Showing posts with label Dua. Show all posts
Showing posts with label Dua. Show all posts

Sunday, 7 July 2013

Dua

Posted by Unknown on 05:38 with No comments
دعا

دعا قبول نہیں ہوتی تو آسرے اور وسیلے تلاش کرنے کی بجاۓ صرف
ہاتھ اٹھا لیجیۓ ، اللہ سے خود مانگیں ، دیدےتو شکر کریں ، نہ دے تو
صبر ، مگر ہاتھ آپ خود اٹھائیں ۔

Friday, 10 May 2013


سلام کرنے کے آداب

1۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: {وَاِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّۃٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْہَآ اَوْ رُدُّوْھَا} (سورۃ النسآ:86)’’جب تمہیں سلام کہا جائے تو اسے سے بہتر سلام سے جواب دو یا اسی کو لوٹا دو‘‘۔

2۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ کے زیادہ نزدیک وہ شخص ہوتا ہے جو لوگوں کو سلام کرنے میں پہل کرے‘‘۔ (رواہ ابوداؤد و احمد)۔

3۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کونسا اسلام بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تو کھانا کھلائے اور ہر جانے پہچانے اور ان جانے کو سلام کہے‘‘۔ (متفق علیہ)۔

4۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم جنت میں داخل نہ ہو گے یہاں تک کہ تم ایمان لے آو۔ اور تم (سچے) مومن نہ ہو گے جب تک تم آپس میں محبت نہ کرو گے۔ کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جب تم اس پر عمل کر لو تو تم آپس میں محبت کرنے لگو گے۔ آپس میں سلام پھیلاؤ‘‘۔

5۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’سوار پیدل چلنے والے کو، پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے کو اور تھوڑے آدمی زیادہ آدمیوں کو سلام کہیں‘‘۔ (متفق علیہ)۔

6۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کے پاس سے گزرتے تو انہیں سلام کہا‘‘۔ (متفق علیہ)۔

7۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’جب اہل کتاب تمہیں سلام کہیں تو کہو: ’’وعلیکم‘‘۔ (متفق علیہ)۔

8۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: السلام علیکم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جواب دیا۔ وہ بیٹھ گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’دس نیکیاں‘‘۔ پھر دوسرے آدمی نے آ کر کہا: ’’السلام علیکم و رحمۃ اللہ‘‘۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جواب دیا۔ وہ بیٹھ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بیس نیکیاں‘‘۔ پھر ایک اور آدمی نے آ کر کہا: ’’السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ‘‘۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جواب دیا وہ بیٹھ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تیس نیکیاں‘‘ (یعنی ایک دفعہ السلام علیکم کہنے پر دس نیکیاں ملتی ہیں۔ اس کا ایک دفعہ جواب دینے پر بھی دس نیکیاں ملتی ہیں۔ ان تین آدمیوں نے گو ایک ایک دفعہ السلام علیکم کہا تھا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تینوں کو جواب دیا تھا لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تیس نیکیاں حاصل ہوئیں اور ان کو دس دس۔ مترجم)۔ (رواہ الترمذی و ابوداؤد)۔

9۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’جب تم گھر میں داخل ہو تو اہلِ خانہ کو سلام کہو وار جب گھر سے نکلو تو اہلِ خانہ سے سلام کے ساتھ رخصت ہوا کرو۔ (رواہ البیہقی۔ حسن)۔

10۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’اے پیارے بیٹے جب تو اپنے اہلِ خانہ کے پاس آئے تو سلام کہہ۔ تجھ پر اور تیرے اہلِ خانہ پر برکت نازل ہو گی‘‘۔ (رواہ الترمذی)۔

11۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’جو شخص سلام سے پہلے بات شروع کر دے اسے جواب نہ دو۔ (رواہ فی الحلیۃ و حسنہ الالبانی)۔

12۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب کوئی شخص اپنے بھائی سے ملے تو اسے سلام کے۔ اگر ان کے درمیان کوئی درخت، دیوار یا کوئی پتھر حائل ہو جائے (اس کی اوٹ میں ہو جانے کے بعد) پھر اس سے ملے تو پھر اسے سلام کہے‘‘۔ (رواہ ابوداؤد)۔

13۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’اگر کوئی جماعت کہیں سے گذرے تو ان کی طرف سے ایک آدمی کا سلام کہنا کافی ہے۔ اور بیٹھنے والوں سے بھی ایک ہی آدمی جواب دے دے تو سب کی طرف سے کفایت کرتا ہے‘‘ (رواہ ابوداؤد)۔

14۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی کام سے بھیجا۔ پھر میں ان سے آ ملا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم چل رہے تھے (قتیبہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے) خیر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف اشارہ کیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو مجھے بلا کر فرمایا: ’’تو نے ابھی مجھے سلام کہا تھا اور میں نماز پڑھ رہا تھا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی کا مشرق کی طرف رخ کئے ہوئے تھے۔ (رواہ مسلم)۔

15۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے کہا: نماز پڑھنے کے دوران جب لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح جواب دیتے تھے؟ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح کہتے تھے: بلال رضی اللہ عنہ نے ہاتھ پھیلا کر دکھایا۔ (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ پھیلانے کے ساتھ جواب دیتے تھے)۔ (رواہ ابوداؤد والترمذی)۔ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ جب کوئی شخص نماز پڑھنے والے کو سلام کہے تو وہ بغیر بولے اپنی دائیں ہتھیلی کو سیدھی پھیلا کر اشارے سے جواب دے اور قرآن پڑھنے والے، ذکر کرنے والے، مدرس پر اور مسجد میں داخل ہوتے وقت سلام کہنا بدرجہء اولیٰ بہتر ہے۔

