Showing posts with label Islamic Months. Show all posts
Showing posts with label Islamic Months. Show all posts
Wednesday, 17 July 2013
Ramzan Mubarak Kay Pehlay,Dosray Aur Teesray Ashray Ki Duain
Posted by Unknown on 03:21 with No comments
Saturday, 13 July 2013
The reward For Worship Of A Night Of Ramadaan.
Posted by Unknown on 21:34 with No comments
رمضان کی ایک رات میں عبادت کا ثواب
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسسلم نے فرمایا کہ رمضان کی رات میں ایک مؤمن بندہ نماز پڑھتا ہے جس نماز کے ہر سجدہ پر اُس کے لیے ڈیڑھ ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اُس کے لیے جنت میں سرخ یاقوت کا ایک اتنا بڑا گھر بنایا جاتا ہے جس کے ساٹھ ہزار دروازے ہوتے ہیں اور ہر دروازے پر سونے کا ایک محل ہوتا ہے۔ (یعنی گویا ساٹھ ہزار محل بنائے جاتے ہیں) اور پورے ماہِ رمضان میں کسی بھی وقت خواہ رات ہو خواہ دن اگر سجدہ کرے تو اس کو ایک اتنا بڑا درخت ملتا ہے جس کے سائے میں سوار پانچ سو سال تک دوڑتا رہے۔
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسسلم نے فرمایا کہ رمضان کی رات میں ایک مؤمن بندہ نماز پڑھتا ہے جس نماز کے ہر سجدہ پر اُس کے لیے ڈیڑھ ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اُس کے لیے جنت میں سرخ یاقوت کا ایک اتنا بڑا گھر بنایا جاتا ہے جس کے ساٹھ ہزار دروازے ہوتے ہیں اور ہر دروازے پر سونے کا ایک محل ہوتا ہے۔ (یعنی گویا ساٹھ ہزار محل بنائے جاتے ہیں) اور پورے ماہِ رمضان میں کسی بھی وقت خواہ رات ہو خواہ دن اگر سجدہ کرے تو اس کو ایک اتنا بڑا درخت ملتا ہے جس کے سائے میں سوار پانچ سو سال تک دوڑتا رہے۔
(الترغیب والترہیب جلد۲ صفحہ۹۳)
Thursday, 11 July 2013
Method Of Namaz e Eid...ترکیب نمازِ عید
Posted by Unknown on 08:07 with No comments
ترکیب نمازِ عید
اول زبان یا دل سے نیت کرو کہ دو رکعت نمازِ عید واجب مع چھ زائد تکبیروں کے پیچھے اس امام کے۔ پھر اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ باندھ لو اور سُبْحَانَکَ اللّٰہم پڑھو۔
پھر دوسری اور تیسری تکبیر میں ہاتھ کانوں تک اٹھاکر چھوڑ دو اور چوتھی میں باندھ لو اور جس طرح ہمیشہ نماز پڑھتے ہوپڑھو۔
دوسری رکعت میں سورت کے بعد جب امام تکبیر کہے تم بھی تکبیر کہہ کر پہلی، دوسری اور تیسری دفعہ میں ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑ دو اور چوتھی تکبیر کہہ کر بلا ہاتھ اُٹھائے رکوع میں چلے جاؤ۔ باقی نماز حسب دستور تمام کرو۔ خطبہ سُن کر واپس جاؤ۔
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ
شبِ قدر
از: حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب
اول زبان یا دل سے نیت کرو کہ دو رکعت نمازِ عید واجب مع چھ زائد تکبیروں کے پیچھے اس امام کے۔ پھر اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ باندھ لو اور سُبْحَانَکَ اللّٰہم پڑھو۔
پھر دوسری اور تیسری تکبیر میں ہاتھ کانوں تک اٹھاکر چھوڑ دو اور چوتھی میں باندھ لو اور جس طرح ہمیشہ نماز پڑھتے ہوپڑھو۔
دوسری رکعت میں سورت کے بعد جب امام تکبیر کہے تم بھی تکبیر کہہ کر پہلی، دوسری اور تیسری دفعہ میں ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑ دو اور چوتھی تکبیر کہہ کر بلا ہاتھ اُٹھائے رکوع میں چلے جاؤ۔ باقی نماز حسب دستور تمام کرو۔ خطبہ سُن کر واپس جاؤ۔
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ
Monday, 8 July 2013
Shab-e-Qadar...شبِ قدر
Posted by Unknown on 22:56 with No comments
شبِ قدر
از: حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب
چونکہ اس امت کی عمریں بہ نسبت پہلی امتوں کے چھوٹی ہیں؛ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ایک رات ایسی مقرر فرمادی ہے کہ جس میں عبادت کرنے کا ثواب ایک ہزار مہینہ کی عبادت سے بھی زیادہ ہے؛ لیکن اس کو پوشیدہ رکھا؛ تاکہ لوگ اس کی تلاش میں کوشش کریں اور ثواب بے حساب پائیں۔ رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں شبِ قدر ہونے کا زیادہ احتمال ہے یعنی ۲۱ ویں، ۲۳ ویں، ۲۵ویں، ۲۷ویں، ۲۹ویں شب۔ اور ۲۷ویں شب میں سب سے زیادہ احتمال ہے۔ ان راتوں میں بہت محنت سے عبادت اور توبہ واستغفار اور دعا میں مشغول رہنا چاہیے۔ اگر تمام رات جاگنے کی طاقت یا فرصت نہ ہوتو جس قدر ہوسکے جاگے اور نفل نماز یا تلاوتِ قرآن یا ذکر وتسبیح میں مشغول رہے اور کچھ نہ ہوسکے تو عشاء اور صبح کی نماز جماعت سے ادا کرنے کا اہتمام کرے، حدیث میں آیا ہے کہ یہ بھی رات بھر جاگنے کے حکم میں ہوجاتا ہے، ان راتوں کو صرف جلسوں تقریروں میں صرف کرکے سوجانا بڑی محرومی ہے، تقریریں ہر رات ہوسکتی ہیں، عبادت کا یہ وقت پھر ہاتھ نہ آئے گا۔
البتہ جولوگ رات بھر عبادت میں جاگنے کی ہمت کریں، وہ شروع میں کچھ وعظ سن لیں، پھر نوافل اور دعا میں لگ جائیں تو دُرست ہے۔
البتہ جولوگ رات بھر عبادت میں جاگنے کی ہمت کریں، وہ شروع میں کچھ وعظ سن لیں، پھر نوافل اور دعا میں لگ جائیں تو دُرست ہے۔
Reclusion...اِعتکاف
Posted by Unknown on 22:46 with No comments
اِعتکاف
از:حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب
(۱)
اعتکاف اس کو کہتے ہیں کہ اعتکاف کی نیت کرکے مسجد میں رہے اور سوائے ایسی حاجات ضروریہ کے جو مسجد میں پوری نہ ہوسکیں (جیسے پیشاب، پاخانہ کی ضرورت یا غسل واجب اور وضو کی ضرورت) مسجد سے باہر نہ جائے۔
(۲)
رمضان کے عشرئہ اخیر میں اعتکاف کرنا سنت موٴکدہ علی الکفایہ ہے۔ یعنی اگر بڑے شہروں کے محلہ میں اور چھوٹے دیہات کی پوری بستی میں کوئی بھی اعتکاف نہ کرے تو سب کے اوپر ترکِ سنت کا وبال رہتا ہے اور کوئی ایک بھی محلہ میں اعتکاف کرے تو سب کی طرف سے سنت ادا ہوجاتی ہے۔
(۳)
بالکل خاموش رہنا اعتکاف میں ضروری نہیں؛ بلکہ مکروہ ہے؛ البتہ نیک کلام کرنا اور لڑائی جھگڑے اور فضول باتوں سے بچنا چاہیے۔
(۴)
اعتکاف میں کوئی خاص عبادت شرط نہیں، نماز، تلاوت یا دین کی کتابوں کا پڑھنا پڑھانا یا جو عبادت دل چاہے کرتا رہے۔
(۵)
جس مسجد میں اعتکاف کیاگیا ہے، اگر اس میں جمعہ نہیں ہوتا، تو نماز جمعہ کے لیے اندازہ کرکے ایسے وقت مسجد سے نکلے جس میں وہاں پہنچ کر سنتیں ادا کرنے کے بعد خطبہ سن سکے۔ اگر کچھ زیادہ دیر جامع مسجد میں لگ جائے، جب بھی اعتکاف میں خلل نہیں آتا۔
(۶)
