Showing posts with label Research. Show all posts
Showing posts with label Research. Show all posts

Sunday, 18 August 2013

The Sun Causes Wrinkles On The Face

Posted by Unknown on 03:37 with No comments

سورج کی روشنی چہرے پر جھریوں کا سبب
اب تک سورج کی روشنی کو وٹامن ڈی کی فراہمی کا بنیادی ذریعہ سمجھا جاتا تھا لیکن حالیہ تحقیق کے مطابق سورج کی تیز شعاعیں چہرے کی جلد پر جھریوں کا سبب بنتی ہیں۔برطانیہ میں ہونے والی حالیہ ریسرچ کے مطابق سورج کی روشنی چہرے پر جھریوں کو بڑھا دیتی ہے ۔برطانوی سائنسدان تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ گھر سے باہر اور کھلی فضا میں کام کرنے والی خواتین ان خواتین کے مقابلے میں جلد بوڑھی ہوجاتی ہیں جو باہر کم نکلتی ہیں،چہرے پر پڑنے والی تیز شعاعیں جلد پر جھریوں کو بڑھا دیتی ہیں جس کی وجہ سے باہر نکلنے والی خواتین جلد بوڑھی دکھائی دیتی ہیں۔
نیویارک… این جی ٹی…دوسروں کی مدد کرنے والوں کو مخلص اور بے غرض سمجھا جاتا ہے لیکن ایک سائنسی تحقیق کے مطابق ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ جی ہاں امریکہ میں ہونے والی ایک تحقیق میں یہ دلچسپ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ جو لوگ دوسروں کے ساتھ اپنی چیزیں بانٹتے یا شئیر کرتے ہیں وہ فطرتاًخود غرض ہوتے ہیں۔ تحقیق میں کہا گیا کہ دوسروں کو اپنی چیزوں میں حصہ دار بنانے والے لوگ دراصل واپسی میں بھی ان سے اسی قسم کا فائدہ چاہتے ہیں۔
نیویارک…این جی ٹی…ذہین ، با صلاحیت اور پر کشش شخصیت کا مالک ہوناکامیابی کی علامات تصور کیا جاتا ہے تاہم ایک نئی تحقیق میں ثابت کیا گیا ہے کہ ہاتھوں کی انگلیوں میں کامیابی کا راز چھپا ہوتا ہے۔یہ دلچسپ دعوی ٰامریکہ میں ہونے والی ایک تحقیق میں کیا گیا ہے جس کے مطابق خواتین کے ہاتھ کی تیسری انگلی انکے مستقبل کے رجحانات ،ذہانت اور کامیابی کا تعین کرتی ہے۔ ایسی خواتین جن کے ہاتھ کی درمیانی انگلی باقی انگلیوں کی نسبت 10سے20 فیصد لمبی ہوتی ہے وہ نا صرف نہایت ذہین ثابت ہوتی ہیں بلکہ کسی بھی قسم کا خطرہ مول لینے سے ذرا بھی نہیں گھبراتیں اور زندگی میں آگے بڑھنے کی جستجو میں مگن رہتی ہیں۔ توبھئی پھرایسی خواتین جن کے ہاتھ کی تیسری انگلی نسبتاً لمبی ہے انکے لئے خوشخبری ہے کہ وہ مستقبل میں ایک کامیاب اور خوشگوار زندگی گزارنے کے ساتھ ساتھ مشہور کاروباری شخصیت بھی بن سکتی ہیں۔
نیویارک…این جی ٹی…طبی ما ہرین کے مطا بق جسما نی مشقت کے بعد تر بو ز کا جسم تھکن اتار نے اور جسم کو مضبو ط بنا نے کے لیے بہترین مشروب ہے ۔وہ افراد جو سخت ورشوں کی کھیل کو دکی سر گر میوں میں مصروف رہتے ہیں و ہ تر بو ز کا شر بت پی کر اپنے عضلا ت کو مضبوط بنا سکتے ہیں ۔ صرف یہیں نہیں ما ہرین کے مطا بق تر بوز کے شر بت دل کے امراض سے محفوظ رکھنے میں بھی معا ون ثا بت ہو تا ہے۔