16۔ سلام کہنا اہلِ جنت کی دعا ہے۔ (جب وہ آپس میں ملاقات کیا کریں گے)۔

17۔ السلام اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے ایک نام ہے۔

18۔ السلام کا معنی فریب، خیانت اور غداری سے کامل امن و سلامی ہے۔

19۔ السلام محبت کا راستہ،
محبت ایمان کا راستہ اور ایمان جنت کا راستہ ہے۔

اچھے اخلاق کی نشانی
 اچھے اخلاق کی نشانیوں میں سے ایک نشانی سلام میں پہل کرنا ہے۔ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس سے بھی ملتے پہلے اسے سلام کرتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ چھوٹا بڑے کو سلام کرے ، چلنے والا بیٹھے ہوئے کو سلام کرے، اور تھوڑے آدمی زیادہ آدمیوں کو سلام کریں۔ باہر سے گھر آنے والا چاہے چھوٹا ہو یا بڑا گھر والوں کو سلام کرے، اس سے سلام کرنے والے اور اس کے اہلِ خانہ پر برکت نازل ہوگی۔

صحابہ اکرام رضی اللہ عنہ جب مل کر سفر کرتے یا کسی راستے پر چلتے تو کبھی ایسا ہوتا کہ کوئی درخت یا ٹیلہ درمیان میں حائل ہوجاتا ،جس کی وجہ صحابہ اکرامؓ ان رکاوٹوں کی وجہ سے اِدھر اُدھر بٹ جاتے ، لیکن جسے ہی درمیان میں حائل یہ رکاوٹیں دور ہوجاتی اور پھر ایک دوسرے سے ملاقات ہوتی تو ایک دوسرے کو سلام کرتے۔
سلام کے جواب میں ہاتھ ، سر یا انگلی کے اشارے سے کبھی سلام کا جواب نہیں دینا چاہیے۔ کیونکہ یہ تکبّر کی نشانی ہے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت ناپسند ہے۔ سلام کا جواب دینا بمنزلہ فرض ہے ، جو سلام کا جواب نہ دے وہ گنہگار ہے۔

آئیے ہم سب عہد کریں کہ اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل کریں گے اور آپس میں ملاقات کے وقت چھوٹے ہوں یا بڑے صحیح تلفظ اور الفاظ سے سلام کریں گے اور اس کا جواب دیں گے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق ہمارا یہ عمل ہمارے درمیان محبت کا سبب بنے گا اور انشااللہ ہر سلام کے بدلے ہمارے اعمال نامے میں تیس نیکیاں درج کی جائیں گی۔اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے اور ہم سب پر اپنی سلامتی، رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائے۔ آمین

(ماخوذ: بخاری، مسلم ، ترمذی، ابوداﺅد، بہقی)

نیکیاں حاصل کرنے کا انتہائی آسان ذریعہ
سلام ہمارے لئے ‘اللہ کی سلامتی ، رحمتوں اور برکتوں کی دعا ہے ‘ جو ہم مسلمان آپس میں سلام کی صورت میں ایک دوسرے کو دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ سلام ہمارے لئے نیکیاں حاصل کرنے کا انتہائی آسان ذریعہ بھی ہے۔جس کی وضاحت اس حدیث سے ہوجاتی ہے۔

”حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص نے حاضر ہوکر سلام کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب دیا، پھر وہ شخص بیٹھ گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص کے لئے دس نیکیاں لکھی گئیں۔ پھر ایک اور شخص آیا اور کہا السلام علیکم و رحمة اللہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بھی سلام کا جواب دیا اور اس کے بیٹھ جانے کے بعد فرمایا، اس کے لئے بھی دس نیکیاں لکھی گئیں۔پھر ایک اور شخص آیا اور السلام علیکم و رحمة اللہ و برکاتہُ کہا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا بھی جواب دیا اور اس کے بیٹھ جانے پر فرمایا اس کے لئے تیس نیکیاں لکھی گئیں۔“

(ترمذی، ابوداﺅد)


سلام کرنے میں احتیاط
السلام“ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے جس کے معنی ہیں سلامتی بخشنے والا۔
سلام امّت مسلمہ پر اللہ تعالیٰ کا خاص احسان ہے اور ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ بھی‘ جو اپنی امّت کے لئے ہمیشہ دعائیں فرماتے رہے۔ ہم مسلمانوں کو اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیئے کہ سلام کے الفاظ ‘ عربی زبان کے صحیح تلفظ اور الفاظ کے مطابق ادا کیئے جائیں۔ کیونکہ جب یہودی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تو انھیں السلام علیکم کہنے کے بجائے اسام علیکم کہتے ۔ اسام کے معنی تجھے موت آئے کے ہیں۔ عربی زبان میں اعراب اور تلفظ کی غلط ادائیگی سے معنی تبدیل ہوجاتے ہیں۔
قرآن شریف پڑھتے اور تلاوت کرتے وقت اعراب اور الفاظ کے تلفظ کی صحیح ادائیگی کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ یہ واقعہ بھی اعراب اور تلفظ کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ ”منافق لوگ ‘حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو راعنا کے بجائے راعینا کہا کرتے تھے۔ راعنا کے معنی ہیں ”یا رسول اللہ ہمارا خیال فرمائیے ۔ مگر منافقین‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو راعینا کہتے تھے۔ جسکے معنی ہمارے چرواہے کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کمی کو کب برداشت کرسکتا تھا ، چنانچہ سورہ بقرہ میں مسلمانوں کو تلقین کی گئی کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو راعنا نہ کہا کرو بلکہ انظرنا کہا کرو، جس کا مطلب بھی یہی ہوتا ہے کہ ”یارسول اللہ ہمارا خیال فرمائیے“۔

اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عربی کے الفاظ میں اعراب اور تلفظ کی غلطی سے معنی بالکل تبدیل ہوجاتے ہیں۔ اس لئے سلام کرتے وقت اور قرآن پڑھتے ہوئے الفاظ کی ادائیگی میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔

