فرمانے لگے۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم منیٰ میں عقبہ (گھاٹی) کے پاس جہاں آج “مسجد العقبہ” ہے تشریف فرما تھے کہ قبیلۂ خزرج کے چھ آدمی آپ کے پاس آ گئے۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے ان کا نام و نسب پوچھا۔ پھر قرآن کی چند آیتیں سنا کر ان لوگوں کو اسلام کی دعوت دی جس سے یہ لوگ بے حد متاثر ہوگئے اور ایک دوسرے کا منہ دیکھ کر واپسی میں یہ کہنے لگے کہ یہودی جس نبی آخر الزمان کی خوشخبری دیتے رہے ہیں یقینا وہ نبی یہی ہیں۔ لہٰذا کہیں ایسا نہ ہو کہ یہودی ہم سے پہلے اسلام کی دعوت قبول کر لیں۔ یہ کہہ کر سب ایک ساتھ مسلمان ہو گئے اور مدینہ جا کر اپنے اہل خاندان اور رشتہ داروں کو بھی اسلام کی دعوت دی۔ ان چھ خوش نصیبوں کے نام یہ ہیں۔
(۱)
حضرت عقبہ بن عامر بن نابی۔
(۲)
حضرت ابو امامہ اسعد بن زرارہ۔
(۳)
حضرت عوف بن حارث۔
(۴)
حضرت رافع بن مالک۔
(۵)
حضرت قطبہ بن عامر بن حدیدہ۔
(۶)
حضرت جابر بن عبداﷲ بن ریاب (رضی اﷲ تعالیٰ عنہم اجمعین)۔
(مدارج النبوة ج۲ ص۵۱ و زرقانی ج۱ ص۳۱۰)

مدینہ میں آفتاب رِسالت

“مدینہ منورہ” کا پرانا نام “یثرب” ہے۔ جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس شہر میں سکونت فرمائی تو اس کا نام “مدینۃ النبی” (نبی کا شہر) پڑ گیا۔ پھر یہ نام مختصر ہو کر “مدینہ” مشہور ہو گیا۔


تاریخی حیثیت سے یہ بہت پرانا شہر ہے۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے جب اعلان نبوت فرمایا تو اِس شہر میں عرب کے دو قبیلے “اوس” اور “خزرج” اور کچھ “یہودی” آباد تھے۔ اوس و خزرج کفارِ مکہ کی طرح “بت پرست” اور یہودی “اہل کتاب” تھے۔ اوس و خزرج پہلے تو بڑے اتفاق و اتحاد کے ساتھ مل جل کر رہتے تھے مگر پھر عربوں کی فطرت کے مطابق اِن دونوں قبیلوں میں لڑائیاں شروع ہو گئیں۔ یہاں تک کہ آخری لڑائی جو تاریخ عرب میں “جنگ بعاث” کے نام سے مشہور ہے اس قدر ہولناک اور خونریز ہوئی کہ اس لڑائی میں اوس و خزرج کے تقریباً تمام نامور بہادر لڑ بھڑ کر کٹ مر گئے اور یہ دونوں قبیلے بے حد کمزور ہوگئے۔ یہودی اگرچہ تعداد میں بہت کم تھے مگر چونکہ وہ تعلیم یافتہ تھے اس لئے اوس و خزرج ہمیشہ یہودیوں کی علمی برتری سے مرعوب اور ان کے زیر اثر رہتے تھے ۔

اِسلام قبول کرنے کے بعد رسولِ رحمت صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی مقدس تعلیم و تربیت کی بدولت اوس و خزوج کے تمام پرانے اختلافات ختم ہو گئے اور یہ دونوں قبیلے شیر و شکر کی طرح مل جل کر رہنے لگے۔ اور چونکہ اِن لوگوں نے اسلام اور مسلمانوں کی اپنے تن من دھن سے بے پناہ امداد و نصرت کی اِس لئے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان خوش بختوں کو ” انصار ” کے معزز لقب سے سرفراز فرما دیا اور قرآن کریم نے بھی ان جاں نثار ان اسلام کی نصرت رسول و امدادِ مسلمین پر ان خوش نصیبوں کی مدح و ثنا کا جابجا خطبہ پڑھا اور ازروئے شریعت انصار کی محبت اور ان کی جناب میں حسن عقیدت تمام اُمت ِ مسلمہ کیلئے لازم الایمان اور واجب العمل قرار پائی۔
(رضی اﷲ تعالیٰ عنہم اجمعین)
طائف وغیرہ کا سفر

