Wednesday, 14 August 2013

ہجرت کا تیسرا سال

لنگڑاتے ہوئے بہشت میں

حضرت عمرو بن جموح انصاری رضی ﷲ تعالیٰ عنہ لنگڑے تھے، یہ گھر سے نکلتے وقت یہ دعا مانگ کر چلے تھے کہ یاﷲ! عزوجل مجھ کو میدان جنگ سے اہل و عیال میں آنا نصیب مت کر، ان کے چار فرزند بھی جہاد میں مصروف تھے۔ لوگوں نے ان کو لنگڑا ہونے کی بنا پر جنگ کرنے سے روک دیا تو یہ حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ میں گڑ گڑا کر عرض کرنے لگے کہ یارسول ﷲ! عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مجھ کو جنگ میں لڑنے کی اجازت عطا فرمائیے، میری تمنا ہے کہ میں بھی لنگڑاتا ہوا باغِ بہشت میں خراماں خراماں چلا جاؤں۔ ان کی بے قراری اور گریہ و زاری سے رحمت عالم صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا قلب مبارک متأثر ہو گیا اور آپ نے ان کو جنگ کی اجازت دے دی۔ یہ خوشی سے اچھل پڑے اور اپنے ایک فرزند کو ساتھ لے کر کافروں کے ہجوم میں گھس گئے۔
حضرت ابو طلحہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت عمرو بن جموح رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو دیکھا کہ وہ میدان جنگ میں یہ کہتے ہوئے چل رہے تھے کہ ”خدا کی قسم! میں جنت کا مشتاق ہوں۔” ان کے ساتھ ساتھ ان کو سہارا دیتے ہوئے ان کا لڑکا بھی انتہائی شجاعت کے ساتھ لڑ رہا تھا یہاں تک کہ یہ دونوں شہادت سے سرفراز ہوکر باغ بہشت میں پہنچ گئے۔ لڑائی ختم ہو جانے کے بعد ان کی بیوی ہند زوجہ عمرو بن جموح میدان جنگ میں پہنچی اور اس نے ایک اونٹ پر ان کی اور اپنے بھائی اور بیٹے کی لاش کو لاد کر دفن کے لئے مدینہ لانا چاہا تو ہزاروں کوششوں کے باوجود کسی طرح بھی وہ اونٹ ایک قدم بھی مدینہ کی طرف نہیں چلا بلکہ وہ میدان جنگ ہی کی طرف بھاگ بھاگ کر جاتا رہا۔ ہند نے جب حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے یہ ماجرا عرض کیا تو آپ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ بتا کیا عمرو بن جموح رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے گھر سے نکلتے وقت کچھ کہا تھا؟
ہند نے کہا کہ جی ہاں! وہ یہ دعا کر کے گھر سے نکلے تھے کہ ’’یا ﷲ! عزوجل مجھ کو میدان جنگ سے اہل و عیال میں آنا نصیب مت کر۔“
آپ نے ارشاد فرمایا کہ یہی وجہ ہے کہ اونٹ مدینہ کی طرف نہیں چل رہا ہے۔
(مدارج جلد۲ ص۱۲۴)

0 comments:

Post a Comment