السلام علیکم ورحمتہ ﷲ و برکاتہ
دنیا بھر کی قوموں کے مختلف قسم کے سلام ہیں جو وقت کے مطابق بدلتے رہتے ہیں۔ اسلام کے ماننے والوں کے لئے ،اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کے بعد انھیں اور انکی اولاد کے لئے جس سلام کا تحفہ عطا فرمایا وہ ہے السلام علیکم ورحمة اللہ، جس کا مطلب ہے تم پر اللہ کی سلامتی اور رحمت ہو۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا۔ آپ کے قد کی لمبائی 60ہاتھ تھی۔ آپؑ کی تخلیق کے بعد اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام سے فرمایا، اس جماعت کو سلام کرو‘ اور سنو کیا جواب ملتا ہے ۔ جو جواب ملے وہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا جواب ہوگا۔

وہاں فرشتوں کی ایک جماعت بیٹھی ہوئی تھی۔ آدم علیہ السلام اس جماعت کے پاس گئے اور انھیں مخاطب کر کے ” السلام علیکم “کہا ۔ فرشتوں نے جواب میں ”السلام علیک و رحمتہ اللہ“کہا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انھوں نے ”ورحمة اللہ “ کا اضافہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید کہا کہ جو شخص بھی جنت میں داخل ہوگا وہ آدم علیہ السلام کی شکل پر ہوگا اور اس کا قد 60 ہاتھ لمبا ہوگا لیکن آدم علیہ السلام کے بعد انسانی قد میں مسلسل کمی ہوتی رہی ہے۔ ۔(بخاری، مسلم)۔

Wednesday, 8 May 2013


دعا، اللہ اور انسان
دعا اللہ اور انسان کے درمیان ایک بیحد خوبصورت الوہی رشتہ ہے. جیسے بارش زمین و آسماں کا وصل کرواتی ہے ایسے ہی دعا اللہ اور انسان کے مابین پر خلوص تعلق میں وصل کی کیفیت رکھتی ہے.
نماز میں ہم اللہ سے کلام کرتے ہیں قرآن میں اللہ ہم سے کلام کرتا ہے اور دعا .. دعا اللہ اور انسان کی بات چیت ہے..
بلا شبہ دعا مومن کے لئے ہتھیار ہے. جسے شیطان مختلف وسوسوں سے ہر ممکن کوشش کرتا ہے ہم چھوڑ دیں، مثلاّ،

اللہ دعائیں نہیں سنتا
اللہ بہت مصروف ہے
تم غلط مانگ رہے ہو
یہ ممکن نہیں ہے
تمہارے گناہ اتنے زیادہ ہیں اور تم ...
پہلے اللہ کو راضی کرو پھر مانگو
دعا فلاں وقت مانگتے ہیں
دعا فلاں سے منگواؤ
نیک لوگوں کی دعا قبول ہوتی ہے تم نیک نہیں تمہاری دعا قبول کیسے ہو گی
تم نے فلاں دعا مانگی تھی، قبول نہیں ہوئی اب کوئی دعا نہیں مانگنی..

ہم ناداں ہیں جودعا کو، اللہ کی عطا کردہ خوبصورت عطا کو چھوڑ کر ان شیطانی وسوسوں پر ایمان لے آتے ہیں.
ہم اللہ کو اپنے گمان سا پاتے ہیں جسا گمان رکھیں گے ویسا ہی پایں گے ایسا ہی معاملہ دعا کے ساتھ ہے ہم جیسا یقین دعا پر رکھیں گے ویسا ہی عطا کو پایں گے.
محبت منزل پر پہنچ کر سکون لینے کا نام نہیں، محبت راہ میں آئی ہر آزمائش کو ہنسی خوشی الحمدللہ کہتے ہوے برداشت کرنے کا نام ہے!

Saturday, 27 April 2013

Getting Up From a Gathering

Posted by Unknown on 06:54 with No comments

مجلس سے اُٹھنے کی دعا

حضرت أبو ہريرَه رضي الله عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : جو شخص کسی مجلس میں بیٹهے جس میں فضول و لایعنی و بے فائده باتیں زیاده ہوئی ہوں ، تو وه اس مجلس سے اٹهنے سے پہلے یہ دعاء پڑھ لے
( سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ )
تو الله تعالی اس مجلس میں کیے گئے اس کے گناہوں کو بخش دے گا . دوسری روایت میں ہے کہ : یہ دعاء اس مجلس میں کیے گئے گناہوں کا اور بری و فضول باتوں کا کفاره بن جائے گی
رواه أبو داود ، والنسائي ، وابن حِبّان في صحيحه ، والحاكم ، والترمذي

Thursday, 25 April 2013

Four Words

Posted by Unknown on 08:42 with No comments
چار کلمات

ام المومنین حضرت جویریہ رضی الله عنها سے روایت هے کہ ایک دن صبح کی نماز کے بعد وظیفہ پڑهہ رهی تهی آپ صلی الله علیہ وسلم صبح کی نماز پڑهہ کر ان کے پاس سے چلے گئے جب آپ صلی الله علیہ وسلم چاشت کی نماز کے بعد تشریف لائے اور ان کو وظیفہ پڑهتے هوئے دیکها تو فرمایا ابهی تک وظیفہ پڑهہ رهی هو ؟؟ فرمایا جی هاں تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمهارے پاس سے جانے کے بعد صرف چار 4 کلمات پڑهے تهے ، ان کا ثواب تمهارے تمام وظیفے کے برابرهے ، بلکہ میرے کلمے تمهارے كلموں سے بهاری هوں گے ، ام المومنین حضرت جویریہ رضی الله عنها نے عرض کیا وه کیا کلمے هیں ؟؟ تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا
سـُبحَانَ اللهِ وبـِحـَمـْدِه ، عـَدَدَ خـَلـْقـِهِ ، وَرِضَى نـَفـْسـِهِ ، وَزِنـَةَ عـَرشـِهِ ، وَمـِدَادَ كـَلـِمـَاتـِهِ ٠

