ہجرت کا تیسرا سال
کھجور کھاتے کھاتے جنت میں
اس گھمسان کی لڑائی اور مار دھاڑ کے ہنگاموں میں ایک بہادر مسلمان کھڑا ہوا، نہایت بے پروائی کے ساتھ کھجوریں کھا رہا تھا۔ ایک دم آگے بڑھا اور عرض کیا کہ یا رسول ﷲ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم اگر میں اس وقت شہید ہو جاؤں تو میرا ٹھکانہ کہاں ہو گا؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ تو جنت میں جائے گا۔ وہ بہادر اس فرمان بشارت کو سن کر مست و بیخود ہو گیا۔ ایک دم کفار کے ہجوم میں کود پڑا اور ایسی شجاعت کے ساتھ لڑنے لگا کہ کافروں کے دل دہل گئے۔ اسی طرح جنگ کرتے کرتے شہید ہو گیا۔
(بخاری غزوه اُحد ج۲ ص۵۷۹)
اس گھمسان کی لڑائی اور مار دھاڑ کے ہنگاموں میں ایک بہادر مسلمان کھڑا ہوا، نہایت بے پروائی کے ساتھ کھجوریں کھا رہا تھا۔ ایک دم آگے بڑھا اور عرض کیا کہ یا رسول ﷲ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم اگر میں اس وقت شہید ہو جاؤں تو میرا ٹھکانہ کہاں ہو گا؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ تو جنت میں جائے گا۔ وہ بہادر اس فرمان بشارت کو سن کر مست و بیخود ہو گیا۔ ایک دم کفار کے ہجوم میں کود پڑا اور ایسی شجاعت کے ساتھ لڑنے لگا کہ کافروں کے دل دہل گئے۔ اسی طرح جنگ کرتے کرتے شہید ہو گیا۔
(بخاری غزوه اُحد ج۲ ص۵۷۹)
0 comments:
Post a Comment