اگر بلا ضرورت طبعی شرعی تھوڑی دیر کو بھی مسجد سے باہر چلا جائے گا تو اعتکاف جاتا رہے گا، خواہ عمداً نکلے یا بھول کر۔ اس صورت میں اعتکاف کی قضا کرنا چاہیے۔
(۷)
اگر آخر عشرہ کا اعتکاف کرنا ہوتو ۲۰/تاریخ کو غروبِ آفتاب سے پہلے مسجد میں چلا جائے اور جب عید کا چاند نظر آجائے تب اعتکاف سے باہر ہو۔
(۸)
غسلِ جمعہ یا محض ٹھنڈک کے لیے غسل کے واسطے مسجد سے باہر نکلنا مُعتکف کو جائز نہیں۔
اعتکاف اس کو کہتے ہیں کہ اعتکاف کی نیت کرکے مسجد میں رہے اور سوائے ایسی حاجات ضروریہ کے جو مسجد میں پوری نہ ہوسکیں (جیسے پیشاب، پاخانہ کی ضرورت یا غسل واجب اور وضو کی ضرورت) مسجد سے باہر نہ جائے۔
(۲)
رمضان کے عشرئہ اخیر میں اعتکاف کرنا سنت موٴکدہ علی الکفایہ ہے۔ یعنی اگر بڑے شہروں کے محلہ میں اور چھوٹے دیہات کی پوری بستی میں کوئی بھی اعتکاف نہ کرے تو سب کے اوپر ترکِ سنت کا وبال رہتا ہے اور کوئی ایک بھی محلہ میں اعتکاف کرے تو سب کی طرف سے سنت ادا ہوجاتی ہے۔
(۳)
بالکل خاموش رہنا اعتکاف میں ضروری نہیں؛ بلکہ مکروہ ہے؛ البتہ نیک کلام کرنا اور لڑائی جھگڑے اور فضول باتوں سے بچنا چاہیے۔
(۴)
اعتکاف میں کوئی خاص عبادت شرط نہیں، نماز، تلاوت یا دین کی کتابوں کا پڑھنا پڑھانا یا جو عبادت دل چاہے کرتا رہے۔
(۵)
جس مسجد میں اعتکاف کیاگیا ہے، اگر اس میں جمعہ نہیں ہوتا، تو نماز جمعہ کے لیے اندازہ کرکے ایسے وقت مسجد سے نکلے جس میں وہاں پہنچ کر سنتیں ادا کرنے کے بعد خطبہ سن سکے۔ اگر کچھ زیادہ دیر جامع مسجد میں لگ جائے، جب بھی اعتکاف میں خلل نہیں آتا۔
(۶)
اگر بلا ضرورت طبعی شرعی تھوڑی دیر کو بھی مسجد سے باہر چلا جائے گا تو اعتکاف جاتا رہے گا، خواہ عمداً نکلے یا بھول کر۔ اس صورت میں اعتکاف کی قضا کرنا چاہیے۔
(۷)
اگر آخر عشرہ کا اعتکاف کرنا ہوتو ۲۰/تاریخ کو غروبِ آفتاب سے پہلے مسجد میں چلا جائے اور جب عید کا چاند نظر آجائے تب اعتکاف سے باہر ہو۔
(۸)
غسلِ جمعہ یا محض ٹھنڈک کے لیے غسل کے واسطے مسجد سے باہر نکلنا مُعتکف کو جائز نہیں۔
Tarawieh...تراویح
Posted by Unknown on 22:33 with No comments
تراویح
از: حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب
(۱)
رمضان المبارک میں عشاء کے فرض اور سنت کے بعد بیس رکعت سنت موٴکدہ ہے۔
(۲)
راویح کی جماعت سنت علی الکفایہ ہے۔ محلہ کی مسجد میں جماعت ہوتی ہواور کوئی شخص علیحدہ اپنے گھر میں اپنی تراویح پڑھ لے تو سنت ادا ہوگئی، اگرچہ مسجد اور جماعت کے ثواب سے محروم رہا اور اگر محلہ ہی میں جماعت نہ ہوئی تو سب کے سب ترک سنت کے گنہگار ہوں گے۔
(۳)
تراویح میں پورا قرآن مجید ختم کرنا بھی سنت ہے۔ کسی جگہ حافظِ قرآن سنانے والانہ ملے یا ملے؛ مگر سنانے پر اجرت ومعاوضہ طلب کرے تو چھوٹی سورتوں سے نماز تراویح ادا کریں، اُجرت دے کر قرآن نہ سنیں؛ کیوں کہ قرآن سنانے پر اجرت لینا اور دینا حرام ہے۔
(۴)
اگر ایک حافظ ایک مسجد میں بیس رکعت پڑھ چکا ہے، اس کو دوسری مسجد میں اسی رات تراویح پڑھنا درست نہیں۔
(۵)
جس شخص کی دوچار رکعت تراویح کی رہ گئی ہو تو جب امام وتر کی جماعت کرائے اس کو بھی جماعت میں شامل ہوجانا چاہیے، اپنی باقی ماندہ تراویح بعد میں پوری کرے۔
(۶)
قرآن کو اس قدر جلد پڑھنا کہ حروف کٹ جائیں بڑا گناہ ہے، اس صورت میں نہ امام کو ثواب ہوگا، نہ مقتدی کو۔ جمہور علماء کا فتویٰ یہ ہے کہ نابالغ کو تراویح میں امام بنانا جائز نہیں۔
Sehri And Iftaar...سحری و افطاری
Posted by Unknown on 22:28 with No comments
سحری و افطاری
از: حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب
سحری
روزہ دار کو آخر رات میں صبحِ صادق سے پہلے پہلے سحری کھانا مسنون اور باعثِ برکت وثواب ہے۔ نصف شب کے بعد جس وقت بھی کھائیں سحری کی سنت ادا ہوجائے گی؛ لیکن بالکل آخر شب میں کھانا افضل ہے۔
اگر موٴذّن نے صبح سے پہلے اذان دے دی تو سحری کھانے کی ممانعت نہیں؛ جب تک صبح صادق نہ ہوجائے۔ سحری سے فارغ ہوکر روزہ کی نیت دل میں کرلینا کافی ہے اور زبان سے بھی یہ الفاظ کہہ لے تو اچھا ہے۔
بِصَوْمِ غَدٍ نَّوَیْتُ مِنْ شَہْرِ رَمَضَانَ
اِفطاری
آفتاب کے غروب ہونے کا یقین ہوجانے کے بعد افطار میں دیر کرنا مکروہ ہے، ہاں جب اَبر وغیرہ کی وجہ سے اشتباہ ہوتو دو چار منٹ انتظار کرلینا بہتر ہے اور تین منٹ کی احتیاط بہرحال کرنا چاہیے۔
کھجور اور خرما سے افطار کرنا افضل ہے اور کسی دوسری چیز سے افطار کریں تو اس میں بھی کوئی کراہت نہیں، افطار کے وقت یہ دُعا مسنون ہے
روزہ دار کو آخر رات میں صبحِ صادق سے پہلے پہلے سحری کھانا مسنون اور باعثِ برکت وثواب ہے۔ نصف شب کے بعد جس وقت بھی کھائیں سحری کی سنت ادا ہوجائے گی؛ لیکن بالکل آخر شب میں کھانا افضل ہے۔
اگر موٴذّن نے صبح سے پہلے اذان دے دی تو سحری کھانے کی ممانعت نہیں؛ جب تک صبح صادق نہ ہوجائے۔ سحری سے فارغ ہوکر روزہ کی نیت دل میں کرلینا کافی ہے اور زبان سے بھی یہ الفاظ کہہ لے تو اچھا ہے۔
بِصَوْمِ غَدٍ نَّوَیْتُ مِنْ شَہْرِ رَمَضَانَ
اِفطاری
آفتاب کے غروب ہونے کا یقین ہوجانے کے بعد افطار میں دیر کرنا مکروہ ہے، ہاں جب اَبر وغیرہ کی وجہ سے اشتباہ ہوتو دو چار منٹ انتظار کرلینا بہتر ہے اور تین منٹ کی احتیاط بہرحال کرنا چاہیے۔
کھجور اور خرما سے افطار کرنا افضل ہے اور کسی دوسری چیز سے افطار کریں تو اس میں بھی کوئی کراہت نہیں، افطار کے وقت یہ دُعا مسنون ہے
اَللّٰہُمَّ لَکَ صُمْتُ وَعَلٰی رِزْقِکَ اَفْطَرْتُ
اور افطار کے بعد یہ دعا پڑھے۔
ذَہَبَ الظَّمَاءُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوْقُ وَثَبَتَ الْاَجْرُ اِنْ شَآءَ اللّٰہُ
ذَہَبَ الظَّمَاءُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوْقُ وَثَبَتَ الْاَجْرُ اِنْ شَآءَ اللّٰہُ
Missed Fasts...روزہ کی قضا
Posted by Unknown on 22:23 with No comments
روزہ کی قضا
از: حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب
(۱)
کسی عذر سے روزہ قضا ہوگیا تو جب عُذر جاتا رہے جلد ادا کرلینا چاہیے۔ زندگی اور طاقت کا بھروسہ نہیں، قضا روزوں میں اختیار ہے کہ متواتر رکھے یا ایک ایک دودو کرکے رکھے۔
(۲)
اگر مسافر سفر سے لوٹنے کے بعد یا مریض تندرست ہونے کے بعد اتنا وقت نہ پائے کہ جس میں قضا شدہ روزے ادا کرے تو قضا اس کے ذمہ لازم نہیں۔ سفر سے لوٹنے اور بیماری سے تندرست ہونے کے بعد جتنے دن ملیں، اتنے ہی کی قضا لازم ہوگی۔
Allowed Not To Fast During Ramadan...رمضان میں روزہ نہ رکھنے کی اجازت
Posted by Unknown on 22:17 with No comments
رمضان میں روزہ نہ رکھنے کی اجازت