(رواه أبي داود ، ومسلم ، والنسائـي ، وابن حبان ، وابن خزيمة ، والبیهقی)

Dua to enter the market

Posted by Unknown on 08:35 with No comments

بازار میں داخل ہونے کی دعا

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
جو شخص بازار میں داخل هوتے وقت یہ دعا پڑهے
لا إله إلا الله وحده لا شـَرِيـْكَ لـَه لـَهُ المـُلكُ وَلـَهُ الحـَمدُ يـُحـْيي وَيـُمـِيتُ وَهـُوَ حـَيُّ لا يـَمـُوتُ بـِيـَدِهِ الخـَيـْر وَهـُوَ عـَلى كـُل شـَيء قـَدير ۰ (چہارم کلمہ )
تو الله تعالی اس کے لیئے دس ۱۰ لاکھ نیکیاں لکھ دیتے هیں ، اور اس کی دس ۱۰ لاکھ خطائیں معاف کردیتے هیں ، اور اس کی دس ۱۰ لاکھ درجے بلند کردیتے هیں ، اور ایک روایت میں ( دس ۱۰ لاکھ درجے بلند کرنے کے بجائے ) جنت میں ایک گهر بنانے کا ایک ذکر هے
رواه أحمد والترمذي

Thursday, 11 April 2013

Parents

Posted by Unknown on 07:13 with No comments
والدین کی مثال دو آنکھوں کی سی ہے،،

ایک دائیں ہے اور دوسری بائیں..
اگر ایک آنکھ چلی جائے تو بینائی متاثر ہو تی ہے
اور
اگر دونوں آنکھیں چلی جائیں انسان اندھا ہو جاتا ہے
سو
اپنے والدین کی حفاظت اور خیال اپنی آنکھوں کی طرح کرو
اور کہتے رہا کرو :

رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا ﴿٢٤﴾

اے میرے پروردگار!
ان پر ویسا ہی رحم کر جیسا انہوں نے میرے بچپن میں میری پرورش کی ہے

(24) سورة الإسراء

Aye KHUDA! Aaj Ise Sab Ka Muqaddar Kar De

Posted by Unknown on 00:34 with No comments
اے خدا! آج اسے سب کا مقدّر کر دے
وہ محبت کہ جو انساں کو پیمبر کر دے

سانحے وہ تھے کہ پتھرا گئیں آنکھیں میری
زخم یہ ہیں تو مرے دل کو بھی پتھّر کر دے

صرف آنسو ہی اگر دستِ کرم دیتا ہے
میری اُجڑی ہوئی آنکھوں کو سمندر کر دے

مجھ کو ساقی سے گلہ ہو نہ تُنک بخشی کا
زہر بھی دے تو مرے جام کو بھر بھر کر دے

شوق اندیشوں سے پاگل ہوا جاتا ہے فراز
کاش یہ خانہ خرابی مجھے بے در کر دے

احمد فراز

Aye Khuda!Aj Isse Sab ka Muqqadar Kar De
Wo Muhabbat Ke Jo Insan Ko Payamber kar De

Sanhe Wo The K Pathra Gayen Aankhen Meri
Zakhm Ye Hain Too Mere Dil Ko Bhi Pathar Kar De

Sirf Aansu he Agar Dast-e-Karam Deta Hai
Meri Ujri Hui Aankhon Ko Sumander Kar De

 Mujh Ko Saqi se Gilla Ho Na Tunk Bakhshi Ka
Zehr Bhi De To Mere Jaam Ko Bhar Bhar Kar De

Shauq Andeshon Se pagal Hua Jata Hai Faraz
Kaash Ye Khaana Khrabi Mujhe Be-Dar Kar De

Wednesday, 10 April 2013

Allah accepts the Dua Of Panic Stricken

Posted by Unknown on 23:30 with No comments
پریشان حال کی دعاء اللہ ہی قبول فرماتے ہیں

مضطر بے کس و مجبور کی دعاء کے قبول ہونے کے متعلق ارشاد الہی ہے:

أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ أَاِلٰہٌ مَعَ اللَّهِ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ
(النمل:۶۲)

ترجمہ:کون ہے جو بے کس و مضطر کی پریشانیوں کو دور کرتا ہے جب وہ (اس سے) دعاء کرتا ہے اور تم کو زمین پر خلیفہ (متصرف)بناتا ہے ،کیا اس کے ساتھ کوئ معبود شریک ہے،کم ہی لوگ نصیحت قبول کرتے ہیں۔

فائدہ:یعنی مضطر وبے کس و بے سہارا لوگوں کی پریشانیوں کو کون دور کرتا ہے،ایسوں کی دعاؤں کو صرف اللہ پاک ہی قبول فرماتے ہیں،وہی حوادث ومصائب کو ان سے دور کرتے ہیں،اس سے معلوم ہوا کہ مضطر کی دعاء کو خصوصی طور پر خدا وند قدوس قبول فرماتے ہیں،احادیث میں بھی ایسوں کی دعاء کی قبو لیت کا ذکر ہے۔

Sunday, 7 April 2013

A Nice Dua For Family And For Children

Posted by Unknown on 01:16 with No comments
گھر والوں اور اولاد کے لیے ایک لیے بہت پیاری دعا
 

 رَبَّنَا هَبۡ لَنَا مِنۡ أَزۡوَٲجِنَا وَذُرِّيَّـٰتِنَا قُرَّةَ أَعۡيُنٍ۬ وَٱجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِينَ إِمَامًا
اے ہمارے رب ہمیں اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک دے اور ہم کو پرہیزگاروں کا امام بنا۔
سورۃ الفرقان۔ آیت ٧٤