مکہ والوں کے عناد اور سرکشی کو دیکھتے ہوئے جب حضور رَحمت عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو ان لوگوں کے ایمان لانے سے مایوسی نظر آئی تو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے تبلیغ اسلام کے لئے مکہ کے قرب و جوار کی بستیوں کا رُخ کیا۔ چنانچہ اس سلسلہ میں آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے “طائف” کا بھی سفر فرمایا۔ اس سفر میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے غلام حضرت زید بن حارثہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بھی آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ طائف میں بڑے بڑے اُمراء اور مالدار لوگ رہتے تھے۔ ان رئیسوں میں ’’ عمرو ‘‘ کا خاندان تمام قبائل کا سردار شمار کیا جاتا تھا۔ یہ لوگ تین بھائی تھے۔ عبدیالیل۔ مسعود۔ حبیب۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ان تینوں کے پاس تشریف لے گئے اور اسلام کی دعوت دی۔ ان تینوں نے اسلام قبول نہیں کیا بلکہ انتہائی بیہودہ اور گستاخانہ جواب دیا۔ ان بدنصیبوں نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ طائف کے شریر غنڈوں کو ابھار دیا کہ یہ لوگ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ برا سلوک کریں۔ چنانچہ لچوں لفنگوں کا یہ شریر گروہ ہر طرف سے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم پر ٹوٹ پڑا اور یہ شرارتوں کے مجسمے آپ پر پتھر برسانے لگے یہاں تک کہ آپ کے مقدس پاؤں زخموں سے لہولہان ہو گئے۔

اور آپ کے موزے اور نعلین مبارک خون سے بھر گئے۔ جب آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم زخموں سے بے تاب ہو کر بیٹھ جاتے تو یہ ظالم انتہائی بے دردی کے ساتھ آپ کا بازو پکڑ کر اٹھاتے اور جب آپ چلنے لگتے تو پھر آپ پر پتھروں کی بارش کرتے اور ساتھ ساتھ طعنہ زنی کرتے۔ گالیاں دیتے۔ تالیاں بجاتے۔ ہنسی اڑاتے۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ دوڑ دوڑ کر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم پر آنے والے پتھروں کو اپنے بدن پر لیتے تھے اور حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو بچاتے تھے یہاں تک کہ وہ بھی خون میں نہا گئے اور زخموں سے نڈھال ہو کر بے قابو ہو گئے۔ یہاں تک کہ آخر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے انگور کے ایک باغ میں پناہ لی۔ یہ باغ مکہ کے ایک مشہور کافر عتبہ بن ربیعہ کا تھا۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا یہ حال دیکھ کر عتبہ بن ربیعہ اور اس کے بھائی شیبہ بن ربیعہ کو آپ پر رحم آگیا اور کافر ہونے کے باوجود خاندانی حمیت نے جوش مارا۔ چنانچہ ان دونوں کافروں نے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اپنے باغ میں ٹھہرایا اور اپنے نصرانی غلام “عداس” کے ہاتھ سے آپ کی خدمت میں انگور کا ایک خوشہ بھیجا۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے بسم اﷲ پڑھ کر خوشہ کو ہاتھ لگایا تو عداس تعجب سے کہنے لگا کہ اس اطراف کے لوگ تو یہ کلمہ نہیں بولا کرتے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس سے دریافت فرمایا کہ تمہارا وطن کہاں ہے؟ عداس نے کہا کہ میں ” شہر نینویٰ ” کا رہنے والا ہوں۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ حضرت یونس بن متی علیہ السلام کا شہر ہے۔ وہ بھی میری طرح خدا عزوجل کے پیغمبر تھے۔ یہ سن کر عداس آپ کے ہاتھ پاؤں چومنے لگا اور فوراً ہی آپ کا کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گیا۔
(زرقانی علی المواهب ج۱ ص۳۰۰)