Saturday, 17 August 2013

طبی ماہرین کے مطابق فیس بک کے استعمال سے تعلقات کے ساتھ ساتھ مشکلات میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ مشی گن یونیورسٹی کے محققین کے مطابق حالیہ تحقیق سے یہ نتائج اخذ ہوئے ہیں کہ وہ لوگ جو روزانہ فیس بک کا استعمال کرتے ہیں ان کے دوسروں سے تعلقات میں اتنا ہی اضافہ ہوتا جاتا ہے جو کہ اکثر اوقات خراب ہوجانے پر برے حالات کا سبب بھی بنتا ہے جس سے ان افراد کی مشکلات میں اضافہ اور خوشیوں میں کمی واقع ہوتی ہے۔ تحقیق کے سربراہ ایتھن کروز نے بتایا کہ تحقیق کے نتائج کیلئے 82 نوجوانوں کو تحقیق کا حصہ بنایا گیا جو کہ فیس بک کا باقاعدگی سے استعمال کرتے تھے اوردو ہفتے مسلسل ان پر تحقیق کے بعد حالیہ نتائج اخذ کئے گئے۔ محققین کے مطابق یہ پہلی ایسی تحقیق ہے جس میں انسانی زندگی پر فیس بک کے اثرات کے بارے میں بتایا گیا ہے جسے سائنسی جریدے ”پلوس“ میں شائع کیا گیا ہے۔

Monday, 5 August 2013

ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ لمبے قد کی عورتوں کو کینسر جیسی مہلک بیماری ہونے کے زیادہ خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ یہ تحقیق امریکن ایسوسی ایشن آف کینسر ریسرچ میں کی گئی۔ تحقیق کے دوران پچاس سے 80 سال کی ایک لاکھ 45 ہزارعورتوں کے خون کے نمونے لیے گئے۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کے دراز قد خواتین کو کینسر ہونے کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ لمبے قد کی وجہ سے انسانی جسم میں ہارمون کے اخراج پر زیادہ اثر ہوتا ہے جس کی وجہ سے کینسر میں مبتلا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
این جی ٹی…نیند پوری نہ ہونے کے کئی نقصانات ہیں لیکن ایک نئی تحقیق کے مطابق نیند کی کمی خواتین کے چہرے پر جھریاں بڑھانے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔جی ہاں امریکہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق کے مطابق کم سونے والی خواتین میں بڑھاپے کے آثار بہت تیزی سے نمایاں ہونے لگتے ہیں جو ان کی جلد کو قبل از وقت بڑھاپے کا شکار کردیتی ہے۔تحقیق کے مطابق صحیح نیند لینے والی خواتین کی جلد میں خرابی کافی تیزی سے ٹھیک ہوتی ہے اور ایسی خواتین خود کو پرکشش بھی سمجھتی ہیں۔واضح رہے کہ نیند کی کمی موٹاپے، ذیابیطس، کینسر اور دیگر امراض کا سبب سمجھی جاتی ہے مگر یہ پہلی بار ہے کہ انسانی جلد پر بھی اس کے مضر اثرات سامنے آئے ہیں۔
این جی ٹی…برطانیہ میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق بچوں میں صابن اور صاف پانی کا استعمال نا صرف صفائی کے حوالے سے اہم ہے بلکہ یہ بچوں کا قد بڑھانے میں بھی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔دنیا بھر سے جمع کردہ اعداد و شمار کے جائزے میں یہ بات سامنے آئی کہ جن گھروں میں صفائی کا خاص اہتمام ہوتا ہے وہاں پانچ برس سے کم عمر بچوں کے قد میں تقریبا آدھے سینٹر میٹر کا اضافہ پایا گیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ صفائی کے فقدان سے بچے بار بار بیمار ہو جاتے ہیں جس کا اثر ان کے قد پر پڑتا ہے اور افزائش میں بہتری کے لیے پانی اور صفائی ستھرائی بھی انتہائی ضروری ہیں۔
این جی ٹی…کہتے ہیں کہ نیکی کبھی رائیگاں نہیں جاتی اور اب تو اس بات کو سائنسدانوں نے بھی تسلیم کر لیا ہے۔ جی ہاں امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق دوسروں کی مدد کرنا دوسروں کیلئے تو فائدہ مند ثابت ہوتا ہی ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ مدد کرنے والے کی اپنی جسمانی صحت کیلئے بھی انتہائی مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جب ہم کسی کی مدد کیلئے آگے بڑھتے ہیں تو ہمارے جینز میں انتہائی خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں اور جو لوگ دوسروں کی مدد کرنے میں مصروف رہتے ہیں ان کے اندر جراثیم سے لڑنے والے اینٹی باڈیز جینز کا نظام بھی انتہائی مضبوط ہو جاتا ہے۔ تحقیق میں کہا گیا کہ فقط اپنی ذات تک محدود رہنے والے لوگوں کے مقابلے میں کسی مقصد کے تحت زندگی گزارنے والوں کی قوتِ مدافعت بھی مضبوط ہوتی ہے۔