یعنی ان کو ایمان اور عمل صالح کی توفیق دے اور پاکیزہ اخلاق سے آراستہ کر کیونکہ ایک مؤمن کو بیوی بچوں کے حسن وجمال اور عیش و آرام سے نہیں بلکہ ان کی نیک خصالی سے ٹھنڈک حاصل ہوتی ہے۔اس کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی چیز تکلیف دہ نہیں ہو سکتی کہ جو دنیا میں اسے سب سے زیادہ پیارے ہیں انہیں دوزخ کا ایندھن بننے کے لیے تیار ہوتے دیکھے۔ ایسی صورت میں تو بیوی کا حسن اور بچوں کی جوانی اسکے لیے اور بھی زیادہ سوہانِ روح ہو گی کیونکہ وہ ہر وقت اس رنچ میں مبتلا رہے گا کہ یہ سب اپنی ان سب خوبیوں‌کے باوجود اللہ کے عذاب میں‌گرفتار ہونے والے ہیں۔

وَٱجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِينَ إِمَامًا " کی تشریح
یعنی ہم تقوی اور طاعت میں سب سے بڑھ جائیں، بھلائی اور نیکی میں سب سے آگے نکل جائیں، محض نیک ہی نہ ہوں‌ بلکہ نیکوں‌کے پیشوا بھی ہوں، اور ہماری بدولت دنیا بھر میں‌ نیکی پھیلے۔ اس چیز کا ذکر بھی یہاں دراصل یہ بتانے کے لیے کیا گیا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو مال و دولت اور شوکت و حشمت میں‌ نہیں بلکہ نیکی و پرہیزگاری میں‌ ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرتے ہیں۔

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''میں نے اپنے بعد مردوں کے بارے میں عورتوں سے زیادہ نقصان دہ فتنہ کوئی اور نہیں چھوڑا۔'' (متفق علیہ)

توثیق الحدیث: أخرجہ البخاری (1379۔فتح)، و مسلم (2740)

Dua to avoid Malicious Glances

Posted by Unknown on 00:48 with No comments

نظر بد سے بچنے کی دعا

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنات اورانسان کی نظر سے پناہ مانگتے تھے،سورہ فلق اورسورہ ناس کا نزول ہوا تو آپ نے اسے اختیار فرمالیا باقی کو چھوڑدیا۔
(ترمذی:۲/۲۶،ابن ماجہ،)

Friday, 22 March 2013

Invocations of the Trouble

Posted by Unknown on 03:40 with No comments
پریشانی کے وقت کی دعائیں
 
حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالی عنہا کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پریشانی کے وقت یہ دعا پڑھنے کی تلقین کی :
اَﷲُ رَبِّیْ لَا أُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا
’’اللہ ہی میرا رب ہے ، میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناتا۔‘‘
[ابو داؤد: ۱۵۲۵، وصححہ الالبانی فی صحیح سنن ابی داؤد ج ۱ ص ۲۸۴ ]
2-
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پریشانی کے وقت یہ دعا پڑھتے تھے :
لَا إلٰہَ إلَّا اﷲُ الْعَظِیْمُ الْحَلِیْمُ،لَا إلٰہَ إلَّا اﷲُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ،لَا إلٰہَ إلَّا اﷲُ رَبُّ السَّمٰوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ َورَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ
[بخاری : الدعوات ،باب الدعاء عند الکرب ، الفتح ج ۱۱، ص ۱۲۳ ، مسلم : ۲۷۳۰]
’’اللہ کے سوا کوئی معبود ِ برحق نہیں ، وہ عظمت والا ا وربرد بار ہے ، اللہ کے سوا کوئی معبود ِ برحق نہیں، وہ عرشِ عظیم کا رب ہے ، اللہ کے سوا کوئی معبود ِ برحق نہیں، وہ آسمانوں کا رب اور زمین کا رب اور عرشِ عظیم کا رب ہے۔‘‘
3-
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پریشانی کے وقت یہ دعا پڑھنے کی تلقین کی :
لَا إلٰہَ إلَّا اﷲُ الْحَلِیْمُ الْکَرِیْمُ ، سُبْحَانَ اﷲِ وَتَبَارَکَ اﷲُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ ، وَالْحَمْدُ ِﷲِ رَبِّ الْعٰالَمِیْنَ
’’اللہ کے سوا کوئی معبود ِ برحق نہیں ، وہ برد بار اور کریم ہے ، اللہ پاک ہے ، اور با برکت ہے وہ اللہ جو کہ عرشِ عظیم کا رب ہے ، اور تمام تعریفیں اس اللہ کیلئے ہیں جو کہ تمام جہانوں کا رب ہے۔‘‘
[ مسنداحمدج ۱ ص ۹۱ وصححہ الشیخ احمد شاکر ج ۲ ص ۸۷ ]
4
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پریشانی کے وقت یہ دعا پڑھتے تھے :
یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ بِرَحْمَتِکَ أَسْتَغِیْثُ [ترمذی : ۳۵۲۴]
’’اے زندہ ! اے قیوم ! میں تیری رحمت کے ساتھ مدد کا طلبگار ہوں۔‘‘
5
- دعائے یونس علیہ السلام:
لَا إلٰہَ إلَّا أَنْتَ سُبْحَانَکَ إنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ
’’تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ، تو پاک ہے ، بے شک میں ظلم کرنے والوں میں سے تھا۔

Thursday, 21 March 2013

 اذان سننے کے بعد دعا پڑھنے پر قیامت کے دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت حلال

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اذان سن کر یہ کہے:
[ اللہم رب ھذا الدعوۃ التامۃ والصلاۃ القائمۃ آت محمد الوسیلۃ والفضیلۃ وبعثہ مقاما محمود الذی وعدتہ]
"اے اللہ ! اے اس دعوت کامل اور قائم کی جانے والی نماز کے رب! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما اور انہیں اس مقام محمود پر فائز کر جس کا تونے ان سے وعدہ کررکھا ہے"
تو قیامت کے دن میری شفاعت اس کے لیے حلال ہوجائے گی-
(بخاری:614)