اسی سفر میں جب آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مقام “نخلہ” میں تشریف فرما ہوئے اور رات کو نماز تہجد میں قرآن مجید پڑھ رہے تھے تو “نصیبین” کے جنوں کی ایک جماعت آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور قرآن سن کر یہ سب جن مسلمان ہو گئے۔ پھر ان جنوں نے لوٹ کر اپنی قوم کو بتایا تو مکہ مکرمہ میں جنوں کی جماعت نے فوج در فوج آ کر اسلام قبول کیا۔ چنانچہ قرآن مجید میں سورہ جن کی ابتدائی آیتوں میں خداوند عالم نے اس واقعہ کا تذکرہ فرمایا ہے۔
(زرقانی ج۱ ص۳۰۳)

مقام نخلہ میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے چند دنوں تک قیام فرمایا۔ پھر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مقام “حراء” میں تشریف لائے اور قریش کے ایک ممتاز سردار مطعم بن عدی کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ کیا تم مجھے اپنی پناہ میں لے سکتے ہو ؟ عرب کا دستور تھا کہ جب کوئی شخص ان سے حمایت اور پناہ طلب کرتا تو وہ اگرچہ کتنا ہی بڑا دشمن کیوں نہ ہو وہ پناہ دینے سے انکار نہیں کر سکتے تھے۔ چنانچہ مطعم بن عدی نے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اپنی پناہ میں لے لیا اور اس نے اپنے بیٹوں کو حکم دیا کہ تم لوگ ہتھیار لگا کر حرم میں جاؤ اور مطعم بن عدی خود گھوڑے پر سوار ہو گیااور حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اپنے ساتھ مکہ لایااور حرم کعبہ میں اپنے ساتھ لے کر گیا اور مجمع عام میں اعلان کر دیا کہ میں نے محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کو پناہ دی ہے۔ اس کے بعد حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اطمینان کے ساتھ حجر اسود کو بوسہ دیا اور کعبہ کا طواف کرکے حرم میں نماز ادا کی اور مطعم بن عدی اور اس کے بیٹوں نے تلواروں کے سائے میں آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو آپ کے دولت خانہ تک پہنچا دیا۔
(زرقانی ج۱ ص۳۰۶)

اس سفر کے مدتوں بعد ایک مرتبہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اﷲ! صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کیا جنگ احد کے دن سے بھی زیادہ سخت کوئی دن آپ پر گزرا ہے ؟ تو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہاں اے عائشہ ! رضی اللہ تعالیٰ عنہا وہ دن میرے لئے جنگ احد کے دن سے بھی زیادہ سخت تھا جب میں نے طائف میں وہاں کے ایک سردار “عبد یالیل” کو اسلام کی دعوت دی۔ اس نے دعوت اسلام کو حقارت کے ساتھ ٹھکرا دیا اور اہل طائف نے مجھ پر پتھراؤ کیا۔ میں اس رنج و غم میں سر جھکائے چلتا رہا یہاں تک کہ مقام “قرن الثعالب” میں پہنچ کر میرے ہوش و حواس بجا ہوئے۔ وہاں پہنچ کر جب میں نے سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بدلی مجھ پر سایہ کئے ہوئے ہے اس بادل میں سے حضرت جبریل علیہ السلام نے مجھے آواز دی اور کہا کہ اﷲ تعالیٰ نے آپ کی قوم کا قول اور ان کا جواب سن لیا اور اب آپ کی خدمت میں پہاڑوں کا فرشتہ حاضر ہے۔ تاکہ وہ آپ کے حکم کی تعمیل کرے۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا بیان ہے کہ پہاڑوں کا فرشتہ مجھے سلام کر کے عرض کرنے لگا کہ اے محمد ! (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) اﷲ تعالیٰ نے آپ کی قوم کا قول اور انہوں نے آپ کو جو جواب دیا ہے وہ سب کچھ سن لیا ہے اور مجھ کو آپ کی خدمت میں بھیجا ہے تا کہ آپ مجھے جو چاہیں حکم دیں اور میں آپ کا حکم بجا لاؤں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں “اخشبین” (ابو قبیس اور قعیقعان) دونوں پہاڑوں کو ان کفار پر اُلٹ دوں تو میں اُلٹ دیتا ہوں۔ یہ سن کر حضور رحمت عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ نہیں بلکہ میں امید کرتا ہوں کہ اﷲ تعالیٰ ان کی نسلوں سے اپنے ایسے بندوں کو پیدا فرمائے گا جو صرف اﷲ تعالیٰ کی ہی عبادت کریں گے اور شرک نہیں کریں گے۔
(بخاری باب ذکر الملائکه ج۱ ص ۴۵۸ و زرقانی ج۱ ص۲۹۷)