Monday, 22 July 2013

You Do Not Know The Secrets Of The Brain

Posted by Unknown on 04:25 with No comments
دماغ کے راز جو آپ نہیں جانتے

گزشتہ برس سائنسدان انسانی جسم کے کئی عجائبات جان چکے لیکن وہ دماغ کے اسرار سے واقف نہیں ہو سکے۔ تاہم سائنسی تحقیق کے باعث رفتہ رفتہ نئے نئے راز افشا ہو رہے ہیں۔ انہی میں سے حیرت انگیز انکشاف پیش خدمت ہیں۔

(۱) ۱۰۰ارب عصبی خلیے

انسان جب کوئی بات یاد کرنے کی کوشش کرے تو کچھ دیر لگتی ہے۔ ایسی حالت میں بعض لوگ اپنی یادداشت کو بُرا بھلا کہتے ہیں۔ حالانکہ اس میں بیچارے دماغ کا کوئی قصور نہیں ہوتا۔ دراصل ہمارا دماغ ۱۰۰ ارب عصبی خلیوں کا مجموعہ ہے۔ جب ہم کوئی بات یاد کرنے کی سعی کریں تو ہمارے احکامات دماغ میں فی سیکنڈ ۵۰ تا ۱۲۰ میٹر کی شرح سے دوڑتے ہیں۔ چنانچہ احکامات بجالانے میں کچھ دیر لگ جاتی ہے۔ ایک اور دلچسپ بات: انسانی دماغ کا وزن صرف ۳ پائونڈ ہے لیکن وہ اپنی سرگرمیاں انجام دیتے ہوئے جسمانی توانائی کا ۲۰ فیصد استعمال کرتا ہے۔

(۲) گوگل دماغ کو کمزور بنا رہا ہے

۲۰۱۱ء میں کولمبیا یونیورسٹی امریکا کے محققوں نے بعدازتحقیق دریافت کیا ہے کہ انسان جب انٹرنیٹ استعمال کرے تو سوچ بچار پر کم اور یادداشت پر زیادہ توجہ دیتا ہے۔ لیکن یہ امر دماغ کو کمزور کرتا ہے اور وہ کئی باتیں بھولنے لگتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ غوروفکر پر زیادہ دھیان دیں۔

(۳) ردّی (Junk) غذائیں اور منشیات

چند ماہ قبل ولندیزی ماہرین نے ایک انوکھا تجربہ کیا۔ انھوں نے پانچ لوگوں کے سامنے برگر، چرغہ، چپس وغیرہ کے نام بولے۔ تب ان کے دماغ میں وہی حصے متحرک ہوگئے جو منشیات استعمال کرنے والوں کے دماغوں میں بھی تحرک پیدا کرتے ہیں۔ ماہرین کی رو سے یہ تحرک ہم میں جوش و جذبہ اور لذت پیدا کرنے والے ہارمون، ڈوپامائن سے جنم لیتا ہے۔

(۴) موسیقی اور بیتی یادیں

انسان کی یادداشت میں بچپن کے سنے گانے محفوظ رہتے ہیں۔ ۲۰۱۰ء میں ایک تجربے سے انکشات ہوا کہ آدمی جب بچپن میں سُنا کوئی گانا سُنے، تو اُسے بہت سی خوشگوار یادیں یاد آجاتی ہیں۔ اس کا موڈ بھی بہتر ہوجاتا ہے۔

