Showing posts with label Sheikh Saadi. Show all posts
Showing posts with label Sheikh Saadi. Show all posts

Wednesday, 10 July 2013

Sheikh Sadi

Posted by Unknown on 01:46 with No comments

شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ


ایک بادشاہ دریا کی سیر کیلئے گیا،اور اپنے غلاموں اور مصاحبوں کے ساتھ کشتی میں بیٹھا۔ ایک غلام ایسا تھا جس نے اس سے پہلے نہ کبھی دریا دیکھا تھا اور نہ کشتی میں سفر کیا تھا،اس کے جسم پر لرزہ طاری ہوگیا اور فرط خوف سے گریہ و زاری کرنے لگااس کی بزدلی دیکھ کر بادشاہ کی نازک طبع مکدر ہوئی، اور سیر کا مزہ کرکرا ہوگیا،
ایک دانا بھی کشتی میں بیٹھا تھا۔ اس نے بادشاہ سے عرض کی کہ اگر آپ حکم دیں تواسے خاموش کروا دوں؟
بادشاہ نے کہا نہایت عنایت اور مہربانی ہوگی
دانا کے اشارے پر دوسرے ملازموں نےا س غلام کو دریا میں پھینک دیا۔ جب چند غوطے کھا چکا ، تو بالوں سے پکڑ کر کشتی میں لے آئے،اب وہ چپکے سے کشتی کے ایک کونے میں دبک گیا، بادشاہ کو دانا کی تدبیر بہت پسند آئی۔ پوچھا کہ اس میں کیا حکمت تھی؟؟
دانا نے کہا کہ" اس غلام نےکبھی ڈوبنے کی تکلیف نہیں اٹھائی تھی، اور کشتی کا آرام نہیں جانتا تھا۔ آرام اور سلامتی کی قدر وہی شخص جان سکتا ہے جو کسی مصیبت میں گرفتار ہو چکا ہو"

Sheikh Sadi

Posted by Unknown on 01:39 with No comments

شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ

شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں رودبار کے جنگل سے گزر رہا تھا کہ ایک آدمی میرے سامنے آتا ہوا دکھائی دیا جو کہ ببر شیر پر بیٹھا تھا
یہ منظر دیکھ کر مجھ پر ہیبت سے کپکپی طارری ہو گئی، اس نے یہ دیکھ کر مجھے تسلی دی اور کہا کہ ڈر مت
میں نے اس سے پوچھا یہ کیا ماجرا ہے
اس نے مسکرا کے جواب دیا " بہت سادہ سی بات ہے، میں اللہ سے ڈر گیا پس اللہ کی مخلوق مجھ سے ڈرتی ہے"

بوستانِ شیخ سعدی

ایک دیہاتی کا گدھا مر گیا تو اس نے نظر بد سے بچنے کیلئے اس کا سر انگوروں کی بیل پر لٹکا دیا
ایک بوڑھا وہاں سے گزرا اور باغ کے مالی کو ہنس کر کہا:۔ اے جان من ! جو بے چارہ اپنے سر کو ڈنڈوں سے نہ بچا سکا ، تیرے باغ کو نظر بد سے کیا بچائے گا؟

جو حکیم خود تکلیف سے مر رہا ہو وہ دوسرے کی تکلیف کیا رفع کرے گا

Tuesday, 9 July 2013

Sheikh Sadi Quote

Posted by Unknown on 01:16 with No comments
شيخ سعدی رح سے کسی نے پوچھا:
"قوميں کيسے مٹتی ہيں؟"
تو شيخ سعدی رح نے جواب ديا:
"جب قوميں اچھے اور برے کی تميز کھو ديتی ہيں تو وہ صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہيں"۔

Monday, 8 July 2013


در جوانی توبہ کردن شیوہ پیغمبری است
وقت پیری گرگ ظالم میشود پرہیزگار

بڑھاپے میں تو بھیڑیا بھی پرہیزگار بن جاتا ہے۔اصل میں تو جوانی کے وقت توبہ اور پرہیزگاری نیکوں کا شیوہ ہے۔

شیخ سعدی شیرازی

Tuesday, 30 April 2013

The Wise Minister...عقلمند وزیر

Posted by Unknown on 08:19 with No comments
عقلمند وزیر
کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ تھا اس کے دربار میں ایک قیدی کو پیش کیا گیا بادشاہ نے مقدمہ سننے کے بعد اشارہ کیا کہ اسے قتل کردیا جائے ۔
بادشاہ کے حکم پر جب پیادے اسے قتل گاہ کی طرف لے کے جانے لگے تو وہ شخص غصے سے بادشاہ کو برا بھلا کہنے لگا کسی شخص کیلئے اس سے بڑی سزا کیا ہوگی کہ اسے قتل کردیا جائے اور چونکہ یہ سزا سنائی جاچکی تھی اور اس کے دل سے اس کا خوف دور ہوچکا تھا

بادشاہ نے جب دیکھا کہ وہ شخص کچھ کہہ رہا ہے تو اس نے اپنے وزیر سے پوچھا یہ کیا کہہ رہا ہے
بادشاہ کا یہ وزیر نیک دل تھا اس نے سوچا کہ اگر بادشاہ کو درست بات بتا دی تو ہوسکتا ہے بادشاہ غصے سے دیوانہ ہوجائے اور اس کو قتل کروانے کے بجائے زندان میں ڈال کر اس پر ظلم وستم ڈھانے لگے تو اس نے بادشاہ کو جواب دیا کہ حضور یہ شخص کہہ رہا ہے " اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو غصے کو ضبط کرتے ہیں اور لوگوں کیساتھ بھلائی کرتے ہیں‌"

بادشاہ یہ سن کر مسکرایا اور اس نے اس شخص کو آزاد کرنے کا حکم دیا

بادشاہ کا ایک اور وزیر جو نیک دل وزیر کے خلاف دل میں حسد رکھتا تھا وہ بولا " یہ ہر گز درست نہیں کہ بادشاہ کے وزیر اسے دھوکے میں رکھیں اور سچ کے سوا کچھ زبان پر لائیں ، اور کہا کہ حضور یہ شخص آپ کی شان میں گستاخی کر رہا ہے "
وزیر کی بات سن کر بادشاہ نے کہا " اے وزیر ! تیرے اس سچ سے جس کی بنیاد بغض اور کینے پر ہے
اس
سچ سے تیرے بھائی کی غلط بیانی بہتر ہے اس سے ایک شخص‌کی جان بچ گئی یاد رکھ اس سچ سے جس سے فساد پھیلتا ہو اس سے ایسا جھوٹ‌ بہتر جس سے برائی دور ہونے کی امید ہو "

وہ سچ جو فساد کا سبب ہو بہتر ہے وہ زبان پر نہ آئے
اچھا ہے وہ کذب ایسے سچ سے جو فساد کی آگ بجھائے

بادشاہ کی بات سن کر فسادی وزیر شرمندہ ہوا ۔ بادشاہ نے قیدی آزاد کرنے کا فیصلہ بحال رکھا اور اپنے وزیروں کو نصیحت کی کہ بادشاہ ہمیشہ اپنے وزیروں کے مشوروں پہ عمل کرتے ہیں وزیروں کا فرض ہے ایسی باتیں منھ سے نہ نکالیں جس میں بھلائی کی امید نہ ہو
اس نے مزید کہا " یہ دنیاوی زندگی بحرحال ختم ہوجائے گی کوئی بادشاہ ہو یا فقیر اس کا انجام موت ہے اس سے کوئی فرق نہیں‌ پڑتا کہ روح تخت پر قبض کی جائے یا فرش پر حکایات شیخ سعدی