حضرت خديجه رضی الله تعالیٰ کا عنها مزار

حضورِ اقدس صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے قلب مبارک پر ابھی ابو طالب کے انتقال کا زخم تازہ ہی تھا کہ ابو طالب کی وفات کے تین دن یا پانچ دن کے بعد حضرت بی بی خدیجہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا بھی دنیا سے رخصت فرما گئیں۔ مکہ میں ابو طالب کے بعد سب سے زیادہ جس ہستی نے رحمت عالم صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی نصرت و حمایت میں اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کیا وہ حضرت بی بی خدیجہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا کی ذات گرامی تھی۔ جس وقت دنیا میں کوئی آپ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا مخلص مشیر اور غمخوار نہیں تھا حضرت بی بی خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہی تھیں کہ ہر پریشانی کے موقع پر پوری جاں نثاری کے ساتھ آپ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی غمخواری اور دلداری کرتی رہتی تھیں اس لئے ابو طالب اور حضرت بی بی خدیجہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا دونوں کی وفات سے آپ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے مددگار اور غمگسار دونوں ہی دنیا سے اٹھ گئے جس سے آپ کے قلب نازک پر اتنا عظیم صدمہ گزرا کہ آپ نے اس سال کا نام “عام الحزن” (غم کا سال) رکھ دیا۔

حضرت بی بی خدیجہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا نے رمضان ۱۰ نبوی میں وفات پائی۔ بوقت وفات پینسٹھ برس کی عمر تھی۔ مقام حجون (قبرستان جنت المعلی) میں مدفون ہوئیں۔ حضور رحمت عالم صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم خود بہ نفس نفیس ان کی قبر میں اترے اور اپنے مقدس ہاتھوں سے ان کی لاش مبارک کو زمین کے سپرد فرمایا۔
(زرقانی ج۱ ص۲۹۶)
ابو طالب کی وفات

جب ابو طالب مرض الموت میں مبتلا ہو گئے تو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا کہ اے چچا ! آپ کلمہ پڑھ لیجیے۔ یہ وہ کلمہ ہے کہ اس کے سبب سے میں خدا کے دربار میں آپ کی مغفرت کے لئے اصرار کروں گا۔ اس وقت ابوجہل اور عبداﷲ بن ابی امیہ ابو طالب کے پاس موجود تھے۔ ان دونوں نے ابو طالب سے کہا کہ اے ابو طالب ! کیا آپ عبدالمطلب کے دین سے روگردانی کریں گے ؟ اور یہ دونوں برابر ابو طالب سے گفتگو کرتے رہے یہاں تک کہ ابو طالب نے کلمہ نہیں پڑھا بلکہ ان کی زندگی کا آخری قول یہ رہا کہ ” میں عبدالمطلب کے دین پر ہوں۔ ” یہ کہا اور ان کی روح پرواز کر گئی۔ حضور رحمت عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اس سے بڑا صدمہ پہنچا اور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں آپ کے لئے اس وقت تک دعائے مغفرت کرتا رہوں گا جب تک اﷲ تعالیٰ مجھے منع نہ فرمائے گا۔اس کے بعد یہ آیت نازل ہو گئی کہ

مَاکَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْآ اَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِکِيْنَ وَلَوْ کَانُوْآ اُولِيْ قُرْبٰي مِنْ مبَعْدِ مَاتَبَيَّنَ لَهمْ اَنَّهمْ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ

یعنی نبی اور مومنین کے لئے یہ جائز ہی نہیں ہے کہ وہ مشرکین کے لئے مغفرت کی دعا مانگیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔ جب انہیں معلوم ہو چکا ہے کہ مشرکین جہنمی ہیں۔
(بخاری ج۱ ص ۵۴۸ باب قصه ابی طالب)
غم کا سال ۱۰ نبوی

حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم “شعب ابی طالب” سے نکل کر اپنے گھر میں تشریف لائے اور چند ہی روز کفار قریش کے ظلم و ستم سے کچھ امان ملی تھی کہ ابو طالب بیمار ہو گئے اور گھاٹی سے باہر آنے کے آٹھ مہینے بعد ان کا انتقال ہو گیا۔