(۵) پیشین گوئی کرنے کی صلاحیت

جدید تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دماغ کا سب سے اگلا حصہ، فرنٹ پولر کارٹیکس (Frontpolar Cortex) ماضی کے تجربات سے نتائج اخذ کرکے مستقبل کی پیشین گوئی کر سکتا ہے۔ وہ ذہنی طور پر فوق البشر طاقت (سپرپاور) نہیں رکھتا تاہم تجربوں کے بل پر مختصر مدتی پیشین گوئیاں کرنے کے قابل ہے۔

(۶) دماغی کمپیوٹر کھیل مفید نہیں

ایک تجربے میں ماہرین نے ۲۰بچوں کو ۳ ماہ تک کمپیوٹر میں کھیلے جانے والے دماغی کھیل (Computer Games) کھلائے۔ اس دوران بچے بعض سرگرمیاں بہتر انجام دینے لگے۔ مگر ماہرین نے یہی نتیجہ اخذ کیا کہ دماغی کھیل کام یا یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیتوں پر مثبت اثرات نہیں ڈالتے۔ اس کے بجائے موسیقی سننا یادداشت تیز کرتا ہے۔ امریکی یونیورسٹی، سٹانفورڈ نے بعداز تحقیق جانا ہے کہ موسیقی سننے والا اپنے کام منظم طریقے سے کرتا، توجہ دیتا، پیشین گوئیاں کرتا اور اپنی یادداشت اپ ڈیٹ کرتا رہتا ہے۔

(۷) مرد اور خواتین کا دماغ

وزن کے لحاظ سے مردوں کا دماغ خواتین کی نسبت ۱۰فیصد زیادہ بھاری ہوتا ہے۔ لیکن مرد کھیسیں نہ نکالیں، بڑے دماغ کے باعث وہ زیادہ ذہین نہیں ہوتے، بس اس قابل ہوجاتے ہیں کہ جسمانی کام بہتر طور پر کرسکیں۔

(۸) دماغ کا شباب

انسان جب ۲۰ سے ۲۷سال کے درمیان عمر رکھے، تو اس کی دماغی صلاحیتیں عروج پر ہوتی ہیں۔ گویا تب دماغ اپنے شباب پر ہوتا ہے۔ ۲۷ سال کے بعد یادداشت کمزور ہونے لگتی ہے۔ اگرچہ دماغی صلاحیتیں خاصی حد تک برقرار رہتی ہیں۔ ۴۵ سال کے بعد انھیں زوال آنے لگتا ہے۔ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ دماغ اور ذہنی صلاحیتوں کو توانا رکھنے کے لیے مخصوص غذائیں مثلاً نیلی بیریاں (Blueberries)، اخروٹ وغیرہ کھائیے۔ یہ یادداشت کھونے کے مرض نِسیان اور الزائمر سے انسان کو محفوظ رکھتیں اور ایسیٹل کلوینین (Acetylecholine) کی شرح بڑھاتی ہیں۔ یہ ہارمونی مادہ یادداشت بہتر بناتا ہے۔

(۹) موبائل فون دور رکھیے

جدید تحقیق سے ثابت ہوچکا کہ روزانہ موبائل کا حد سے زیادہ استعمال دماغ کے لیے مضر ہے۔ بلکہ وہ دماغی کینسر بھی پیدا کر سکتا ہے۔ مزیدبرآں انسان میں نیند اور گھبراہٹ کے مسائل پیدا کرتا ہے۔ لہٰذا موبائل زیادہ استعمال نہ کیجیے یا پھر ہیڈسیٹ یا ائیرپیس سے مدد لیں۔

(۱۰) سدا جاگتے دماغی حصے

انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ رات کو اچھی نیند لے کیونکہ یوں یادیں مستحکم ہو جاتی ہیں۔ اگرچہ سوتے ہوئے بعض دماغی حصے بدستور بیدار رہتے ہیں۔ دراصل وہ یادوں کو پروسیس کرتے اور غیراہم یادوں کو مٹا ڈالتے ہیں۔