از: حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب
وہ عذر جن سے رمضان میں روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہوتی ہے:۔
(۱)
بیماری کی وجہ سے روزہ کی طاقت نہ ہو، یا مرض بڑھنے کا شدید خطرہ ہوتو روزہ نہ رکھنا جائز ہے، بعد رمضان اس کی قضا لازم ہے۔
(۲)
جو عورت حمل سے ہو اور روزہ میں بچہ کو یا اپنی جان کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتو روزہ نہ رکھے، بعد میں قضا کرے۔
(۳)
جو عورت اپنے یا کسی غیر کے بچہ کو دودھ پلاتی ہے، اگر روزہ سے بچہ کو دودھ نہیں ملتا، تکلیف پہنچتی ہے تو روزہ نہ رکھے پھر قضا کرے۔
(۴)
مسافر شرعی (جو کم از کم اڑتالیس میل کے سفر کی نیت پر گھر سے نکلا ہو) اس کے لیے اجازت ہے کہ روزہ نہ رکھے، پھر اگر کچھ تکلیف ودقت نہ ہوتو افضل یہ ہے کہ سفر ہی میں روزہ رکھ لے اگر خود اپنے آپ کو یا اپنے ساتھیوں کو اس سے تکلیف ہوتو روزہ نہ رکھنا ہی افضل ہے۔
(۵)
بحالت روزہ سفر شروع کیا تو اس روزة کا پورا کرنا ضروری ہے اور اگر کچھ کھانے پینے کے بعد سفر سے وطن واپس آگیا تو باقی دن کھانے پینے سے احتراز کرے، اور اگر ابھی کچھ کھایا پیا نہیں تھا کہ وطن میں ایسے وقت واپس آگیا جب کہ روزہ کی نیت ہوسکتی ہو یعنی زوال سے ڈیڑھ گھنٹہ قبل تو اس پر لازم ہے کہ روزہ کی نیت کرلے۔
(۶)
کسی کو قتل کی دھمکی دے کر روزہ توڑنے پر مجبور کیا جائے تو اس کے لیے توڑ دینا جائز ہے پھر قضا کرلے۔
(۷)
کسی بیماری یا بھوک پیاس کا اتنا غلبہ ہوجائے کہ کسی مسلمان دیندار ماہر طبیب یا ڈاکٹر کے نزدیک جان کا خطرہ لاحق ہوتو روزہ توڑدینا جائز؛ بلکہ واجب ہے اور پھر اس کی قضا لازم ہوگی۔
(۸)
عورت کے لیے ایام حیض میں اور بچہ کی پیدائش کے بعد جو خون آتا ہے یعنی نفاس اس کے دوران میں روزہ رکھنا جائز نہیں۔ ان ایام میں روزہ نہ رکھے بعد میں قضا کرے۔ بیمار، مسافر، حیض ونفاس والی عورت جن کے لیے رمضان میں روزہ نہ رکھنا اور کھانا پینا جائز ہے ان کو بھی لازم ہے کہ رمضان کا احترام کریں، سب کے سامنے کھاتے پیتے نہ پھریں۔
(۱)
بیماری کی وجہ سے روزہ کی طاقت نہ ہو، یا مرض بڑھنے کا شدید خطرہ ہوتو روزہ نہ رکھنا جائز ہے، بعد رمضان اس کی قضا لازم ہے۔
(۲)
جو عورت حمل سے ہو اور روزہ میں بچہ کو یا اپنی جان کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتو روزہ نہ رکھے، بعد میں قضا کرے۔
(۳)
جو عورت اپنے یا کسی غیر کے بچہ کو دودھ پلاتی ہے، اگر روزہ سے بچہ کو دودھ نہیں ملتا، تکلیف پہنچتی ہے تو روزہ نہ رکھے پھر قضا کرے۔
(۴)
مسافر شرعی (جو کم از کم اڑتالیس میل کے سفر کی نیت پر گھر سے نکلا ہو) اس کے لیے اجازت ہے کہ روزہ نہ رکھے، پھر اگر کچھ تکلیف ودقت نہ ہوتو افضل یہ ہے کہ سفر ہی میں روزہ رکھ لے اگر خود اپنے آپ کو یا اپنے ساتھیوں کو اس سے تکلیف ہوتو روزہ نہ رکھنا ہی افضل ہے۔
(۵)
بحالت روزہ سفر شروع کیا تو اس روزة کا پورا کرنا ضروری ہے اور اگر کچھ کھانے پینے کے بعد سفر سے وطن واپس آگیا تو باقی دن کھانے پینے سے احتراز کرے، اور اگر ابھی کچھ کھایا پیا نہیں تھا کہ وطن میں ایسے وقت واپس آگیا جب کہ روزہ کی نیت ہوسکتی ہو یعنی زوال سے ڈیڑھ گھنٹہ قبل تو اس پر لازم ہے کہ روزہ کی نیت کرلے۔
(۶)
کسی کو قتل کی دھمکی دے کر روزہ توڑنے پر مجبور کیا جائے تو اس کے لیے توڑ دینا جائز ہے پھر قضا کرلے۔
(۷)
کسی بیماری یا بھوک پیاس کا اتنا غلبہ ہوجائے کہ کسی مسلمان دیندار ماہر طبیب یا ڈاکٹر کے نزدیک جان کا خطرہ لاحق ہوتو روزہ توڑدینا جائز؛ بلکہ واجب ہے اور پھر اس کی قضا لازم ہوگی۔
(۸)
عورت کے لیے ایام حیض میں اور بچہ کی پیدائش کے بعد جو خون آتا ہے یعنی نفاس اس کے دوران میں روزہ رکھنا جائز نہیں۔ ان ایام میں روزہ نہ رکھے بعد میں قضا کرے۔ بیمار، مسافر، حیض ونفاس والی عورت جن کے لیے رمضان میں روزہ نہ رکھنا اور کھانا پینا جائز ہے ان کو بھی لازم ہے کہ رمضان کا احترام کریں، سب کے سامنے کھاتے پیتے نہ پھریں۔
Things That Will Not Break The Fast And Is Not Makrooh...وہ چیزیں جن سے روزہ نہیں ٹوٹتا اور مکروہ بھی نہیں ہوتا
Posted by Unknown on 22:06 with No comments
وہ چیزیں جن سے روزہ نہیں ٹوٹتا اور مکروہ بھی نہیں ہوتا
از: حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب
وہ چیزیں جن سے روزہ نہیں ٹوٹتا اور مکروہ بھی نہیں ہوتا!۔
(۱)
مسواک کرنا
(۲)
سر یا مونچھوں پر تیل لگانا۔
(۳)
آنکھوں میں دوا یا سُرمہ ڈالنا۔
(۴)
خوشبو سونگھنا۔
(۵)
گرمی اور پیاس کی وجہ سے غسل کرنا۔
(۶)
کسی قسم کا انجکشن یا ٹیکہ لگوانا۔
(۷)
بھول کر کھانا پینا۔
(۸)
حلق میں پانی ڈالنا یا بلاقصد چلا جانا۔
(۱۰)
خود بخود قے آجانا۔
(۱۱)
سوتے ہوئے احتلام (غسل کی حاجت) ہوجانا۔
(۱۲)
دانتوں میں سے خون نکلے؛ مگر حلق میں نہ جائے تو روزہ میں خلل نہیں آیا۔
(۱۳)
اگر خواب میں یا صحبت سے غسل کی حاجت ہوگئی اور صبح صادق ہونے سے پہلے غسل نہیں کیا اور اسی حالت میں روزہ کی نیت کرلی تو روزہ میں خلل نہیں آیا۔
(۱)
مسواک کرنا
(۲)
سر یا مونچھوں پر تیل لگانا۔
(۳)
آنکھوں میں دوا یا سُرمہ ڈالنا۔
(۴)
خوشبو سونگھنا۔
(۵)
گرمی اور پیاس کی وجہ سے غسل کرنا۔
(۶)
کسی قسم کا انجکشن یا ٹیکہ لگوانا۔
(۷)
بھول کر کھانا پینا۔
(۸)
حلق میں پانی ڈالنا یا بلاقصد چلا جانا۔
(۱۰)
خود بخود قے آجانا۔
(۱۱)
سوتے ہوئے احتلام (غسل کی حاجت) ہوجانا۔
(۱۲)
دانتوں میں سے خون نکلے؛ مگر حلق میں نہ جائے تو روزہ میں خلل نہیں آیا۔
(۱۳)
اگر خواب میں یا صحبت سے غسل کی حاجت ہوگئی اور صبح صادق ہونے سے پہلے غسل نہیں کیا اور اسی حالت میں روزہ کی نیت کرلی تو روزہ میں خلل نہیں آیا۔
Fast To Be Makrooh...روزہ مکروہ ہونا
Posted by Unknown on 22:01 with No comments
روزہ مکروہ ہونا
از: حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب
وہ چیزیں جن سے روزہ ٹوٹتا نہیں؛ مگر مکروہ ہوجاتا ہے:۔
(۱)
بلاضرورت کسی چیز کو چبانا یا نمک وغیرہ چکھ کر تھوک دینا، ٹوتھ پیسٹ یا منجن یا کوئلہ سے دانت صاف کرنا بھی روزہ میں مکروہ ہیں۔
(۲)
تمام دن حالت جنابت میں بغیر غسل کیے رہنا۔
(۳)
فصد کرانا، کسی مریض کے لیے اپنا خون دینا جو آج کل ڈاکٹروں میں رائج ہے یہ بھی اس میں داخل ہے۔
(۴)
غیبت یعنی کسی کی پیٹھ پیچھے اس کی برائی کرنا یہ ہرحال میں حرام ہے، روزہ میں اس کا گناہ اور بڑھ جاتا ہے۔
(۵)
روزہ میں لڑنا جھگڑنا، گالی دینا خواہ انسان کو ہو یا کسی بے جان چیز کو یا جاندار کو، ان سے بھی روزہ مکروہ ہوجاتا ہے۔
(۱)