ابو طالب کی وفات حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے لئے ایک بہت ہی جاں گداز اور روح فرسا حادثہ تھا کیونکہ بچپن سے جس طرح پیار و محبت کے ساتھ ابو طالب نے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی پرورش کی تھی اور زندگی کے ہر موڑ پر جس جاں نثاری کے ساتھ آپ کی نصرت و دستگیری کی اور آپ کے دشمنوں کے مقابل سینہ سپر ہو کر جس طرح آلام و مصائب کا مقابلہ کیا اس کو بھلا حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کس طرح بھول سکتے تھے۔
شعب ابی طالب ۷ نبوی

اعلان نبوت کے ساتویں سال ۷ نبوی میں کفار مکہ نے جب دیکھا کہ روز بروز مسلمانوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے اور حضرت حمزہ و حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما جیسے بہادر ان قریش بھی دامن اسلام میں آ گئے تو غیظ و غضب میں یہ لوگ آپے سے باہر ہو گئے اور تمام سرداران قریش اور مکہ کے دوسرے کفار نے یہ اسکیم بنائی کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور آپ کے خاندان کا مکمل بائیکاٹ کر دیا جائے اور ان لوگوں کو کسی تنگ و تاریک جگہ میں محصور کر کے ان کا دانہ پانی بند کر دیا جائے تا کہ یہ لوگ مکمل طور پر تباہ و برباد ہو جائیں۔ چنانچہ اس خوفناک تجویز کے مطابق تمام قبائل قریش نے آپس میں یہ معاہدہ کیا کہ جب تک بنی ہاشم کے خاندان والے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو قتل کے لئے ہمارے حوالہ نہ کر دیں۔

(۱)
کوئی شخص بنو ہاشم کے خاندان سے شادی بیاہ نہ کرے۔
(۲)
کوئی شخص ان لوگوں کے ہاتھ کسی قسم کے سامان کی خریدوفروخت نہ کرے۔
(۳)
کوئی شخص ان لوگوں سے میل جول، سلام و کلام اور ملاقات و بات نہ کرے۔
(۴)
کوئی شخص ان لوگوں کے پاس کھانے پینے کا کوئی سامان نہ جانے دے۔

منصور بن عکرمہ نے اس معاہدہ کو لکھا اور تمام سرداران قریش نے اس پر دستخط کر کے اس دستاویز کو کعبہ کے اندر آویزاں کر دیا۔ ابو طالب مجبوراً حضورِاقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور دوسرے تمام خاندان والوں کو لے کر پہاڑ کی اس گھاٹی میں جس کا نام ” شعب ابی طالب ” تھا پناہ گزین ہوئے۔ ابولہب کے سوا خاندان بنو ہاشم کے کافروں نے بھی خاندانی حمیت و پاسداری کی بنا پر اس معاملہ میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا ساتھ دیا اور سب کے سب پہاڑ کے اس تنگ و تاریک درہ میں محصور ہو کر قیدیوں کی زندگی بسر کرنے لگے۔ اور یہ تین برس کا زمانہ اتنا سخت اور کٹھن گزرا کہ بنو ہاشم درختوں کے پتے اور سوکھے چمڑے پکا پکا کر کھاتے تھے۔اور ان کے بچے بھوک پیاس کی شدت سے تڑپ تڑپ کر دن رات رویا کرتے تھے۔ سنگدل اور ظالم کافروں نے ہر طرف پہرہ بٹھا دیا تھا کہ کہیں سے بھی گھاٹی کے اندر دانہ پانی نہ جانے پائے۔
(زرقانی علی المواهب ج۱ ص ۲۷۸)