(۱۱) خوش رہیے، عمر بڑھائیے

تحقیق سے ثابت ہوچکا کہ امیدپرست افراد مایوس لوگوں سے زیادہ جیتے ہیں۔ لیکن باعث مسرت بات یہ ہے کہ جینز زندگی کا نقطہ نظر بنانے میں صرف ۳۰، ۴۰ فیصد کردار ہی ادا کرتے ہیں۔ چنانچہ کوئی مایوس اُمیدبھرا نقطہ نظر اپنانا چاہے تو وہ بتدریج اپنے خیالات بدل کر مثبت زندگی گزار سکتا ہے۔

(۱۲) مراقبہ اور ذہنی صحت

ماہرین کا کہنا ہے کہ جو انسان آٹھ ہفتوں تک روزانہ ۳۰ منٹ مراقبہ کرے، اس سے ان دماغی علاقوں کو تقویت پہنچتی ہے جو یادداشت، احساسِ خودی، ہمدردی اور ذہنی دبائو (سٹریس) سے متعلق ہیں۔ مراقبے کا بہترین طریقہ کار یہ ہے کہ کوئی سکون بخش لفظ دل ہی دل میں دہراتے رہیے تاکہ انتشار پھیلانے والے خیالات دماغ پر حملہ آور نہ ہوں۔ یا پھر نظام تنفس پر توجہ مرتکز کیجیے تاکہ خیالات بھی مرکوز رہیں۔

(۱۳) مصروفیت کا مطلب تندرست ہونا نہیں

کئی مردوزن دفتر یا گھر میں مصروف رہ کر سمجھتے ہیں کہ اپنی سرگرمیوں کی بدولت وہ تندرست (فٹ) رہیں گے۔ لیکن دفتری یا گھریلو مصروفیت ورزش کا نعم البدل نہیں ہو سکتی جو دماغ کے لیے بہت مفید ہے۔ ورزش کے ذریعے دماغ خود کو تازہ دم کرتا اور کئی بیماریوں مثلاً الزائمر سے بچاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روزانہ کم از کم ۳۰ منٹ کی ورزش کیجیے۔ اس کا طریق کار یہ ہے کہ اپنی گاڑی ذرا دور کھڑی کریں تاکہ چلنے کا موقع ملے، سیڑھیاں چڑھیے اور اپنے دیگر کام کیجئے جن میں بدن حرکت کرے۔

(۱۴) دماغ کے لیے مفید غذائی عناصر

ان عناصر میں اومیگا۔ تھری تیزاب، کولائن، پیچیدہ (Complex) نشاستے اور مانع تکسیدی (Antioxidants) مادے شامل ہیں۔ اومیگا۔تھری تیزاب دماغ کی دانشورانہ صلاحیتیں بڑھاتے ہیں۔ کولائن (Choline) وٹامن بی کی ایک قسم ہے۔ یہ حیاتین انڈوں اور دیگر غذائوں میں ملتا ہے۔ یہ جسمانی تھکن کم کرکے دماغی چستی میں اضافہ کرتا ہے۔ نیز یادداشت بڑھاتا اور ذہنی دبائو دُور کرتا ہے۔ پیچیدہ نشاستے اور مانع تکسید مادے بھی دماغی کارکردگی بہتر کرتے ہیں۔

(۱۵) ہنسی واقعی بہترین دوا ہے

تجربات سے ثابت ہوچکا کہ جب انسان ہنسی یا قہقہہ سنے، تو دماغ کے دو حصوں، ایمی گڈالا (Amygdala) اور ِہپو کیمپس (Hippocampus) پر خوشگوار اثرات پڑتے ہیں۔ یہ دونوں حصے انسان میں ڈیپریشن پیدا کرتے ہیں۔ مزیدبرآں ایک اور علاقہ، نیوکلس اکومبنز (Accumbens) بھی متحرک ہوتا ہے۔ یہ انسان میں مسرت بخش جذبات جنم دیتا ہے۔ ہنسنے سے انسان میں سٹریس پیدا کرنے والے ہارمونوں کی افزائش رکتی اور خون کا درجہ حرارت کم ہوتا ہے۔ یوں حملہ قلب (ہارٹ اٹیک) اور فالج کے حملے سے انسان کو نجات ملتی ہے۔ چند ماہ قبل واشنگٹن یونیورسٹی میں ایک تجربے سے انکشاف ہوا کہ آدمی جب بچوں کی ہنسی اور کلکاریاں سنے، تو اس میں ہارمون آکسی ٹوسین کی مقدار بڑھتی ہے۔ یہ ہارمون ہمارے اندر خوشی کا احساس بڑھاتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ انٹرنیٹ میں ہنسنے والے بچوں کی ویڈیو بہت مقبول ہیں۔

