Showing posts with label Daagh Dehlvi. Show all posts
Showing posts with label Daagh Dehlvi. Show all posts

Tuesday, 26 March 2013

Ranj Bhi Aise Uthae Hain Ke Jee Jnata Hai

Posted by Unknown on 02:01 with No comments

لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے
رنج بھی ایسے اٹھائے ہیں کہ جی جانتا ہے

تم نہیں جانتے اب تک یہ تمہارے انداز
وہ میرے دل میں سمائے ہیں کہ جی جانتا ہے

انہی قدموں نے تمھارے انہی قدموں کی قسم
خاک میں اتنی ملائے ہیں کہ جی جانتا ہے

جو زمانے کے ستم ہیں ، وہ زمانہ جانے
تو نے دل اتنے ستائے ہیں کہ جی جانتا ہے

مسکراتے ھوئے وہ مجمعء اغیار کے ساتھ
آج یوں بزم میں آئے ہیں کہ جی جانتا ہے

سادگی، بانکپن، اغماض، شرارت، شوخی
تو نے انداز وہ پائے ہیں کہ جی جانتا ہے

کعبہ و دیر میں پتھرا گئیں دونوں آنکھیں
ایسے جلوے نظر آئے ہیں کہ جی جانتا ہے

دوستی میں تری درپردہ ہمارے دشمن
اس قدر اپنے پرائے ہیں کہ جی جانتا ہے

داغِ وارفتہ کو ہم آج تیرے کوچے سے
اس طرح کھینچ کے لائے ہیں کہ جی جانتا ہے

Phire Raah Se Woh Yahan Aate Aate

Posted by Unknown on 01:58 with No comments

پھرے راہ سے وہ یہاں آتے آتے
اجل مر رہی تو کہاں آتے آتے؟

نہ جانا کہ دنیا سے جاتا ہے کوئی
بہت دیر کی مہرباں آتے آتے

سنا ہے کہ آتا ہے سر نامہ بر کا
کہاں رہ گیا ارمغاں آتے آتے

یقیں ہے کہ ہو جائے آخر کو سچی
مرے منہ میں تیری زباں آتے آتے

سنانے کے قابل جو تھی بات ان کو
وہی رہ گئی درمیاں آتے آتے

مجھے یاد کرنے سے یہ مدّعا تھا
نکل جائے دم ہچکیاں آتے آتے

ابھی سن ہی کیا ہے، جو بے باکیاں ہوں
اُنہیں آئیں‌ گی شوخیاں آتے آتے

کلیجا مرے منہ کو آئے گا اِک دن
یونہی لب پر آہ و فغاں آتے آتے

چلے آتے ہیں دل میں ارمان لاکھوں
مکاں بھر گیا مہماں آتے آتے

نتیجہ نہ نکلا، تھکے سب پیامی
وہاں جاتے جاتے یہاں آتے آتے

تمہارا ہی مشتاقِ دیدار ہو گا
گیا جان سے اک جواں آتے آتے

تری آنکھ پھرتے ہی کیسا پھرا ہے
مری راہ پر آسماں آتے آتے

پڑا ہے بڑا پیچ پھر دل لگی میں
طبیعت رکی ہے جہاں آتے آتے

مرے آشیاں کے تو تھے چار تنکے
چمن اُڑ گیا آندھیاں آتے آتے

کسی نے کچھ ان کو ابھارا تو ہوتا
نہ آتے، نہ آتے، یہاں آتے آتے

قیامت بھی آتی تھی ہمراہ اس کے
مگر رہ گئی ہم عناں آتے آتے

بنا ہے ہمیشہ یہ دل باغ و صحرا
بہار آتے آتے، خزاں آتے آتے

نہیں کھیل اے داغ ، یاروں سے کہہ دو
کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے

Wednesday, 13 March 2013


جب کہا اور بھی دنیا میں حسیں اچھے ہیں
کیا ہی جھنجلا کے وہ بولے کہ ہمیں اچھے ہیں

نہ اُٹھا خواب عدم سے ہمیں ہنگامہء حشر
کہ پڑے چین سے ہم زیرِ زمیں اچھے ہیں

کس بھروسے پہ کریں تجھ سے وفا کی اُمید
کون سے ڈھنگ ترے جان حزیں اچھے ہیں

خاک میں آہ ملا کر ہمیں، کیا پوچھتے ہو
خیر جس طور میں ہم خاک نشیں اچھے ہیں

ہم کو کوچے سے تمہارے نہ اُٹھائے اللہ
صدقے بس خلد کے کچھ ہم تو یہیں اچھے ہیں

نہ ملا خاک میں، تو ورنہ پشیماں ہوگا
ظلم سہنے کو ہم اے چرخ بریں اچھے ہیں

دل میں کیا خاک جگہ دوں ترے ارمانوں کو
کہ مکاں ہے یہ خراب اور مکیں اچھے ہیں

مجھ کو کہتے ہیں رقیبوں کی بُرائی سن کر
وہ نہیں تم سے بُرے بلکہ کہیں اچھے ہیں

بُت وہ کافر ہیں کہ اے داغ خدا اُن سے بچائے
کون کہتا ہے یہ غارتگر دیں اچھے ہیں

داغ دہلوی

Wednesday, 23 January 2013

Zara Wasl Per Ho Ishara Tumhara...