Wednesday, 6 March 2013


 نماز کے بعد کے ذکر و اذکار

1-
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سلام پھیرنے کے بعد بلند آواز سے ایک مرتبہ اَ للّٰہُ اَ کْبَرُ کہتے تھے
(بخاری، مسلم۔عن ابن عباس رضی اللہ عنہما )۔
2 -
’’پھر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و سلم 3 بار( آہستہ) آواز سے اَسْتَغْفِرُ ا للّٰہَ کہتے تھے اس کے بعد یہ دعا پڑھتے تھے :

اَ للّٰھُمَّ اَ نْتَ السَّلَامُ وَ مِنْکَ السَّلَامُ تَبَارَکْتَ یَاذَ ا لْجَلَالِ وَالْاِ کْرَامِ

رجمہ)’’اے اﷲ، آپ سلامتی والے ہیں سلامتی آپ ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ اے بزرگی اور بخشش کے مالک ،آپ کی ذات بڑی با برکت ہے۔‘‘ (مسلم۔ عن ثوبان رضی اللہ عنہ )
3 -
’’جس نے فرض نماز کے بعد 33 مرتبہ سُبْحَانَ ا للّٰہِ 33 مرتبہاَ لْحَمْدُ لِلّٰہِ 33 مرتبہ اَ للّٰہُ اَ کْبَرُ اور ایک مرتبہ

لَآ اِ لٰـــہَ اِ لَّاا للّٰہُ وَ حْدَ ہ لَا شَرِ یْکَ لَہ لَہُ ا لْمُلْکُ وَ لَہُ ا لْحَمْدُ وَ ھُوَ عَلـٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِ یْرٌ

کہا تو اس کے سارے گناہ خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں، تو معاف کر دئیے جائیں گے۔
‘‘ (مسلم)

{ نوٹ: ایک حدیث میں 33 مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہِ 33 مرتبہ اَ لْحَمْدُ ِللّٰہِ اور 34 مرتبہ اَللّٰہُ اَ کْبَرُ بھی آیا ہے۔ (مسلم)}
4-
’’جس نے ہر فرض نماز کے بعد اٰیَـۃُ ا لْـکُـرْسِـیْ (البقرہ 2 :آیت255 ) پڑھی اسے موت کے سوا کوئی چیز جنت میں جانے سے نہیں روک سکتی۔‘‘
( نسائی عمل ا لیوم وا للیلۃ ۔عن ابی اما مۃ رضی اللہ عنہ )

Sunday, 10 February 2013

What Is Du'a In Reality?

Posted by Unknown on 07:44 with No comments


دعا کے حوالے سے ذہن میں ابھرنے والے متعدد اہم سوالات کے جوابات جاننے کے لیے جاوید احمد غامدی سے مکالمہ کیا گیا تو انھوں نے بڑے مدلل، پر مغز اور معلومات افزاجوابات د یے۔