(۱۶) بلندفشارِخون پر نگاہ رکھیے

بلندفشارِخون یا ہائپرٹینشن دور جدید کا ایسا خطرناک مرض ہے جسے کئی لوگ سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ حالانکہ یہ مرض دماغ اور دل پر بے پناہ دبائو ڈالتا اور انھیں کمزور کر دیتا ہے۔ اس لیے بلندفشارخون (بلڈپریشر) کا علاج کجیے اور خصوصاً اُسے قابو سے باہر نہ ہونے دیں۔

(۱۷) ذیابیطس سے بھی بچیے

نیویارک یونیورسٹی کے ماہرین گذشتہ ۹ برس سے یہ تحقیق کر رہے تھے کہ ذیابیطس کے جو مریض اپنے خون کی شکر قابو میں نہیں رکھتے، ان پر کیسے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جون ۲۰۱۲ء میں تحقیق کے جو نتائج شائع ہوئے۔ اُن سے ایک بڑا انکشاف یہ ہواکہ ذیابیطس رفتہ رفتہ دماغ کو کمزور کر دیتا ہے۔ لہٰذا اگر آپ ذیابیطس کے مریض ہیں تو اس مرض پر قابو پائیں اور خون میں شکر کی سطح اعتدال پر رکھیں۔

Tuesday, 16 July 2013

facebookایک نئی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک کی ہر پوسٹ آپ کی اندازوں سے تین گنا زائد دیکھی جاتی ہے۔
امریکا کی اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ کے صارفین اکثر اپنی پوسٹ کے بارے میں غلط اندازہ لگاتے ہیں کہ انہیں دیکھنے والا کوئی نہیں اور یہ کسی کو پسند نہیں آئی۔
تاہم تحقیق میں کہا گیا ہے کہ فیس بک پر کوئی بھی لوگوں کی توقعات سے تین گنا زائد بار دیکھی جاتی ہے تاہم لائک یا کمنٹس نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو بھی یہ معلوم نہیں ہوپاتا۔
تحقیق کے مطابق فیس بک کو معلوم ہوتا ہے کہ کتنے لوگ کونسی پوسٹ کتنی بار دیکھ چکے ہیں مگر اس ڈیٹا کو عام صارفین کی بجائے صرف ایڈورٹائزرنگ ایجنسیوں سے شیئر کیا جاتا ہے۔
تحقیق میں مزید بتایا گیا ہے کہ فیس بک صارفین اپنے دوستوں کی 35 فیصد تمام پوسٹس کو دیکھ ہی لیتے ہیں، جبکہ کم از کم مہینے میں ایک بار تو 61 فیصد دوستوں کی کوئی پوسٹ ان کی نظروں کے سامنے سے ضرور گزرتی ہے۔
تحقیق میں یہ دلچسپ بات بھی سامنے آئی ہے کہ لوگ اس صورت میں خوش رہتے ہیں اگر انہیں معلوم ہو کہ ان کی پوسٹ کو بہت کم لوگوں نے دیکھا مگر اسے پسند کیا، تاہم اگر بہت زیادہ لوگ اسے دیکھے اور بہت کم پسند کرے تو یہ چیز ان کا دل دکھا دیتی ہے۔

Friday, 12 July 2013

اسمارٹ فون یا دیگر جدید ڈیوائسز سے جدائی اب برطانوی عوام کو کسی صورت برداشت نہیں اور وہ ایسا ہونے کی صورت میں ذہنی تناؤ اور کنٹرول سے باہر ہوجاتے ہیں۔

یہ بات ایک نئی سروے نما تحقیق میں سامنے آئی ہے۔

تحقیق کے مطابق 51 فیصد برطانوی افراد اپنےاسمارٹ فونز، ٹیبلیٹس یا دیگر ڈیوائسز سے الگ ہونے پر انتہائی خوفزدہ اور فکرمند ہوجاتے ہیں۔