Posted by Unknown on 02:50 with No comments

                                                            ذرا وصل پر ہو اشارا تمہارا 

                        ذرا وصل پر ہو اشارا تمہارا 

                       ابھی فیصلہ ہے ہمارا تمہارا


دین و دنیا میں کافی ہے مجھ کو
خدا کا بھروسا، سہارا تمہارا

اُن آنکھوں کی آنکھوں سے لوں میں بلائیں
میسر ہے جن کو نظارا تمہارا

محبت کے دعوے ملے خاک میں سب
وہ کہتے ہیں کیا ہے اجاا تمہارا

رُکاوٹ نہ ہوتی تو دل ایک ہوتا
تمہارا ہمارا، ہمارا تمہارا

برائی جو کی تم نے غیروں کی ہم سے
ہوا حال سب آشکارا تمہارا

نکل کر مرے گھر سے یہ جان لو تم
نہ ہوگا کسی گھر گذارا تمہارا

سُنا ہے کسی اور کو چاہتاہے
وہ دُشمن ہمارا، وہ پیارا تمہارا

کریں گے سفارش ہم اے داغ اُن سے
اگر ذکر آیا دوبارا تمہارا ...

داغ دہلوی

Aap Ka Ehtebar Kon Kare?

Posted by Unknown on 02:45 with No comments

                                                               آپ کا اعتبار کون کرے

آپ کا اعتبار کون کرے
روز کا انتظار کون کرے

ذکر مہر و وفا تو ہم کرتے
پر تمہیں شرمسار کون کرے

جو ہو اوس چشم مست سے بیخود
پھر اوسے ہوشیار کون کرے

تم تو ہو جان اِک زمانے کی
جان تم پر نثار کون کرے

آفتِ روزگار جب تم ہو
شکوہء روزگار کون کرے

اپنی تسبیح رہنے دے زاہد
دانہ دانہ شمار کون کرے

ہجر میں زہر کھا کے مر جاؤں
موت کا انتظار کون کرے

آنکھ ہے ترک زلف ہی صیّاد
دیکھیں دل کا شکار کون کرے

غیر نے تم سے بیوفائی کی
یہ چلن اختیار کون کرے

وعدہ کرتے نہیں یہ کہتے ہیں
تجھ کو امیدوار کون کرے

داغ کی شکل دیکھ کر بولے
ایسی صورت کو پیار کون کرے

داغ دہلوی

                                   یوں چلئے راہِ شوق میں جیسے ہوا چلے

یوں چلئے راہِ شوق میں جیسے ہوا چلے
ہم بیٹھ بیٹھ کر جو چلےبھی تو کیا چلے

بیٹھے اُداس اُٹھے پریشان خفا چلے
پوچھے تو کوئی آپ سے کیا آئے کیا چلے

آئیں گی ٹوٹ ٹوٹ کر قاصد پر آفتیں
غافل اِدھر اُدھر بھی ذرا دیکھتا چلے

ہم ساتھ ہو لئے تو کہا اُس نے غیر سے
آتا ہے کون اس سے کہو یہ جُدا چلے

بالیں سے میرے آج وہ یہ کہہ کے اُٹھے گی
اس پر دوا چلے نہ کسی کی دعا چلے

موسیٰ کی طرح راہ میں پوچھی نہ راہ راست
خاموش خضر ساتھ ہمارے چلا چلے

افسانہء رقیب بھی لو بے اثر ہوا
بگڑی جو سچ کہے سے وہاں جھوٹ کیا چلے

رکھا دل و دماغ کو تو روک تھام کر
اس عمر بیوفا پہ مرا زور کیا چلے

بیٹھا ہے اعتکاف میں‌کیا داغ روزہ دار
اے کاش میکدہ کو یہ مردِ خدا چلے !!!

داغ دہلوی

Zara Wasl Per Ho Eshara Tumhara...

Posted by Unknown on 02:24 with No comments

                                                        ذرا وصل پر ہو اشارا تمہارا

ذرا وصل پر ہو اشارا تمہارا
ابھی فیصلہ ہے ہمارا تمہارا

دین و دنیا میں کافی ہے مجھ کو
خدا کا بھروسا، سہارا تمہارا

اُن آنکھوں کی آنکھوں سے لوں میں بلائیں
میسر ہے جن کو نظارا تمہارا

محبت کے دعوے ملے خاک میں سب
وہ کہتے ہیں کیا ہے اجاڑا تمہارا

رُکاوٹ نہ ہوتی تو دل ایک ہوتا
تمہارا ہمارا، ہمارا تمہارا

برائی جو کی تم نے غیروں کی ہم سے
ہوا حال سب آشکارا تمہارا

نکل کر مرے گھر سے یہ جان لو تم
نہ ہوگا کسی گھر گذارا تمہارا

سُنا ہے کسی اور کو چاہتا ہے
وہ دُشمن ہمارا، وہ پیارا تمہارا

کریں گے سفارش ہم اے داغ اُن سے
اگر ذکر آیا دوبارا تمہارا ...

داغ دہلوی