بلاضرورت کسی چیز کو چبانا یا نمک وغیرہ چکھ کر تھوک دینا، ٹوتھ پیسٹ یا منجن یا کوئلہ سے دانت صاف کرنا بھی روزہ میں مکروہ ہیں۔
(۲)
تمام دن حالت جنابت میں بغیر غسل کیے رہنا۔
(۳)
فصد کرانا، کسی مریض کے لیے اپنا خون دینا جو آج کل ڈاکٹروں میں رائج ہے یہ بھی اس میں داخل ہے۔
(۴)
غیبت یعنی کسی کی پیٹھ پیچھے اس کی برائی کرنا یہ ہرحال میں حرام ہے، روزہ میں اس کا گناہ اور بڑھ جاتا ہے۔
(۵)
روزہ میں لڑنا جھگڑنا، گالی دینا خواہ انسان کو ہو یا کسی بے جان چیز کو یا جاندار کو، ان سے بھی روزہ مکروہ ہوجاتا ہے۔
Rulings of Ramadan and Zakat Issues...احکام رمضان المبارک و مسائل زکوٰة
Posted by Unknown on 21:25 with No comments
احکام رمضان المبارک و مسائل زکوٰة
از: حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب ، سابق مفتی اعظم دارالعلوم دیوبند
رمضان المبارک کے روزے رکھنا اسلام کا تیسرا فرض ہے۔ جو اس کے فرض ہونے کا انکار کرے مسلمان نہیں رہتا اور جو اس فرض کو ادا نہ کرے وہ سخت گناہ گار فاسق ہے۔
روزہ کی نیت:۔
نیت کہتے ہیں دل کے قصد وارادہ کو، زبان سے کچھ کہے یا نہ کہے۔
روزہ کے لیے نیت شرط ہے، اگر روزہ کا ارادہ نہ کیا اور تمام دن کچھ کھایا پیا نہیں تو روزہ نہ ہوگا۔
مسئلہ:۔ رمضان کے روزے کی نیت رات سے کرلینا بہتر ہے اور رات کو نہ کی ہوتو دن کو بھی زوال سے ڈیڑھ گھنٹہ پہلے تک کرسکتا ہے؛ بشرطیکہ کچھ کھایا پیا نہ ہو۔
جن چیزوں سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے:۔
(۱)
کان اور ناک میں دوا ڈالنا۔
(۲)
قصداً منہ بھر قے کرنا۔
(۳)
کلی کرتے ہوئے حلق میں پانی چلا جانا۔
(۴)
عورت کو چھونے وغیرہ سے انزال ہوجانا۔
(۵)
کوئی ایسی چیز نگل جانا جو عادةً کھائی نہیں جاتی، جیسے لکڑی، لوہا، کچا گیہوں کا دانہ وغیرہ۔
(۶)
لوبان یا عود وغیرہ کا دھواں قصداً ناک یا حلق میں پہنچانا، بیڑی، سگریٹ، حقہ پینا اسی حکم میں ہیں۔
(۷)
بھول کر کھاپی لیا اور یہ خیال کیا کہ اس سے روزہ ٹوٹ گیا ہوگا پھر قصداً کھاپی لیا۔
(۸)
رات سمجھ کر صبح صادق کے بعد سحری کھا لی۔
(۹)
دن باقی تھا؛ مگر غلطی سے یہ سمجھ کر کہ آفتاب غروب ہوگیا ہے، روزہ افطار کرلیا۔
تنبیہ: ان سب چیزوں سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، مگر صرف قضا واجب ہوتی ہے، کفارہ لازم نہیں ہوتا۔
(۱۰)
جان بوجھ کر بدون بھولنے کے بی بی سے صحبت کرنے یا کھانے پینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور قضا بھی لازم ہوتی ہے اور کفارہ بھی۔
کفارہ یہ ہے کہ ایک غلام آزاد کرے ورنہ ساٹھ روزے متواتر رکھے، بیچ میں ناغہ نہ ہو ورنہ پھر شروع سے ساٹھ روزے پورے کرنے پڑیں گے اور اگر روزہ کی بھی طاقت نہ ہوتو ساٹھ مسکینوں کو دونوں وقت پیٹ بھرکر کھانا کھلاوے۔ آج کل شرعی غلام یا باندی کہیں نہیں ملتے؛ اس لیے آخری دو صورتیں متعین ہیں۔
Sunday, 23 June 2013
The Importance And Virtue Of Shab Baraat...شب برأت کی اہمیت و فضیلت احادیث کی روشنی میں
Posted by Unknown on 22:36 with No comments
شب برأت کی اہمیت و فضیلت احادیث کی روشنی میں
ماہ شعبان کی پندرہویں رات کوشب برأت کہاجاتا ہے شب کے معنی ہیں رات اوربرأت کے معنی بری ہونے اورقطع تعلق کرنے کے ہیں‘چونکہ اس رات مسلمان توبہ کرکے گناہوں سے قطع تعلق کرتے ہیں اوراللہ تعالیٰ کی رحمت سے بے شمار مسلمان جہنم سے نجات پاتے ہیں اس لئے اس رات کوشب برأت کہتے ہیں‘ اس رات کولیلتہ المبارکہ یعنی برکتوں والی رات لیلتہ الصک یعنی تقسیم امور کی رات اور لیلتہ الرحمتہ رحمت نازل ہونے کی رات بھی کہاجاتا ہے۔
جلیل القدر تابعی حضرت عطاء بن یساررضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں’’لیلتہ القدر کے بعد شعبان کی پندرہویں شب سے افضل کوئی رات نہیں‘‘۔
(لطائف المعارف‘صفحہ145)
جس طرح مسلمانوں کے لئے زمین میں دوعیدیں ہیں اسی طرح فرشتوں کے لئے آسمان میں دوعیدیں ہیں ایک شب برأت اوردوسری شب قدر جس طرح مومنوں کی عیدیں عیدالفطر اورعیدالاضحی ہیں فرشتوں کی عیدیں رات کواس لئے ہیں کہ وہ رات کوسوتے نہیں جب کہ آدمی سوتے ہیں اس لئے ان کی عیدیں دن کوہیں۔
(غنیتہ الطالبین‘ صفحہ449)تقسیم امور کی رات
ارشاد باری تعالیٰ ہوا’’قسم ہے اس روشن کتاب کی بے شک ہم نے اسے برکت والی رات میں اتاراہے‘ بے شک ہم ڈرسنانے والے ہیں اس میں بانٹ دیاجاتا ہے ہرحکمت والا کام۔
(الدخان: 2-4‘کنزالایمان)
’’اس رات سے مرادشب قدر ہے یا شب برأت‘‘(خزائن العرفان)ان آیات کی تفسیر میں حضرت عکرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اوربعض دیگر مفسرین نے بیان کیا ہے کہ ’’لیلتہ مبارکہ‘‘سے پندرہ شعبان کی رات مراد ہے۔اس رات میں زندہ رہنے والے ‘فوت ہونے والے اور حج کرنے والے سب کے ناموں کی فہرست تیار کی جاتی ہے اور جس کی تعمیل میں ذرا بھی کمی بیشی نہیں ہوتی۔ اس روایت کوابن جریر‘ابن منذر اورابن ابی حاتم نے بھی لکھا ہے‘اگرچہ اس کی ابتداء پندرہویں شعبان کی شب سے ہوتی ہے۔
(ماثبت من السنہ‘ صفحہ194)
علامہ قرطبی مالکی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ایک قول یہ ہے کہ ان امور کے لوح محفوظ سے نقل کرنے کاآغاز شب برأت سے ہوتا ہے اوراختتام لیلتہ القدر میں ہوتاہے۔
(الجامع لاحکام القرآن‘ جلد 16 ‘صفحہ128)
یہاں ایک شبہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ امورتوپہلے ہی سے لوح محفوظ میں تحریر ہیں پھر ان شب میں ان کے لکھے جانے کا کیامطلب ہے؟جواب یہ ہے کہ یہ امور بلاشبہ لوح محفوظ میں تحریر ہیں لیکن اس شب میں مذکورہ امور کی فہرست لوح محفوظ سے نقل کرکے ان فرشتوں کے سپرد کی جاتی ہے جن کے ذمہ یہ امورہیں۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتی ہوکہ شعبان کی پندرہویں شب میں کیا ہوتا ہے؟ میں نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ فرمائیے۔ارشاد ہوا آئندہ سال میں جتنے بھی پیدا ہونے والے ہوتے ہیں وہ سب اس شب میں لکھ دیئے جاتے ہیں اورجتنے لوگ آئندہ سال مرنے والے ہوتے ہیں وہ بھی اس رات میں لکھ دیئے جاتے ہیں اوراس رات میں لوگوں کے(سال بھرکے)اعمال اٹھائے جاتے ہیں اوراس میں لوگوں کامقررہ رزق اتاراجاتاہے۔
(مشکوۃ‘جلد 1صفحہ277)
حضرت عطاء بن یساررضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں’’شعبان کی پندرہویں رات میں اللہ تعالیٰ ملک الموت کوایک فہرست دے کرحکم فرماتا ہے کہ جن جن لوگوں کے نام اس میں لکھے ہیں ان کی روحوں کوآئندہ سال مقررہ وقتوں پرقبض کرنا‘تواس شب میں لوگوں کے حالات یہ ہوتے ہیں کہ کوئی باغوں میں درخت لگانے کی فکر میں ہوتا ہے کوئی شادی کی تیاریوں میں مصروف ہوتا ہے‘ کوئی کوٹھی بنگلہ بنوارہاہوتاہے حالانکہ ان کے نام مردوں کی فہرست میں لکھے جاچکے ہوتے ہیں۔