مسلسل تین سال تک حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور خاندان بنو ہاشم ان ہوش ربا مصائب کو جھیلتے رہے یہاں تک کہ خود قریش کے کچھ رحم دلوں کو بنو ہاشم کی ان مصیبتوں پر رحم آ گیااور ان لوگوں نے اس ظالمانہ معاہدہ کو توڑنے کی تحریک اٹھائی۔ چنانچہ ہشام بن عمرو عامری، زہیر بن ابی امیہ، مطعم بن عدی، ابو البختری، زمعہ بن الاسود وغیرہ یہ سب مل کر ایک ساتھ حرم کعبہ میں گئے اور زہیر نے جو عبدالمطلب کے نواسے تھے کفار قریش کو مخاطب کرکے اپنی پر جوش تقریر میں یہ کہا کہ اے لوگو ! یہ کہاں کا انصاف ہے ؟ کہ ہم لوگ تو آرام سے زندگی بسر کر رہے ہیں اور خاندان بنو ہاشم کے بچے بھوک پیاس سے بے قرار ہو کر بلبلا رہے ہیں۔ خدا کی قسم ! جب تک اس وحشیانہ معاہدہ کی دستاویز پھاڑ کر پاؤں سے نہ روند دی جائے گی میں ہرگز ہرگز چین سے نہیں بیٹھ سکتا۔ یہ تقریر سن کر ابوجہل نے تڑپ کر کہا کہ خبردار ! ہرگز ہرگز تم اس معاہدہ کو ہاتھ نہیں لگا سکتے۔ زمعہ نے ابوجہل کو للکارا اور اس زور سے ڈانٹا کہ ابوجہل کی بولتی بند ہو گئی۔ اسی طرح مطعم بن عدی اور ہشام بن عمرو نے بھی خم ٹھونک کر ابوجہل کو جھڑک دیا اور ابو البختری نے تو صاف صاف کہہ دیا کہ اے ابوجہل! اس ظالمانہ معاہدہ سے نہ ہم پہلے راضی تھے اور نہ اب ہم اس کے پابند ہیں۔

اسی مجمع میں ایک طرف ابو طالب بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اے لوگو ! میرے بھتیجے محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کہتے ہیں کہ اس معاہدہ کی دستاویز کو کیڑوں نے کھا ڈالا ہے اور صرف جہاں جہاں خدا کا نام لکھا ہوا تھا اس کو کیڑوں نے چھوڑ دیا ہے۔ لہٰذا میری رائے یہ ہے کہ تم لوگ اس دستاویز کو نکال کر دیکھو اگر واقعی اس کو کیڑوں نے کھا لیا ہے جب تو اس کو چاک کرکے پھینک دو۔ اور اگر میرے بھتیجے کا کہنا غلط ثابت ہوا تو میں محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کو تمہارے حوالے کردوں گا۔ یہ سن کر مطعم بن عدی کعبہ کے اندر گیا اور دستاویز کو اتار لایا اور سب لوگوں نے اس کو دیکھا تو واقعی بجز اﷲ تعالیٰ کے نام کے پوری دستاویز کو کیڑوں نے کھا لیا تھا۔ مطعم بن عدی نے سب کے سامنے اس دستاویز کو پھاڑ کر پھینک دیا۔ اور پھر قریش کے چند بہادر باوجودیکہ یہ سب کے سب اس وقت کفر کی حالت میں تھے ہتھیار لے کر گھاٹی میں پہنچے اور خاندان بنو ہاشم کے ایک ایک آدمی کو وہاں سے نکال لائے اور ان کو ان کے مکانوں میں آباد کر دیا۔ یہ واقعہ ۱۰ نبوی کا ہے۔ منصور بن عکرمہ جس نے اس دستاویز کو لکھا تھا اس پر یہ قہر الٰہی ٹوٹ پڑا کہ اس کا ہاتھ شل ہو کر سوکھ گیا۔
(مدارج النبوة ج۲ ص۴۲ وغيره)
حضرت عمر کا اسلام

حضرت حمزہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے اسلام لانے کے بعد تیسرے ہی دن حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ بھی دولت اسلام سے مالا مال ہو گئے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مشرف بہ اسلام ہونے کے واقعات میں بہت سی روایات ہیں۔