تحقیق میں 44 فیصد نےاعتراف کیا کہ اسمارٹ فونز سے جدائی انہیں پریشان کئے رکھتی ہے جبکہ 37 فیصد تو اپنی ذات پر کنٹرول ہی کھوتا ہوا محسوس کرتے ہیں۔

28 فیصد افراد نے ذہنی تناؤ اور 35 فیصد افراد نے تھوڑی بہت پریشانی کی شکایت کی۔

تحقیق میں 58 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ انہیں ڈر ہے کہ اگر ان کی ڈیوائس کسی اور کے ہاتھ لگی تو وہ کوئی ایسی پوسٹ نہ کردے جو انہیں دوسروں کے سامنے شرمندہ کردے۔

Thursday, 11 July 2013

Women Under Pressure On Facebook

Posted by Unknown on 18:39 with No comments
خواتین فیس بک پر دباؤ کا شکار

ہر 10 میں سے 4 خواتین آن لائن اپنی تصاویر پوسٹ کرنے سے پہلے انکی نوک پلک سنوارتی ہیں۔

یہ بات ایک نئی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔

تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ڈیجیٹل فوٹو ز نے خواتین پر دباؤ بہت بڑھا دیا ہے اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس جیسے فیس بک، ٹیوئیٹر یا انسٹاگرام وغیرہ میں اسے شیئر کرنے سے پہلے ان پر اچھا نظر آنے کا پریشر ہوتا ہے۔

تحقیق کے مطابق ہر 10 میں سے 9 خواتین نے اعتراف کیا ہے کہ اس رجحان کے باعث وہ کیمرے کے سامنے سے ہچکچاتی ہیں، جبکہ 75 فیصد کو اپنی تصاویر غیر پرکشش، بدصورت یا زیادہ موٹی نظر آتی ہیں۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس دباؤ کے باعث تین چوتھائی خواتین اپنی تصاویر خود ہی ختم یا ڈیلیٹ کردیتی ہیں، جبکہ 41 فیصد تصویر پوسٹ کرنے سے پہلے اسے ایڈٹ کرکے زیادہ بہتر بناتی ہیں۔

Traffic Smoke Causes Lung Cancer

Posted by Unknown on 01:41 with No comments
ٹریفک کا دھواں پھیپھڑوں کے کینسر کا سبب

ٹریفک کے دھوئیں کی معمولی مقدار بھی پھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔

یہ بات ایک نئی یورپی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ہوائی آلودگی بھی تمباکو نوشی کی طرح اس مہلک مرض کی وجہ بن سکتی ہے۔

 نو یورپی ممالک کے لاکھوں افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لینے کے بعد مرتب کی جانے والی تحقیق کے مطابق پھیپھڑوں کے کینسر کے 14 فیصد واقعات کا سبب ٹریفک سے خارج ہونے والی زہریلی گیسیں ہیں۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ٹریفک سے خارج ہونے والی گیسوں کی ہوا میں 10 مائیکرو گرام فی کیوبک میٹر اضافے سے اس جان لیوا کینسر کا خطرہ 22 فیصد بڑھ جاتا ہے۔

تحقیقی ٹیم کے قائد اور ڈینش کینسر سوسائٹی ریسرچ سینٹر سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر اول راسچو نیلسن کا کہنا ہے کہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ٹریفک کی صورتحال ہمارے اندازوں سے زیادہ صحت کو متاثر کررہی ہے۔

Tuesday, 9 July 2013

یہ بات تو اب سچ ہوگئی ہے کہ اس جدید دور میں حقیقی محبت تلاش کرنا آسان نہیں اور مرد حضرات تو ہر وقت کیوپڈ کے تیر کا ہدف بننے کے لئے تیار نظر آتے ہیں۔

ایسا دلچسپ دعویٰ برطانیہ میں ہونے والی ایک سروے نما تحقیق میں سامنے آیا ہے۔

تحقیق کے مطابق اب بیشتر افراد پہلی ملاقات میں ہی دل ہار بیٹھتے ہیں، خصوصاً مرد اس معاملے میں خواتین سے بہت آگے ہیں جن کی 29 فیصد اکثریت کسی بھی نئی خاتون سے ملتے ہی اپنا دل ہار بیٹھتی ہے۔