(مصنف عبدالرزاق‘جلد4 ‘صفحہ317‘ماثبت من السنہ صفحہ193)
حضرت عثمان بن محمدرضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ سرکارمدینہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک شعبان سے دوسرے شعبان تک لوگوں کی زندگی منقطع کرنے کاوقت اس رات میں لکھاجاتا ہے یہاں تک کہ انسان شادی بیاہ کرتا ہے اوراس کے بچے پیدا ہوتے ہیں حالانکہ اس کانام مردوں کی فہرست میں لکھاجاچکاہوتاہے۔
(الجامع لاحکام القرآن‘جلد16‘صفحہ126 ‘شعب الایمان ‘لبیہقی‘ جلد3صفحہ386)
چونکہ یہ رات گزشتہ سال کے تمام اعمال بارگاہ الہٰی میں پیش ہونے اورآئندہ سال ملنے واالی زندگی اوررزق وغیرہ کے حساب کتاب کی رات ہے اس لئے اس رات میںعبادت الہٰی میں مشغول رہنا رب کریم کی رحمتوں کے مستحق ہونے کاباعث ہے اورسرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی تعلیم ہے۔
مغفرت کی رات
شب برأت کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس شب میں اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے بے شمارلوگوں کی بخشش فرمادیتا ہے اسی حوالے سے چند احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں۔
-1
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہافرماتی ہیں کہ ایک رات میں نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کواپنے پاس نہ پایا تو میں آپ کی تلاش میں نکلی میں نے دیکھاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنت البقیع میں تشریف فرما ہیں آپ نے فرمایا کیا تمہیں یہ خوف ہے کہ اللہ تعالیٰ اوراس کارسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے ساتھ زیادتی کریں گے میں نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے یہ خیال ہوا کہ شاید آپ کسی دوسری اہلیہ کے پاس تشریف لے گئے ہیں آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں شب آسمان دنیا پر(اپنی شان کے مطابق) جلوہ گرہوتا ہے اورقبیلہ بنوکلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتا ہے۔
(ترمذی‘جلد1صفحہ156‘ابن ماجہ‘ صفحہ100‘مسند احمد‘جلد 6‘صفحہ238 مشکوۃ جلد1‘صفحہ277مصنف ابن ابی شیبہ‘ جلد 1صفحہ237 شعب الایمان للبیہقی‘ جلد3صفحہ379)
شارحین فرماتے ہیں کہ یہ حدیث پاک اتنی زیادہ اسناد سے مروی ہے کہ درجہ صحت کوپہنچ گئی۔
-2
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آقامولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’شعبان کی پندرہویں شب میں اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر(اپنی شان کے مطابق) جلوہ گرہوتا ہے اوراس شب میں ہرکسی کی مغفرت فرمادیتا ہے سوائے مشرک اوربغض رکھنے والے کے‘‘۔
(شعب الایمان للبیہقی‘جلد3صفحہ380)
-3
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد ہے اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں شب میں اپنے رحم وکرم سے تمام مخلوق کوبخش دیتا ہے سوائے مشرک اورکینہ رکھنے والے کے‘‘۔
ابن ماجہ صفحہ101‘شعب الایمان‘جلد3صفحہ382‘مشکوۃ‘جلد1صفحہ277)
-4
حضرت ابوہریرہ ‘حضرت معاذ بن جبل‘ حضرت ابوثعلبتہ اورحضرت عوف بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی ایساہی مضمون مروی ہے۔
(مجمع الزوائد‘جلد8 صفحہ65)
-5
حضرت عبداللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ آقاومولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’شعبان کی پندرہویں رات میں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے دو اشخاص کے سوا سب مسلمانوں کی مغفرت فرمادیتا ہے ایک کینہ پرور اوردوسرا کسی کوناحق قتل کرنے والا‘‘۔
(مسنداحمد‘جلد2صفحہ176‘مشکوۃ‘جلد1صفحہ278)
-6
امام بیہقی نے شعب الایمان(جلد نمبر3صفحہ 384 )میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ایک طویل روایت بیان کی ہے جس میں مغفرت سے محروم رہنے والوں میں ان لوگوں کابھی ذکر ہے: رشتے ناتے توڑنے والا‘بطورتکبرازارٹخنوں سے نیچے رکھنے والا‘ماں باپ کانافرمان ‘شراب نوشی کرنے والے۔
-7
غنیتہ الطالبین‘صفحہ449 پرحضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی طویل حدیث میںان لوگوں کابھی ذکر ہے جادوگر‘کاہن ‘سودخور اوربدلہ کار‘یہ وہ لوگ ہیں کہ اپنے اپنے گناہوں سے توبہ کئے بغیر ان کی مغفرت نہیں ہوتی‘ پس ایسے لوگوں کوچاہئے کہ اپنے اپنے گناہوں سے جلد ازجلد سچی توبہ کرلیں تاکہ یہ بھی شب برأت کی رحمتوں اوربخشش ومغفرت کے حق دارہوجائیں۔
’’ارشادباری تعالیٰ ہوا: اے ایمان والو! اللہ کی طرف ایسی توبہ کروجوآگے کونصیحت ہوجائے‘‘۔
(التحریم8کنزالایمان)
یعنی توبہ ایسی ہونی چاہئے جس کااثر توبہ کرنے والے کے اعمال میں ظاہر ہو اوراس کی زندگی گناہوں سے پاک اورعبادتوں سے معمورہوجائے‘ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کی۔یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم توبتہ النصوح کسے کہتے ہیں۔ ارشاد ہوا بندہ اپنے گناہ پرسخت نادم اورشرمسارہو‘پھربارگاہ الہٰی میں گڑگڑاکر مغفرت مانگے اورگناہوں سے بچنے کاپختہ عزم کرے تو جس طرح دودھ دوبارہ تھنوں میں داخل نہیں ہوسکتا اسی طرح اس بندے سے یہ گناہ کبھی سرزدنہ ہوگا۔
رحمت کی رات
شب برأت فرشتوں کوبعض اموردیئے جانے اورمسلمانوں کی مغفرت کی رات ہے اس کی ایک اورخصوصیت یہ ہے کہ یہ رب کریم کی رحمتوں کے نزول کی اوردعائوں کے قبول ہونے کی رات ہے۔
-1
حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے‘جب شعبان کی پندرہویں شب آتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان ہوتا ہے۔ہے کوئی مغفرت کاطالب کہ اس کے گناہ بخش دوں‘ ہے کوئی مجھ سے مانگنے والا کہ اسے عطا کروں۔اس وقت اللہ تعالیٰ سے جومانگاجائے وہ ملتاہے۔وہ سب کی دعا قبول فرماتا ہے۔سوائے بدکارعورت اورمشرک کے‘‘
(شعب الایمان للبیہقی‘ جلد 3صفحہ383)
-2
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ غیب بتانے والے آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب شعبان کی پندرہویں شب ہوتو رات کوقیام کرواوردن کوروزہ رکھو کیونکہ غروب آفتاب کے وقت سے ہی اللہ تعالیٰ کی رحمت آسمان دنیا پرنازل ہوجاتی ہے اوراللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ‘ہے کوئی مغفرت کاطلب کرنے والاکہ میں اسے بخش دوں‘ ہے کوئی رزاق مانگنے والاکہ میں اس کورزق دوں ہے کوئی مصیبت زدہ کہ میں اسے مصیبت سے نجات دوں‘یہ اعلان طلوع فجر تک ہوتارہتاہے۔