ایک روایت یہ ہے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک دن غصہ میں بھرے ہوئے ننگی تلوار لے کر اس ارادہ سے چلے کہ آج میں اسی تلوار سے پیغمبرِ اسلام کا خاتمہ کر دوں گا۔ اتفاق سے راستہ میں حضرت نعیم بن عبدﷲ قریشی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے ملاقات ہوگئی۔ یہ مسلمان ہو چکے تھے مگر حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو ان کے اسلام کی خبر نہیں تھی۔
حضرت نعیم بن عبدﷲ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے پوچھا کہ کیوں؟ اے عمر! اس دوپہر کی گرمی میں ننگی تلوار لے کر کہاں چلے؟ کہنے لگے کہ آج بانیٔ اسلام کا فیصلہ کرنے کے لئے گھر سے نکل پڑا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ پہلے اپنے گھر کی خبر لو۔ تمہاری بہن “فاطمہ بنت الخطاب” اور تمہارے بہنوئی “سعید بن زید” بھی تو مسلمان ہو گئے ہیں۔
یہ سن کر آپ بہن کے گھر پہنچے اور دروازہ کھٹکھٹایا۔ گھر کے اندر چند مسلمان چھپ کر قرآن پڑھ رہے تھے۔ حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کی آواز سن کر سب لوگ ڈر گئے اور قرآن کے اوراق چھوڑ کر ادھر ادھر چھپ گئے۔ بہن نے اٹھ کر دروازہ کھولا تو حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ چلا کر بولے کہ اے اپنی جان کی دشمن! کیا تو بھی مسلمان ہو گئی ہے؟ پھر اپنے بہنوئی حضرت سعید بن زید رضی اﷲ تعالیٰ عنہ پر جھپٹے اور ان کی داڑھی پکڑ کر ان کو زمین پر پٹخ دیا اور سینے پر سوار ہو کر مارنے لگے۔ ان کی بہن حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنے شوہر کو بچانے کے لئے دوڑ پڑیں تو حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے ان کو ایسا طمانچہ مارا کہ ان کے کانوں کے جھومر ٹوٹ کر گر پڑے اور ان کا چہرہ خون سے لہو لہان ہو گیا۔ بہن نے صاف صاف کہہ دیا کہ عمر! سن لو، تم سے جو ہو سکے کر لو مگر اب اسلام دل سے نہیں نکل سکتا۔
حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے بہن کا خون آلودہ چہرہ دیکھا اور ان کا عزم و استقامت سے بھرا ہوا یہ جملہ سنا تو ان پر رقت طاری ہو گئی اور ایک دم دل نرم پڑ گیا۔ تھوڑی دیر تک خاموش کھڑے رہے۔ پھر کہا کہ اچھا تم لوگ جو پڑھ رہے تھے مجھے بھی دکھاؤ۔ بہن نے قرآن کے اوراق کو سامنے رکھ دیا۔ اٹھا کر دیکھا تو اس آیت پر نظر پڑی کہ
سَبَّحَ ِﷲِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ج وَ هوَ الْعَزِيْزُ الْحَکِيمُ
اس آیت کا ایک ایک لفظ صداقت کی تاثیر کا تیر بن کر دل کی گہرائی میں پیوست ہوتا چلا گیا اور جسم کا ایک ایک بال لرزہ براندام ہونے لگا۔

