Showing posts with label Maa. Show all posts
Showing posts with label Maa. Show all posts

Saturday, 13 July 2013

Mother's Loan ماں کا قرض

Posted by Unknown on 03:30 with No comments
ماں کا قرض

ایک بیٹا پڑھ لکھ کر بہت بڑا آدمی بن گیا. والد کی وفات کے بعد ماں نے ہر طرح کا کام کر کے اسے اس قابل بنا دیا تھا. شادی کے بعد بیوی کو ماں سے شکایت رہنے لگی کہ وہ ان کے اسٹیٹس میں فٹ نہیں ہے. لوگوں کو بتانے میں انہیں حجاب ہوتا کہ یہ ان پڑھ ان کی ماں - ساس ہے. 

بات بڑھنے پر بیٹے نے ایک دن ماں سے کہا - "ماں .. میں چاہتا ہوں کہ میں اب اس قابل ہو گیا ہوں کہ کوئی بھی قرض ادا کر سکتا ہوں. میں اور تم دونوں خوش رہیں اس لیے آج تم مجھ پر کئے گئے اب تک کے سارے اخراجات سود سمیت ملا کر بتا دو. میں وہ ادا کر دوں گا. پھر ہم الگ الگ سکھی رہیں گے."

ماں نے سوچ کر جواب دیا -"بیٹا _ حساب ذرا لمبا ہے، سوچ کر بتانا پڑے گا. مجھے تھوڑا وقت چاہیے."
بیٹے نے کہا - "ماں .... کوئی جلدي نہیں ہے. دو - چار دنوں میں بات کرنا."

رات ہوئی، سب سو گئے. ماں نے ایک لوٹے میں پانی لیا اور بیٹے کے کمرے میں آئی. بیٹا جہاں سو رہا تھا اس کے ایک طرف پانی ڈال دیا. بیٹے نے کروٹ لے لی. ماں نے دوسری طرف بھی پانی ڈال دیا. بیٹے نے جس طرف بھی کروٹ لی .. ماں اسی طرف پانی ڈالتی رہی تو پریشان ہو کر بیٹا اٹھ کر كھيج کر بولا کہ ماں یہ کیا ہے؟ میرے بستر کو پانی پانی کیوں کر ڈالا ...؟
ماں بولی -"بیٹا، تونے مجھ سے پوری زندگی کا حساب بنانے کو کہا تھا. میں ابھی یہ حساب لگا رہی تھی کہ میں نے کتنی راتیں تیرے بچپن میں تیرے بستر گیلا کر دینے سے جاگتے ہوئے كاٹي ہیں. یہ تو پہلی رات ہے اور تو ابھی سے گھبرا گیا ..؟ میں نے تو ابھی حساب شروع بھی نہیں کیا ہے جسے تو ادا کر پائے. "

ماں کی اس بات نے بیٹے کے دل کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا. پھر وہ رات اس نے سوچنے میں ہی گزار دی.
شاید اسے یہ احساس ہو گیا تھا کہ ماں کا قرض کبھی نہیں اتارا جاسکتا

Wednesday, 10 July 2013

The World's Most False Woman

Posted by Unknown on 04:52 with No comments
گرمیوں کی لُو سے بھری ایک دوپہر تھی جب وہ اسکول سے گھر لوٹا، گھر میں داخل ہوتے ہی اسے محسوس ہوا جیسے ماں کے چہرے کا رنگ ایکدم تبدیل ہو گیا۔
ماں اسے دیکھ کر مسکرائی اور کہا، جلدی سے کپڑے بدل... لو میں کھانا لاتی ہوں۔
جب وہ بے دلی سے کپڑے بدل کر آیا تو سامنے سبزی یا دال کی جگہ کچھ اسکی پسندیدہ ڈش، ایک پیالی میں میٹھا اور گلاس میں ستّو موجود تھا۔
اُس نے پوچھا امی آج اتنا کچھ؟ خیریت تو ہے؟
ماں نے کہا، ہاں مہمان آئے تھے اس لئے یہ سب بنایا۔
اُس نے کہا، آپ بھی آ جائیں۔
ماں بولی،"میں نے مہمانوں کے ساتھ کھا لیا تھا اب تو پانی پینے کی جگہ بھی نہیں، تم کھاؤ نا ٹھنڈا ہو جائے گا" یہ کہہ کر ماں پھر سے کچن میں چلی گئی۔
وہ روز منہ بنا کر کھانا کھاتا تھا لیکن آج پسند کا کھانا دیکھ کر جلدی جلدی سب چٹ کر گیا۔ برتن اٹھا کر وہ جیسے ہی کچن میں داخل ہوا تو اُس نے دیکھا کہ "دُنیا کی سب سے زیادہ جھوٹی عورت فرش پر بیٹھی کئی دنوں کے بھوکوں کی طرح باسی روٹی کو پانی میں ڈبو کر کھا رہی تھی۔"

Thursday, 4 July 2013

Basti Mere Weeran Muqadder Ki Basa Di...