(ابن ماجہ صفحہ100‘شعب الایمان للبیہقی‘جلد3‘صفحہ378‘مشکوۃ جلد1صفحہ278)
یہ نداہررات میں ہوتی ہے لیکن رات کے آخری حصے میں جیسا کہ کتاب کے آغاز میں شب بیداری کی فضیلت کے عنوان کے تحت حدیث پاک تحریرکی گئی شب برأت کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں یہ نداغروب آفتاب ہی سے شروع ہوجاتی ہے گویا صالحین اورشب بیدار مومنوں کے لئے توہررات شب برأت ہے مگریہ رات خطاکاروں کے لئے رحمت وعطااوربخشش ومغفرت کی رات ہے اس لئے ہمیں چاہئے کہ اس رات میں اپنے گناہوں پرندامت کے آنسو بہائیں اور رب کریم سے دنیا وآخرت کی بھلائی مانگیں‘اس شب رحمت خداوند ہرپیا سے کوسیراب کردیناچاہتی ہے اورہرمنگتے کی جھولی گوہر مراد سے بھردینے پرمائل ہوتی ہے‘ بقول اقبال‘رحمت الہٰی یہ ندا کرتی ہے۔
ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں
راہ دکھلائیں کسی راہرو منزل ہی نہیں
شب بیداری کا اہتمام
شب برأت میں سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی شب بیداری کی اوردوسروں کوبھی شب بیداری کی تلقین فرمائی آپصلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالیشان اوپر مذکورہوا کہ جب شعبان کی پندرہویں رات ہوتوشب بیداری کرو اوردن کوروزہ رکھو‘اس فرمان جلیل کی تعمیل میں اکابر علماء اہلسنّت اورعوام اہلسنّت کاہمیشہ یہ معمول رہا ہے کہ اس رات میں شب بیداری کااہتمام کرتے چلے آئے ہیں۔
شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’تابعین میں سے جلیل القدر حضرات مثلاً حضرت خالدبن معدان‘حضرت مکحول‘حضرت لقمان بن عامر اورحضرت اسحٰق بن راہویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم مسجد میں جمع ہوکر شعبان کی پندرہویں شب میں شب بیداری کرتے تھے اوررات بھر مسجد میں عبادات میں مصروف رہتے تھے‘‘۔
(ماثبت من السنہ‘صفحہ202‘لطائف المعارف‘ صفحہ144)
علامہ ابن الحاج مالکی رحمتہ اللہ علیہ شب برأت کے متعلق رقمطرازہیں’’اورکوئی شک نہیں کہ یہ رات بڑی بابرکت اوراللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑی عظمت والی ہے‘ ہمارے اسلاف رضی اللہ تعالیٰ عنہم اس کی بہت تعظیم کرتے اوراس کے آنے سے قبل اس کے لئے تیاری کرتے تھے ۔پھرجب یہ رات آتی تووہ خوش وجذبہ سے اس کااستقبال کرتے اور مستعدی کے ساتھ اس رات میں عبادت کیا کرتے تھے کیونکہ یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ہمارے اسلاف شعائر اللہ کابہت احترام کیاکرتے تھے۔
(المدخل‘جلد1صفحہ392)
مذکورہ بالاحوالوں سے یہ بات ثابت ہوئی کہ اس مقدس رات میں مسجد میں جمع ہوکرعبادات میں مشغول رہنا اوراس رات شب بیداری کااہتمام کرنا تابعین کرام کاطریقہ رہا ہے‘شیخ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ فرماتے ہیں اب جوشخص شعبان کی پندرہویں رات میں شب بیداری کرے تویہ فعل احادیث کی مطابقت میں بالکل مستحب ہے‘رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کایہ عمل بھی احادیث سے ثابت ہے کہ شب برأت میں آپ مسلمانوں کی دعائے مغفرت کے لئے قبرستان تشریف لے گئے تھے۔
(ماثبت من السنہ صفحہ205)
آقاومولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیارت قبورکی ایک بڑی حکمت یہ بیان فرمائی ہے کہ اس سے موت یادآتی ہے اورآخرت کی فکر پیدا ہوتی ہے(زیارت قبورکے دلائل وفوائد سے متعلق تفصیلی گفتگوفقیر کی کتاب’’مزارات اولیاء اورتوسل‘‘ میں ملاحظہ فرمائیں۔شب برأت میں زیارت قبور کاواضح مقصد یہی ہے کہ اس مبارک شب میں ہم اپنی موت کویاد رکھیں تاکہ گناہوں سے سچی توبہ کرنے میں آسانی ہو‘ یہی شب بیداری کااصل مقصد ہے۔
اس سلسلے میں حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاایمان افروز واقعہ بھی ملاحظہ فرمائیں منقول ہے کہ جب آپ شب برأت میں گھر سے باہرتشریف لائے توآپ کاچہرہ یوں دکھائی دیتا تھاجس طرح کسی کوقبر میں دفن کرنے کے بعد باہر نکالاگیا ہو۔آپ سے اس کاسبب پوچھاگیاتوآپ نے فرمایاخدا کی قسم میری مثال ایسی ہے جیسے کسی کی کشتی سمندر میں ٹوٹ چکی ہو اور وہ ڈوب رہا ہو اوربچنے کی کوئی امید نہ ہو‘پوچھاگیا آپ کی ایسی حالت کیوں ہے؟ فرمایا میرے گناہ یقینی ہیں‘ لیکن اپنی نیکیوں کے متعلق میں نہیں جانتا کہ وہ مجھ سے قبول کی جائیں گی یا پھرردکردی جائیں گی۔
(غنیتہ الطالبین‘ صفحہ250)
اللہ اکبر نیک ومتقی لوگوں کایہ حال ہے جوہررات شب بیداری کرتے ہیں اورتمام دن اطاعت الہٰی میں گزارتے ہیں جب کہ اس کے برعکس بعض لوگ ایسے کم نصیب ہیں جواس مقدس رات میں فکر آخرت اورعبادت ودعا میں مشغول ہونے کی بجائے مزید لہو ولعب میں مبتلاہوجاتی ہیں آتش بازی پٹاخے اوردیگرناجائز امورمیں مبتلاہوکر وہ اس مبارک رات کاتقدس پامال کرتے ہیں‘حالانکہ آتش بازی اورپٹاخے نہ صرف ان لوگوں اوران کے بچوں کی جان کیلئے خطرہ ہیں بلکہ اردگرد کے لوگوں کی جان کیلئے بھی خطرے کاباعث بنتے ہیں‘ایسے لوگ’’مال برباد اورگناہ لازم‘‘کامصداق ہیں۔
ہمیں چاہئے کہ ایسے گناہ کے کاموں سے خود بھی بچیں اوردوسروں کوبھی بچائیں اوربچوں کوسمجھائیں کہ ایسے لغو کاموں سے اللہ تعالیٰ اورا س کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوتے ہیں‘ مجدد برحق اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں‘آتشبازی جس طرح شادیوں اورشب برأت میں رائج ہے‘ بے شک حرام اورپورا جرم ہے کہ اس میں مال کاضیاع ہے‘ قرآن مجید میں ایسے لوگوں کوشیطان کے بھائی فرمایا گیا‘ارشا ہوا’’اورفضول نہ اڑابے شک(مال)اڑانے والے شیطانوں کے بھائی ہیں‘‘۔
(بنی اسرائیل)
شعبان کے روزے
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ’’میں نے آقا ومولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو ماہ رمضان کے علاوہ ماہ شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزے رکھتے نہیں دیکھا‘‘۔
(بخاری مسلم‘مشکوۃ‘جلد1صفحہ441)
ایک اورروایت میں فرمایا’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چند دن چھوڑ کرپورے ماہ شعبان کے روزے رکھتے تھے‘‘(ایضاً۔
آپ ہی سے مروی ہے کہ سرکاردو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شعبان میرا مہینہ ہے اوررمضان میری امت کا مہینہ ہے۔
(ماثبت من السنہ‘ صفحہ188)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے’’جن لوگوں کی روحیں قبض کرنی ہوتی ہیں ان کے ناموں کی فہرست ماہ شعبان میں ملک الموت کودی جاتی ہے اس لئے مجھے یہ بات پسند ہے کہ میرانام اس وقت فہرست میں لکھاجائے جب کہ میں روزے کی حالت میں ہوں۔