سوال۔ اصل میں دعا ہے کیا چیز؟
جواب : بندہ مومن اس شعور کے ساتھ دنیا میں زندگی بسر کرتا ہے کہ اس کا وجود اور گرد و پیش کا ماحول اس کے لیے ایک عظیم نعمت ہے اور اس کے ساتھ ہی وہ بہت سی نعمتوں کے لیے ہمہ وقت محتاج ہے۔ نعمت کا شعور شکر کا تقاضا کرتا ہے اور احتیاج دعا کا۔ وہ اپنی ہر ہر ضرورت کے لیے اور جو کچھ میسر آ چکا ہے اس میں اضافے کے لیے اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرتا ہے تو دعا وجود میں آ جاتی ہے۔ اور ایمان ان دونوں ہی چیزوں سے وجود پذیر ہوتاہے، یعنی شکر اور دعا کے ساتھ۔
سوال: اس کی مقبولیت کا معیار کیا ہے؟
جواب: دعا اگر صحیح وقت پر صحیح طریقے پر اور اپنی حدود کا احساس کرتے ہوئے کی جائے تو بالعموم فورا قبول ہو جاتی ہے۔ البتہ اس کا انحصار دعا پر بھی ہے کہ آپ کیا دعا مانگ رہے ہیں؟ مثلا ہماری ہر مسجد میں لوگ دعا کرتے ہیں کہ مسلمانوں کو دنیا میں غلبہ حاصل ہو جائے، لیکن اس کے لیے جو کچھ انھیں خود کرنا چاہیے اس کو کیے بغیر وہ یہ دعا مانگتے ہیں، اس لیے قبول نہیں ہوتی۔ ہمیں جو کچھ کر کے یہ دعا کرنی چاہیے، وہ ہم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اسی طرح انفرادی زندگی میں آپ دیکھیے کہ ایک آدمی بیماری میں، تکلیف میں، مشکلات میں، اپنی ذمہ داریوں کا کوئی شعور نہیں رکھتا اور دعا کیے جاتا ہے، چنانچہ وہ دعا قبول نہیں ہوتی۔ جب صحیح وقت پر اور اپنی حدود کا لحاظ کر کے دعا کی جائے گی تو بالعموم قبول ہو جائے گی۔ اگر پھر بھی اس کا قبول ہونا خداتعالیٰ کی مجموعی حکمت کے خلاف ہے تو قبول نہیں ہو گی۔ مثال کے طور پر کسان کو ضرورت ہے کہ بارش ہو، جبکہ میرا مسئلہ یہ ہے کہ میرا کچا کوٹھا نہ گر جائے۔ ہم دونوں ہی دعا کے لیے ہاتھ اٹھا لیتے ہیں، ظاہر ہے کہ ان میں سے کسی ایک کی دعا قبول ہو گی۔ دنیا کی مجموعی حکمت کے لحاظ سے یا خود دعا کرنے والے فرد کی اپنی بہبود کے لحاظ سے جب کہیں دعا قبول نہیں ہوتی تو پیغمبر اسلام نے بتایا ہے کہ اس کا اجر قیامت میں بندہ مومن کے لیے محفوظ کر لیا جاتا ہے۔
سوا ل : نیک بزرگ شخص کی دعا اور ایک عام مسلمان کی دعا میں کیا فرق ہوتا ہے؟
جواب: اللہ تعالی اپنے نیک بندوں کی دعا کو محبوب رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر قرآن مجید میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی بڑی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ آپ سے دعا کی درخواست کریں۔ خود بھی اللہ تعالی سے مغفرت طلب کریں اور آپ سے بھی درخواست کریں کہ آپ ان کے لیے اللہ تعالی سے مغفرت چاہیں۔
سوال: ہمارے ہاں کئی بار ی سننے میں آتا ہے کہ ایک فقیر نے دعا دی تھی، اس کے ساتھ ہی کایا پلٹ گئی: کیا کسی فقیر کی دعا میں اتنی تاثیر ممکن ہے کہ ایک شخص یا خاندان کی قسمت بدل کر رکھ دے: اگر نہیں تو پھر فقیر کی دعا کے بعد حالات کا یکسر تبدیل ہو جانا کیا معنی رکھتا ہے؟
جواب: اس طرح کی باتیں لوگ بالعموم اپنے اعتقادات کی بنیاد پر کرتے رہتے ہیں۔ یہ بالکل ممکن ہے کہ ایک کام اللہ تعالی کی حکمت کے مطابق لازما ہونا ہی تھا۔ کسی نے اس کے لیے دعا بھی کر دی۔ اسی طرح ایسا بھی ہوتا ہے کہ آدمی کسی غلط عقیدے میں مبتلا ہو گیا اور بطور آزمائش وہ چیز پوری ہو گئی۔ اس لیے تمام پہلو ممکن ہیں، لیکن پیغمبر کے بعد ہمارے لیے یہ جاننے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ فی الواقع یہ کا م فلاں کی دعا کے نتیجے میں ہو گیا۔
آپ برے ہوں یا اچھے، سب اللہ تعالی کے محتاج بندے ہیں، وہ اپنے قانون اور حکمت کے مطابق جب چاہتا ہے، جو بات چاہتا ہے، قبول کر لیتا ہے۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ ایسی قبولیت سے یہ نتیجہ نکالا جائے کہ جس نے دعا کی ہے، وہ فی الواقع اللہ تعالی کو بہت محبوب ہے۔ لوگ مندروں میں جاتے ہیں، ان کی دعا بھی قبول ہوجاتی ہے، گرجوں میں جاتے ہیں، ان کی دعا بھی قبول ہو جاتی ہے۔ پادری ہاتھ اٹھاتا ہے، اس کی دعا بھی قبول ہو جاتی ہے۔ یوگی اور رشی ہاتھ اٹھاتے ہیں، ان کی دعا بھی قبول ہو جاتی ہے۔ بتوں کے سامنے لوگ نیاز پیش کرتے ہیں، وہ بھی قبولیت کی بشارت لے کر آ جاتے ہیں۔ لہذا یہ بات تو اصول کے طور پر صحیح ہے کہ نیک لوگوں سے دعا کی درخواست کرنی چاہیے، لیکن دعا کی ہر قبولیت اچھے پہلو سے نہیں ہوتی، بلکہ بطور آزمائش بھی ہو سکتی ہے۔ خدا تعالی اگر شیطان کے پاس جانے والوں کو ہمیشہ محروم رکھے تو پھر کہیں کوئی شیطان کے پاس نہ جائے اور اس کے نتیجے میں آزمائش ختم ہو جائے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ اس دنیا میں نعمت اور امتحان ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہر نعمت عنایت کے طور پر ہو۔ وہ سزا یا آزمائش اور کسی سر کش کو ڈھیل دینے کے لیے بھی ہو سکتی ہے۔
سوال: کیا کسی خاص جگہ جا کر دعا مانگنے یا منگوانے سے دعا ز یادہ جلدی قبول ہوتی ہے؟
جواب: دعا کی قبولیت کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض جگہوں اور مواقع کی اہمیت بیان کی ہے۔ مثلا جمعہ کا دن، تہجد کا وقت، محلے کی مسجد، حرمین شریفین، یہ وہ جگہیں ہیں جن میں دعا کی اہمیت بیان ہوئی ہے۔ ان کے علاوہ باقی جن جگہوں پر لوگ دعا کی قبولیت کا اعتقاد لے کر جاتے ہیں، ان کے لیے دین و شریعت میں کوئی بنیاد نہیں ہے۔