جب اس آیت پر پہنچے کہ
 ٰامِنُوْا بِاﷲِ وَرَسُوْلِه
تو بالکل ہی بے قابو ہو گئے اور بے اختیار پکار اٹھے کہ
 ٰ”اَشْهدُ اَنْ لآَّ اِلٰه اِلَّا اللّٰه وَاَشْهدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ ﷲِ
یہ وہ وقت تھا کہ حضور اکرم صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم حضرت ارقم بن ابو ارقم رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے مکان میں مقیم تھے حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ بہن کے گھر سے نکلے اور سیدھے حضرت ارقم رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے مکان پر پہنچے تو دروازہ بند پایا، کنڈی بجائی، اندر کے لوگوں نے دروازہ کی جھری سے جھانک کر دیکھا تو حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ ننگی تلوار لئے کھڑے تھے۔ لوگ گھبرا گئے اور کسی میں دروازہ کھولنے کی ہمت نہیں ہوئی مگر حضرت حمزہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے بلند آواز سے فرمایا کہ دروازہ کھول دو اور اندر آنے دو اگر نیک نیتی کے ساتھ آیا ہے تو اس کا خیر مقدم کیا جائے گا ورنہ اسی کی تلوار سے اس کی گردن اڑا دی جائے گی۔ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اندر قدم رکھا تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے خود آگے بڑھ کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بازو پکڑا اور فرمایا کہ اے خطاب کے بیٹے ! تو مسلمان ہو جا آخر تو کب تک مجھ سے لڑتا رہے گا؟ حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے بہ آواز بلند کلمہ پڑھا۔ حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مارے خوشی کے نعرہ تکبیر بلند فرمایا اور تمام حاضرین نے اس زور سے ﷲ اکبر کا نعرہ مارا کہ مکہ کی پہاڑیاں گونج اٹھیں۔ پھر حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کہنے لگے کہ یا رسول ﷲ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یہ چھپ چھپ کر خدا کی عبادت کرنے کے کیا معنی؟
اٹھئے ہم کعبہ میں چل کر علی الاعلان خدا کی عبادت کریں گے اور خدا کی قسم! میں کفر کی حالت میں جن جن مجلسوں میں بیٹھ کر اسلام کی مخالفت کرتا رہا ہوں اب ان تمام مجالس میں اپنے اسلام کا اعلان کروں گا۔
پھر حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم صحابہ کی جماعت کو لے کر دو قطاروں میں روانہ ہوئے۔ ایک صف کے آگے آگے حضرت حمزہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ چل رہے تھے اور دوسری صف کے آگے آگے حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ تھے۔ اس شان سے مسجد حرام میں داخل ہوئے اور نماز ادا کی اور حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے حرم کعبہ میں مشرکین کے سامنے اپنے اسلام کا اعلان کیا۔ یہ سنتے ہی ہر طرف سے کفار دوڑ پڑے اور حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو مارنے لگے اور حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ بھی ان لوگوں سے لڑنے لگے۔ ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔
اتنے میں حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کا ماموں ابوجہل آ گیا۔ اس نے پوچھا کہ یہ ہنگامہ کیسا ہے؟
لوگوں نے بتایا کہ حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ مسلمان ہوگئے ہیں اس لئے لوگ برہم ہو کر ان پر حملہ آور ہوئے ہیں۔ یہ سن کر ابوجہل نے حطیم کعبہ میں کھڑے ہو کر اپنی آستین سے اشارہ کر کے اعلان کر دیا کہ میں نے اپنے بھانجے عمر کو پناہ دی۔
ابوجہل کا یہ اعلان سن کر سب لوگ ہٹ گئے۔ حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ اسلام لانے کے بعد میں ہمیشہ کفار کو مارتا اور ان کی مار کھاتا رہا یہاں تک کہ ﷲ تعالیٰ نے اسلام کو غالب فرما دیا۔
(زرقانی علی المواهب ج۱ ص۲۷۲)

حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے مسلمان ہونے کا ایک سبب یہ بھی بتایا گیا ہے کہ خود حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ میں کفر کی حالت میں قریش کے بتوں کے پاس حاضر تھا اتنے میں ایک شخص گائے کا ایک بچھڑا لے کر آیا اور اس کو بتوں کے نام پر ذبح کیا۔
پھر بڑے زور سے چیخ مار کر کسی نے یہ کہا کہ
يَا جَلِيْحُ اَمْرٌ نَّجِيْحٌ رَجُلٌ فَصِيْحٌ يَقُوْلُ لَآ اِلٰه اِلَا اللّٰه
یہ آواز سن کر سب لوگ ہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ لیکن میں نے یہ عزم کر لیا کہ میں اس آواز دینے والے کی تحقیق کئے بغیر ہرگز ہرگز یہاں سے نہیں ٹلوں گا۔ اس کے بعد پھر یہی آواز آئی کہ
يَا جَلِيْحُ اَمْرٌ نَّجِيْحٌ رَجُلٌ فَصِيْحٌ يَقُوْلُ لَآ اِلٰه اِلاَّ اللّٰه
یعنی اے کھلی ہوئی دشمنی کرنے والے! ایک کامیابی کی چیز ہے کہ ایک فصاحت والا آدمی لَا اِلٰه َالِاَّ اللّٰه کہہ رہا ہے۔ حالانکہ بتوں کے آس پاس میرے سوا دوسرا کوئی بھی نہیں تھا۔
اس کے فوراً ہی بعد حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی نبوت کا اعلان فرمایا۔ اس واقعہ سے حضرت عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ بے حد متاثر تھے۔ اس لئے ان کے اسلام لانے کے اسباب میں اس واقعہ کو بھی کچھ نہ کچھ ضرور دخل ہے۔
(بخاری ج۱ ص۵۴۶ و زرقانی ج۱ ص۲۷۶ باب اسلام عمر)