مرنے والوں کے ناموں کی فہرست پندرہویں شعبان کی رات کوتیار کی جاتی ہے۔
حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کے اس ارشاد سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ رات کے وقت روزہ نہیں ہوتا اس کے باوجود روزہ دار لکھے جانے کا مطلب یہ ہے کہ بوقت کتابت(شب)اللہ تعالیٰ روزہ کی برکت کوجاری رکھتاہے۔
(ماثبت من السنہ‘صفحہ192)
Tuesday, 11 June 2013
Let's Prepare For Ramadan...آئیے رمضان کی تیاری کریں
Posted by Unknown on 18:12 with No comments
:::: آئیے رمضان کی تیاری کریں ::::
چند شفقت بھری باتیں پیش خدمت ہیں ، ان شاء اللہ آپ اپنے دِل میں ان کی جگہ پائیں گے ، اور اپنے سینے میں اس کی قبولیت محسوس کریں گے۔
:: پہلی بات ::
اللہ کا شکر ادا کیجیے کہ اللہ نے ایک دفعہ پھر آپ کو اپنی رحمتوں کے خاص مہینے رمضان کے قریب کر دیا ہے ، ذرا اپنے اِرد گِرد دیکھیے تو یاد آ جائے گاکہ کتنے ایسے تھے جو پچھلے رمضان میں آپ کے پاس، آپکے ساتھ تھے ، اور اب وہ منوں مٹی تلے دب چکے ہیں، ایک دفعہ پھر اللہ کا شکر ادا کیجیے کہ اُس نے آپ کو ایک اور رمضان کے قریب کر کے ایک اور احسان فرمایا ہے اور اس کی عملی شکر گذاری کرتے ہوئے اُس کی رحمتوں اور مغفرت والے مہینے کا بھر پور فائدہ اُٹھانے کی تیاری کیجیے۔،
اُس کی اطاعت کرتے ہوئے، اُس کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی اطاعت کرتے ہوئے اور اپنی زندگی میں موجود غلطیوں، کوتاہیوں، اور گناہوں کو ہمیشہ کے لیے ترک کرتے ہوئے، اللہ کے اس برزگی والے مہینے میں نازل ہونے والی بے حد و حساب رحمت اورمغفرت اورجہنم سے نجات کے حصول کی تیاری کیجیے ۔
:: دوسری بات ::
رمضان ہم سب کے لیے گناہوں اور کوتاہیوں سے دور ہونے کے لیے اللہ کی طرف سے مہیا کردہ ایک بہترین تربیت گاہ ہے، اور اُنہیں ہمیشہ کے لیے چھوڑ دینے کے لیے بہترین اور مضبوط ترین قوت مہیا کرتا ہے ، پس تیار ہو جایے کہ اس رمضان میں ہم کھلے عام علیٰ الاعلان اپنے گناہوں اور برائیوں کو ترک کر دیں گے، اس سے بھی کہیں زیادہ شوق اور جرأت کے ساتھ کہ جس کے ساتھ ہم وہ سب کچھ کرتے ہیں، اور ابلیس اور اُس کے ساتھیوں کے سامنے پوری قوت کے ساتھ اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی تابع فرمانی کا عملی ثبوت مہیا کرنے کے لیے تیار ہو جائیے۔ یقین رکھیے اگر ہم صدق دِل سے یہ تیاری کر لیں تو اللہ تعالیٰ ہمیں کبھی ہماری برائیوں اور گناہوں میں نہ چھوڑے گا ۔
:: تیسری بات ::
رمضان ، قران کا مہینہ ہے ،پس اس نسبت کو اپنی زندگیوں میں لانے کی بھر پور کوشش کی تیاری کیجیے ، کہ قران پڑھا جائے ، لیکن ، صرف الفاظ پڑھ کر نیکیاں کمانے کے لیے ہی نہ پڑھا جائے بلکہ مکمل سمجھ داری اور اُس میں غور و فکر کے ساتھ پڑھا جائے۔
:: چوتھی بات ::
ہوشیار رہیے کہ ہم اُن میں سے نہ ہو جائیں جو دِن بھر بھوک پیاس برداشت کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ اپنے ایسے کاموں میں بھی مشغول رہتے جو گناہ کے زمرے میں آتے ہیں۔
ہوشیار رہیے کہ ہم اُن میں سے نہ ہو جائیں جو دِن بھر بھوک پیاس برداشت کرتے ہیں اورخود کو گناہوں سے بچانے کی کوشش بھی کرتے ہیں، لیکن روزہ کھلتے ہی اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی نافرمانیاں شروع کر دیتے ہیں، مثلا کتنے روزہ دار افطار کے فوراً بعد سگریٹ نوشی شروع کر دیتے ہیں اور نماز کی کوئی فکر نہیں ہوتی ، افطار سے لے کر رات گئے مختلف برقی منظر نُماؤں(ڈسپلیز) میں ایسی چیزوں کا نظارہ کرتے رہتے ہیں جو گناہ ہے، اور کسی نماز کے لیے نہیں اُٹھتے، اسی یا اسی قسم کی لغو مشغولیت میں دیر تک جاگتے ہیں اور پھر ایک ہی دفعہ کھا پی کر سو جاتے ہیں۔ مغرب، عِشاء، فجر کوئی نماز نہیں پڑھی جاتی اور دن چڑھے اپنے اپنے کاموں پر روانہ ہو جاتے ہیں۔
:: پانچویں بات ::
میں اپنے آپ کو آپ سب کو نصیحت کرتا ہوں کہ اللہ کی رحمت اور مغفرت والے اس خاص مہینے میں زیادہ سے زیادہ جتنا بھی ہو سکے اللہ کی راہ میں خرچ کیجیے، اگر ہم لوگ کھانے پینے کی طرح طرح کی چیزوں کی بجائے اپنے معمول کے کھانے پر ہی اکتفاء کریں اور اضافی تکلفات پر خرچ کرنے والی رقم اللہ کی راہ میں خرچ کریں تو ان شاء اللہ رنگ برنگی افطاری سے کہیں زیادہ فائدہ مند ہو گا، ہمارے جسموں کے لیے بھی اور ہماری روحوں کے لیے بھی ، ہماری دُنیا کے لیےبھی اور ہماری آخرت کے لیے بھی۔
اپنے اِرد گِرد اپنے غریب مسلمان بھائی بہنوں کو مت بھولیے، جن کا اللہ کے بعد آپ کے علاوہ کوئی مددگار نہیں، جوپوری طرح سے سادہ روٹی بھی حاصل نہیں کر پاتے، اور ہم اپنے دستر خوان ضرورت سے کہیں زیادہ اور محض زُبان کے مزےپورے کرنے کے لیے اور پیٹ کی شھوت بھجانے کے لیے سجائے ہوتے ہیں۔
کوشش کیجیے کہ ایسے بھائی بہنوں میں سے کوئی نہ کوئی ضرور آپ کے دستر خوان پر یا آپ کے مہیا کردہ مواد سے افطاری کرے۔
:: چَھٹی بات ::
خیال رکھیے کہ افطاری حلال اور پاکیزہ رزق سے ہو اور ایسی حالت اور ایسی جگہ میں ہو جس میں اللہ کی ناراضگی کا کوئی سبب نہ ہو، اس بات کو چوتھی بات کے ذریعے سمجھا جا سکتا ہے۔ ان شاء اللہ
:: ساتویں بات ::
روزے کی حالت میں زیادہ سے زیادہ ، اللہ کا ذکر کرتے رہیے اور دُعا کرتے رہیے، اپنے لیے، اپنے والدین، بھائیوں بہنوں، اور تمام مسلمانوں کے لیے، جو دُنیا کے مختلف حصوں میں طرح طرح کے مظالم کا شکار ہو رہے ہیں، اورخود ہمارے اپنے ہی وطن میں بھی۔
یاد رکھیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا ہے:۔
ان لِلَّهِ عُتَقَاءَ في كل يَومٍ وَلَيلَةٍ لِكلِّ عَبدٍ منهم دَعوَةٌ مُستَجَابَةٌ
بے شک اللہ تعالیٰ ہر رات میں اور ہر دِن میں (یعنی رمضان کی راتوں اور دِنوں میں) لوگوں کو (جہنم کی آگ سے ) آزاد فرماتے ہیں اور ان آزاد ہونے والوں میں سے ہر ایک کے ایک قبول شدہ دُعا ہوتی ہے۔
مسند أحمد ، صحیح الجامع الصغیر
کیا پتہ اللہ کی رحمت سے ہم بھی ان میں ہو جائیں اور ہماری دُعا قبول ہو جائے اور اللہ تعالیٰ ہمارےساتھ ساتھ ہمارے ان گنت مسلمان بھائیوں بہنوں کی مشکلیں آسان فرما دے۔
:: آٹھویں بات ::
جس کے لیے ممکن ہو وہ یہ ارداہ بھی رکھے کہ اللہ کے گھر کعبہ کی زیارت کرے اور عمرہ ادا کرے کہ اس مبارک مہینہ میں عُمرہ کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کرنے کے برابر اجر و ثواب رکھتا ہے۔
یہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا فرمان ہے۔