Posted by Unknown on 23:22 with No comments

بستی میرے ویران مقدر کی بسا دی

بستی میرے ویران مقدر کی بسا دی
ماں جی کی دعاؤں نے میری بات بنا دی

آسودہ میری ماں کو خُدا رکھے کہ جس نے
عظمت درِ زہراؓ کی میرے دل میں بسا دی

تیار ہمیشہ اسے خدمت کو ہے پایا
جب بھی سرِ شب اُٹھ کے میں نے صدا دی

موسم کی تمازت نے کیا جب بھی پریشاں
شفقت کے دوپٹے سے مُجھے ٹھنڈی ہوا دی

دوپہر کے آزار کو خود صبر سے جھیلا
راحت بھری ہر شام میرے نام لگا دی

خوشیوں کی پھواروں سے مُجھے کر کے شرابور
ہر غم کی میری راہ سے دیوار گرا دی

ہے ماں کی اطاعت کا صلہ گلشنِ جنت
افلاک سے ہوتی ہے شب و روز منادی

رحمت نے وہیں لے لیا آغوش میں بڑھ کر
فاروقیؔ میری ماں نے مُجھے جب بھی دُعا دی

Sunday, 12 May 2013


میری ماں ہمیشہ سچ نہیں بولتی۔۔۔
آٹھ بار میری ماں نے مجھ سے جھوٹ بولا۔۔۔
٭یہ کہانی میری پیدائش سے شروع ہوتی ہے۔۔میں ایک بہت غریب فیملی کا اکلوتا بیٹا تھا۔۔ہمارے پاس کھانے کو کچھ بھی نہ تھا۔۔۔اور اگر کبھی ہمیں کھانے کو کچھ مل جاتا تو امی اپنے حصے کا کھانا بھی مجھے دے دیتیں اور کہتیں۔۔تم کھا لو مجھے بھوک نہیں ہے۔۔۔یہ میری ماں کا پہلا جھوٹ تھا۔

٭جب میں تھوڑا بڑا ہوا تو ماں گھر کا کام ختم کر کے قریبی جھیل پر مچھلیاں پکڑنے جاتی اور ایک دن اللہ کے کرم سے دو مچھلیاں پکڑ لیں تو انھیں جلدی جلدی پکایا اور میرے سامنے رکھ دیا۔میں کھاتا جاتا اور جو کانٹے کے ساتھ تھوڑا لگا رہ جاتا اسے وہ کھاتی۔۔۔یہ دیکھ کر مجھے بہت دکھ ہوا ۔۔میں نے دوسری مچھلی ماں کے سامنے رکھ دی ۔۔اس نے واپس کر دی اور کہا ۔۔بیٹا تم کھالو۔۔تمھیں پتہ ہے نا مچھلی مجھے پسند نہیں ہے۔۔۔یہ میری ماں کا دوسرا جھوٹ تھا۔

٭جب میں سکول جانے کی عمر کا ہوا تو میری ماں نے ایک گارمنٹس کی فیکٹری کے ساتھ کام کرنا شروع کیا۔۔اور گھر گھر جا کر گارمنٹس بیچتی۔۔۔سردی کی ایک رات جب بارش بھی زوروں پر تھی۔۔میں ماں کا انتظار کر رہا تھا جو ابھی تک نہیں آئی تھی۔۔میں انھیں ڈھونڈنے کے لیے آس پاس کی گلیوں میں نکل گیا۔۔دیکھا تو وہ لوگوں کے دروازوں میں کھڑی سامان بیچ رہی تھی۔۔۔میں نے کہا ماں! اب بس بھی کرو ۔۔تھک گئی ہوگی ۔۔سردی بھی بہت ہے۔۔ٹائم بھی بہت ہو گیا ہے ۔۔باقی کل کر لینا۔۔تو ماں بولی۔۔بیٹا! میں بالکل نہیں تھکی۔۔۔یہ میری ماں کا تیسرا جھوٹ تھا

٭ایک روز میرا فائنل ایگزام تھا۔۔اس نے ضد کی کہ وہ بھی میرے ساتھ چلے گی ۔۔میں اندر پیپر دے رہا تھا اور وہ باہر دھوپ کی تپش میں کھڑی میرے لیے دعا کر رہی تھی۔۔میں باہر آیا تو اس نے مجھے اپنی آغوش میں لے لیا اور مجھے ٹھنڈا جوس دیا جو اس نے میرے لیے خریدا تھا۔۔۔میں نے جوس کا ایک گھونٹ لیا اور ماں کے پسینے سے شرابور چہرے کی طرف دیکھا۔۔میں نے جوس ان کی طرف بڑھا دیا تو وہ بولی۔۔نہیں بیٹا تم پیو۔۔۔مجھے پیاس نہیں ہے۔۔یہ میری ماں کا چوتھا جھوٹ تھا۔

