Wednesday, 14 August 2013

ہجرت کا تیسرا سال

زیاد بن سکن کی شجاعت اور شہادت

ایک مرتبہ کفار کا ہجوم حملہ آور ہوا تو سرور ِعالم صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ “کون ہے جو میرے اوپر اپنی جان قربان کرتا ہے؟” یہ سنتے ہی حضرت زیاد بن سکن رضی ﷲ تعالیٰ عنہ پانچ انصاریوں کو ساتھ لے کر آگے بڑھے اور ہر ایک نے لڑتے ہوئے اپنی جانیں فدا کر دیں۔ حضرت زیاد بن سکن رضی ﷲ تعالیٰ عنہ زخموں سے لاچار ہو کر زمین پر گر پڑے تھے مگر کچھ کچھ جان باقی تھی، حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ان کی لاش کو میرے پاس اٹھا لاؤ، جب لوگوں نے ان کی لاش کو بارگاہ رسالت میں پیش کیا تو حضرت زیاد بن سکن رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کھسک کر محبوبِ خدا صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے قدموں پر اپنا منہ رکھ دیا اور اسی حالت میں ان کی روح پرواز کر گئی۔ ﷲ اکبر! حضرت زیاد بن سکن رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کی اس موت پر لاکھوں زندگیاں قربان! سبحان اللہ

بچہ ناز رفتہ باشد ز جہاں نیاز مندے

کہ بوقت جاں سپردن بسرش رسیدہ باشی

0 comments:

Post a Comment