فَاِذا جَاءَ رَمضَانُ فَاعتَمرِی فَاِنّ عُمرۃً فِیہِ تَعدِلُ حَجَۃً و فی روایۃ حَجَۃً مَعِيَ
جب رمضان آئے تو اُس میں عُمرہ کر لینا ، رمضان میں عُمرہ حج کے برابر ہے۔
صحیح مسلم ، سُنن النسائی
:: نویں بات ::
ایک دفعہ پھر یاد کرتے ہیں ، ابھی ابھی بیان کردہ حدیث پاک ۔ ۔ ۔
ان لِلَّهِ عُتَقَاءَ في كل يَومٍ وَلَيلَةٍ لِكلِّ عَبدٍ منهم دَعوَةٌ مُستَجَابَةٌ
:::
بے
شک اللہ تعالیٰ ہر رات میں اور ہر دِن میں (یعنی رمضان کی راتوں اور دِنوں
میں) لوگوں کو (جہنم کی آگ سے ) آزاد فرماتے ہیں اور ان آزاد ہونے والوں
میں سے ہر ایک کے ایک قبول شدہ دُعا ہوتی ہے
مسند أحمد ، صحیح الجامع الصغیر
اس کو یاد رکھتے ہوئے یہ ارادہ کرتے ہیں کہ ان شاء اللہ اس رمضان میں ہم بھر پور کوشش کریں گے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی اس عظیم عطاء کو حاصل کر سکیں اور اُن میں سے ہو سکیں جِن کو اللہ تعالیٰ جہنم کی آگ سے آزاد فرما دیتا ہے۔
مسند أحمد ، صحیح الجامع الصغیر
اس کو یاد رکھتے ہوئے یہ ارادہ کرتے ہیں کہ ان شاء اللہ اس رمضان میں ہم بھر پور کوشش کریں گے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی اس عظیم عطاء کو حاصل کر سکیں اور اُن میں سے ہو سکیں جِن کو اللہ تعالیٰ جہنم کی آگ سے آزاد فرما دیتا ہے۔
:: دسویں بات ::
رمضان الکریم میں اللہ کی خصوصی رحمت اور مغفرت کے حصول کے لیے ہم سب یہ کوشش بھی کریں اور خوب کریں کہ ہم اللہ کے کلام کو زیادہ سے زیادہ پڑھتے رہیں، سنتے رہیں، سمجھتے رہیں اور جو کوئی اس کی قدرت نہ رکھتا ہو، وہ اپنا زیادہ سے زیادہ وقت اللہ کے گھروں میں اللہ کا ذکر کرتے ہوئے گذارے خواہ تسبیح، تحمید اور تکبیر ہی کہتا رہے، اور شیطان ملعون کی اور اس کے پیروکاروں کی محفلوں اور ان کی جاری کردہ مشغولیات سے دور رہیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہمارے والدین، بھائیوں، بہنوں اور تمام اھل خانہ اور اھل خاندان اور اھل اسلام کو اپنی خاص رحمت اور مغفرت والے اس بزرگ اور عِزت مآب مہینے کی زیادہ سے زیادہ برکتیں حاصل کرنے کی ہمت اور توفیق عطاء فرمائے۔
آمین یارب العالمین
Wednesday, 13 March 2013
Ask The Questions From the Testimony.
Posted by Unknown on 09:35 with No comments
گواہی دینے والے سے کرید کرید کر سوال کرنا
جس کے پاس رمضان کے چاند کی شہادت گزری اسے یہ ضروری نہیں کہ گواہ سے یہ
دریافت کرے تم نے کہاں سے دیکھا اوروہ کس طرف تھا اور کتنے اونچے پر تھا
وغیرہ وغیرہ (عالمگیری وغیرہ) مگر جب کہ اس کے بیان میں شہادت پیدا ہوں تو
سوالات کرے۔ خصوصاً عید میں کہ لوگ خواہ مخواہ اس کا چاند دیکھ لیتے ہیں۔
(بہار شریعت)
(بہار شریعت)
Seeing the moon must testify or not?
Posted by Unknown on 09:23 with No comments
چاند دیکھ کر گواہی دینا لازم ہے یا نہیں؟
اگر اس کی گواہی پر رمضان المبارک کا ثبوت موقوف ہے کہ بے (بغیر) اس کی
گواہی کے کام نہ چلے گا تو جس عادل شخص نے رمضان کا چاند دیکھا۔ اس پرواجب
ہے کہ اسی رات میں شہادت ادا کرے۔ یہاں تک کہ پردہ نشین خاتون کے چاند
دیکھا و اس پر گواہی دینے کے لیے اسی رات جانا واجب ہے اور اس کے لیے شوہر
سے اجازت لینے کی بھی ضرورت نہیں۔
(درمختار،ردالمحتار )
(درمختار،ردالمحتار )
Evidence of evil (Fasiq)
Posted by Unknown on 09:18 with No comments
فاسق کی گواہی
فاسق اگرچہ رمضان المبارک کے چاند کی گواہی دے اس کی گواہی قابل قبول
نہیں۔ رہا یہ کہ اس کے ذمہ گواہی لازم ہے یا نہیں ۔ اگر امید ہے کہ اس کی
گواہی قاضی قبول کرلے گا۔ تواسے لازم ہے کہ گواہی دے۔ (در مختار) کہ ایک
ایک کرکے اگر گواہوں کی تعداد حجم غفیر (کثیر مجمع) کو پہنچ جائے تو یہ بھی
ثبوت رمضان کا ذریعہ ہے۔
Meaning of Aadil And Mastur.
Posted by Unknown on 09:11 with No comments
عادل و مستور کے معنی
عاد ل ہونے کے معنی یہ ہیں کہ کم سے کم متقی ہو یعنی کبیرہ گناہوں سے
بچتا ہو اور صغیرہ پر اصرار نہ کرتا ہو۔ اور ایسا کام نہ کرتا ہو جو مروت
کے خلاف ہے۔ مثلاً بازار میں کھانا یا شارع عام پر پیشاب کرنا یا بازار و
عام گزر گاہ پر صرف بنیان و تہہ بند میں پھرنا ۔
(در مختار، ردالمحتار وغیرہ)
اور مستور وہ مسلمان ہے جس کا ظاہر حال شروع کے مطابق ہے مگر باطن کا حال معلوم نہیں۔ ایسے مسلمان کی گواہی رمضان المبارک کے علاوہ کسی اور جگہ مقبول نہیں۔
(در مختار، ردالمحتار وغیرہ)
اور مستور وہ مسلمان ہے جس کا ظاہر حال شروع کے مطابق ہے مگر باطن کا حال معلوم نہیں۔ ایسے مسلمان کی گواہی رمضان المبارک کے علاوہ کسی اور جگہ مقبول نہیں۔
(درمختار)
The Sharee'ah Method of Proof Of Ramadan.
Posted by Unknown on 09:04 with No comments
رمضان کے ثبوت کا شرعی طریقہ
ابر اور غبار میں رمضان کا ثبوت ایک مسلمان عاقل بالغ دیندار عادل یا
مستور کی گواہی سے ہو جاتا ہے۔ خواہ وہ مرد ہو یا عورت اور ابر میں رمضان
کے چاند کی گواہی میں یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں (جبکہ
ہر گواہی میں یہ کہنا ضروری ہے) صرف اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ میں نے اپنی
آنکھ سے اس رمضان کا چاند آج یا کل فلاں دن دیکھا ہے۔
(مختار ، عالمگیری)
(مختار ، عالمگیری)
Absence of the Moon.
Posted by Unknown on 08:54 with No comments
چاند کے ہونے نہ ہونے میں علم ہیت کا اعتبار ہے یا نہیں؟
جو شخص علم ہیت جانتا ہے اس کا اپنے علم ہیت (نجوم وغیرہ) کے ذریعہ سے
کہہ دینا کہ آج چاند ہوا یا نہیں یہ کب ہوگا۔ یہ کوئی چیز نہیں ۔ اگر چہ وہ
عادل ، دیندار، قابل اعتماد ہو اگر چہ کئی شخص ایسا کہتے ہوں ۔ کہ شروع
میں چاند دیکھنے یا گواہی سے ثبوت کا اعتبار ہے کسی اور چیز پر نہیں۔
(عالمگیری وغیرہ)
مثلاً وہ ۲۹ شعبان کو کہیں آج ضرور رؤیت ہوگی۔ کل یکم رمضان ہے۔ شام کو ابر ہوگیا۔ رؤیت کی خبر معتبر نہ آئی ہم ہر گز رمضان قرار نہ دیں گے۔ بلکہ وہی یوم الشک ٹھہرے گا۔ یا وہ کہیں آج رؤیت نہیں ہوسکتی کل یقیناً ۳۰ شعبان ہے۔پھر آج ہی رؤیت پر معتبر گواہی گزری۔ بات وہی کہ ہمیں تو حکم شرع پر عمل فرض ہے۔
مثلاً وہ ۲۹ شعبان کو کہیں آج ضرور رؤیت ہوگی۔ کل یکم رمضان ہے۔ شام کو ابر ہوگیا۔ رؤیت کی خبر معتبر نہ آئی ہم ہر گز رمضان قرار نہ دیں گے۔ بلکہ وہی یوم الشک ٹھہرے گا۔ یا وہ کہیں آج رؤیت نہیں ہوسکتی کل یقیناً ۳۰ شعبان ہے۔پھر آج ہی رؤیت پر معتبر گواہی گزری۔ بات وہی کہ ہمیں تو حکم شرع پر عمل فرض ہے۔
Subscribe to:
Posts (Atom)