٭ میرے باپ کی موت ہوگئی تو میری ماں کو اکیلے ہی زندگی گزارنی پڑی۔۔زندگی اور مشکل ہوگئی۔۔اکیلے گھر کا خرچ چلانا تھا۔۔نوبت فاقوں تک آگئی۔۔میرا چچا ایک اچھا انسان تھا ۔۔وہ ہمارے لیے کچھ نہ کچھ بھیج دیتا۔۔جب ہمارے پڑوسیوں نے ہماری ی حالت دیکھی تو میری ماں کو دوسری شادی کا مشورہ دیا کہ تم ابھی جوان ہو۔۔مگر میری ماں نے کہا نہیں مجھے سہارے کی ضرورت نہیں ۔۔۔یہ میری ماں کا پانچواں جھوٹ تھا۔

٭جب میں نے گریجویشن مکمل کر لیا تو مجھے ایک اچھی جاب مل گئی ۔۔میں نے سوچا اب ماں کو آرام کرنا چاہیے اور گھر کا خرچ مجھے اٹھانا چاہیے۔۔وہ بہت بوڑھی ہو گئی ہے۔۔میں نے انھیں کام سے منع کیا اور اپنی تنخواہ میں سے ان کے لیے کچھ رقم مختص کر دی تو اس نے لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ۔۔تم رکھ لو۔۔۔میرے پاس ہیں۔۔۔مجھے پیسوں کی ضرورت نہیں ہے۔۔یہ اس کا چھٹا جھوٹ تھا۔

٭میں نے جاب کے ساتھ اپنی پڑھائی بھی مکمل کر لی تو میری تنخواہ بھی بڑھ گئی اور مجھے جرمنی میں کام کی آفر ہوئی۔۔میں وہاں چلا گیا۔۔۔۔ سیٹل ہونے کے بعد انھیں اپنے پاس بلانے کے لیے فون کیا تو اس نے میری تنگی کے خیال سے منع کر دیا۔۔اور کہا کہ مجھے باہر رہنے کی عادت نہیں ہے۔۔میں نہیں رہ پاوں گی۔۔۔یہ میری ماں کا ساتواں جھوٹ تھا۔

٭میری ماں بہت بوڑھی ہو گئی۔۔انھیں کینسر ہو گیا۔۔انھیں دیکھ بھال کے لیے کسی کی ضرورت تھی۔۔میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ان کے پاس پہنچ گیا۔۔وہ بستر پر لیٹی ہوئی تھیں۔۔ مجھے دیکھ کر مسکرانے کی کوشش کی۔۔۔میرا دل ان کی حالت پر خون کے آنسو رو رہا تھا۔۔۔وہ بہت لاغر ہو گئی تھیں۔۔ آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔۔تو وہ کہنے لگیں ۔۔مت رو بیٹا۔۔۔ میں ٹھیک ہوں ۔۔مجھے کوئی تکلیف نہیں ہو رہی۔۔۔یہ میری ماں کا آٹھواں جھوٹ تھا۔۔۔اور پھر میری ماں نے ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کر لیں ۔

جن کے پاس ماں ہے۔۔۔ اس عظیم نعمت کی حفاطت کریں اس سے پہلے کہ یہ نعمت تم سے بچھڑ جائے۔ اور جن کے پاس نہیں ہے۔۔ ہمیشہ یاد رکھنا کہ انھوں نے تمھارے لیے کیا کچھ کیا۔۔ اور ان کی مغفرت کے لیے دعا کرتے رہنا
الله پاک ہمارے والدین کی مغفرت فرماے اور جن کے والدین حیات ہیں انکو صحت تندرستی والی زندگی دے آمین

خود بھی پڑھیں اور دوسروں سے بھی ضرور ش
یئر کریں

Wednesday, 13 March 2013

Achanak Phir Bacahya

Posted by Unknown on 19:53 with No comments

اچانک پھر بچایا ہے کسی نادیدہ ہستی نے
مگر کیسے ہوا یہ معجزہ . . . .معلوم کرنا ہے

تجھے کچھ یاد ہے کل کب تجھے میں یاد آیا تھا
مجھے اے ماں۔۔۔۔! تیرا وقتِ دُعا معلوم کرنا ہے

__ اعتبار ساجد __