سوال: اکثر سننے میں آیا ہے کہ والدین اور مریض کی دعا بہت جلد قبول ہوجاتی ہے۔ اس کی کیا خاص وجہ ہے؟
جواب: دعا کی قبولیت میں آدمی کا تعلق خاطر اس کی محبت اور اس کی خدا تعالی کے سامنے شکستگی اور آزردگی بڑا اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ماں جس کیفیت میں دعا کرے گی، باپ جس طرح روح کی گہرائیوں سے دست بدعا ہو گا، مریض اپنی بے بسی کے جس احساس کے ساتھ خدا تعالی کو پکارے گا، اس کی توقع آپ دوسرے لوگوں سے نہیں کر سکتے۔ اسی طرح یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مظلوم کی پکار سے بچو۔ اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ جس بے بسی اور شکستگی کے ساتھ اپنے رب کو پکارتا ہے، اس میں توقع کی جاتی ہے کہ خدا کی رحمت زیاد ہ متوجہ ہو جائے گی۔
سوال: ایک عام مسلمان کو کیا دعا مانگنی چاہیے؟
جواب: ہر چیز جس کی وہ ضرورت محسوس کرتا ہے، وہ اپنے رب ہی سے مانگے۔
سوال: کئی بار بندہ دعا میں ایسی چیز طلب کر لیتا ہے جو کہ بعد میں اس کے لیے فائدہ مند ثابت نہیں ہوتی۔ کیا اس قسم کی دعا اس کی آزمائش یا سزا کے طور پر قبول ہوتی ہے؟
جواب: اللہ تعالی کوئی ایسی دعا قبول نہیں کرتے جو ان کی اپنی حکمت کے خلاف ہوتی ہے۔ ہاں، البتہ بندہ بعض اوقات کسی آزمائش کے لیے دست بدعا ہو جاتا ہے۔ وہ کوئی ایسی چیز طلب کر لیتا ہے جو اسے طلب نہیں کرنی چاہیے تھی، تواللہ تعالی بطور آزمائش یا بطور سزا اسے وہ چیز دے دیتے ہیں۔
سوال: بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ فرض نماز کے بعد امام کا اجتماعی طور پر دعا کرانا اسلام کے حوالے سے درست نہیں۔ کیا واقعی ایسا ہی ہے؟
جواب: یہ درست ہے کہ احادیث میں جن مواقع پر دعا کے زیادہ قبول ہونے کا ذکر آیا ہے، ان میں فرض نماز کے بعد دعا کرنا بھی شامل ہے، لیکن اس کا جو طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھا، وہ انفرادی دعا ہی کا تھا۔ اگر کوئی نمازی اپنی ضرورت محسوس کرتا تھا تو وہ دعا کر لیتا تھا۔ امام کے اجتماعی طور پر دعا کرنے کا طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہیں تھا، سوائے اس کے کہ کسی موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا کرنے کی درخواست کی گئی۔ مثلا لوگوں نے کہا کہ بارش کے لیے دعا کیجیے یا کوئی معاملہ ہو گیا ہے تو اس کے لیے دعا کیجیے۔ یہ جو آج کل سلسلہ چل پڑا ہے کہ ہر فرض نما ز کے بعد امام صاحب دعا کرائیں اورمقتدی آمین کہیں یہ طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے زمانے میں نہیں تھا اور اب بھی یہ طریقہ صرف پاکستان اور ہندوستان میں رائج ہے۔
سوال: ہمارے ہاں یہ روایت بڑی عام ہے کہ حج یا عمرہ کے موقع پر جب بیت اللہ شریف پر پہلی نظر پڑتی ہے تو اس موقع پر وہ جو بھی دعا مانگے وہ قبول ہوتی ہے، کیا واقعی ایسا ہوتا ہے؟
جواب: اسلام میں کسی مخصوص جگہ کے بارے میں یہ نہیں کہا گیا کہ وہاں اگر دعا کی جائے گی تو وہ لازما قبول ہو جائے گی۔ جو بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ بعض جگہیں اور بعض مواقع دعا کی زیادہ قبولیت کا باعث بنتے ہیں۔ سو فی صد قبولیت کی کوئی بات نہیں۔ اگر سوفی صد دعائیں قبول کر لی جائیں تو ایک دن کے لیے بھی دنیا کا نظام نہیں چل سکتا۔ پرویز مشرف اور نواز شریف اگر ایک ہی وقت میں حرم میں داخل ہوں تو اندازہ کر لیجیے کہ وہ کیا دعا مانگیں گے اور اگر دونوں کی دعا قبول ہو جائے تو کیا نتیجہ ہو گا۔ یہ بات صحیح ہے کہ دعا قبول ہو تی ہے، لیکن وہ بندے کی اپنی بھلائی اور دنیا کی مجموعی حکمت کے لحاظ سے قبول ہوتی ہے۔
سوال: بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان کسی چیز کے بارے میں دعا نہیں کرتا، مگر وہ اسے مل جاتی ہے۔ بغیر دعا مانگے کسی خواہش کی قبولیت کا کیا معیار ہے؟
جواب: بعض اوقات توایسا ہوتا ہے کہ آپ نے الفاظ میں دعا نہیں کی ہوتی، لیکن وہ ہماری شدید تمنا اور خواہش ضرور ہوتی ہے اور اللہ تعالی اسے اپنی حکمت کے مطابق پورا کر دیتے ہیں۔
سوال: عرصہ سے دنیا بھر کے اسلامی ممالک کے ساتھ ساتھ بالخصوص حج بیت اللہ کے موقع پر بھی مسلمانوں کی کامیابی کے لیے دعائیں کی جاتی ہیں، مگر یہ دعائیں قبول نہیں ہو رہیں۔ ان دعا مانگنے والوں میں بڑی بڑی نیک شخصیات بشمول امام کعبہ بھی شامل ہیں۔ آپ مسلمانوں کی ان اجتماعی دعا ئوں کی ناکامی کا کیا تجزیہ کرتے ہیں؟
جواب: بین الاقوامی سطح پر مسلمان جو دعائیں کر رہے ہیں، ان دعائو ں کے بعض تقاضے ہیں جنھیں پہلے پورا کرنا چاہیے۔ بدر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت دعا کی جب مسلمانوں نے اپنی طرف سے سب تقاضے پورے کر دیے۔ بے سروسامانی کے باوجود میدان میں
اترے، پوری فوج سے لڑنے کے لیے تیار ہو گئے۔ ان کے پاس جو کچھ تھا انھوں نے میدان میں رکھ دیا۔ اس کے بعد دعا کی گئی اور قبول ہوئی۔ اب مسلمانوں کو علم و ہنر اور دین و اخلاق میں جو تقاضے پورے کرنے چاہییں، اگر انھیں پورے کر کے دعا کی جائے تو امید ہے کہ اللہ تعالی اسے قبول کرے گا۔ گھر کو تالا لگا کر دعا کی جائے کہ اللہ تعالی اسے روزی دے دے۔ یہ اللہ تعالی کے قانون کے خلاف ہے۔ مختصرا یہ کہ عقلی اور اخلاقی تقاضے پورے کرنے کے بعد ہی دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے جائیں تو پھر بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ دعا قبول نہ ہو۔