اس معاملے میں خواتین زیادہ مستعد نہیں اور وہ ممکنہ شریک حیات کی ظاہری روپ کی بجائے شخصیت اور دلچسپیوں کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کرتی ہیں، تاہم سروے میں ہر پانچ میں سے ایک خاتون نے بھی پہلی نظر میں گرفتار محبت ہونے کا اعتراف کیا۔

Monday, 8 July 2013


موبائل فون کا زیادہ استعمال صحت کیلئے نقصان دہ


موبائل فونز کا بہت زیادہ استعمال صحت کے نقصان دہ قرار دے دیا گیا۔یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں کیا گیا ہے۔
ریاست اوہائیو کی کینٹ اسٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق جو لوگ 14 یا اس سے زائد گھنٹے موبائل فون استعمال کرتے ہوئے گزارتے ہیں وہ جسمانی طور پر زیادہ چاق و چوبند اور فٹ نہیں ہوتے۔
تحقیق میں کہا گیا ہے کہ موبائل ڈیوائس کو زیادہ استعمال کرنے والے افراد سست طرز زندگی یا تفریح کے ذرائع جیسے گیمز یا فلمیں وغیرہ دیکھنے کو بھی بہت زیادہ ترجیح دینے لگتے ہیں۔
تحقیق میں مزید کہا گیا ہے کہ جسمانی سرگرمیوں میں کمی سے ذیابیطس، موٹاپے، امراض قلب اور بلڈ پریشر جیسے متعدد جان لیوا امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

Friday, 5 July 2013

خشک انگور یعنی” کشمش” میں تمام غذاؤں کے مقابلے میں زیادہ اینٹی آکسیڈنٹ پائے جاتے ہیں،اس میں وٹامن سی اور فائٹو کیمیکلز کی مقدار بھی زیادہ ہوتی ہے۔
جدید تحقیق کے مطابق  کشمش میں تازہ انگور کی نسبت صحت بخش اینٹی آکسیڈنٹ کی مقدار تقریباً تین گناہ زیادہ ہوتی ہے۔
کشمش میں غذائیت بخش اجزاء کی مقدار زیادہ ہوناحیران کن بات نہیں کیونکہ خشک پھلوں میں مرکبات زیادہ مقدار میں یکجا ہوتے ہیں۔
سرخ اور سبز انگور کی خشک شکل میں ایسے کیمیائی مادے ہوتے ہیں جو عمل تکسید کے تباہ کن اثرات میں جسمانی خلیات کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
دن بھر میں اگر 30 گرام کشمش کھائی جائے تو یہ 170 گرام انگور کھانے کے برابر ہے۔
کشمش سے جسم کو پوٹاشئیم، فائبر اور بعض منرلز کی بھی قابل ذکرمقدار حاصل ہوتی ہے،خشک پھلوں میں شکر کی مقدار بھی زیادہ ہوتی ہے جس کے نتیجےمیں حرارے بھی بڑھ جاتے ہیں۔
 کشمش ہلکے پھلکے ناشتے کے طور پر کھانے والی بہترین چیز ہے، طبی ماہرین بچوں کو سویٹس اور ٹافی کی جگہ کشمش اور اسی طرح کی دیگر خشک میوہ جات  خوبانی، آلو بخارا، منقہ، اور کھجور کھلانے کا مشورہ دیتے ہیں۔
 کشمش قبض کشا بھی ہے، تیزا بیت اور گیس میں مفید ہے،  یہ  کمزور لوگوں کا وزن بڑھاتی ہے، جسم کے کولیسٹرول میں اضافہ نہیں کرتی،خون کی کمی دور کرتی ہے، وائرس اور جراثیم سے ہونے والے بخار کو کم کرتی اور ہڈیوں کو مضبوط بناتی ہے۔

Wednesday, 3 July 2013

کافی یاچائے نوشی رکھے بلڈ پریشر سے محفوظ

کافی یا چائے نوشی کے شائقین ان مشروبات سے دور رہنے والے افراد کے مقابلے میں بلڈ پریشر مرض سے کافی حد تک محفوظ رہتے ہیں۔

یہ بات فرانس میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔

پیرس کے پریوینٹو اینڈ کلینیکل انویسٹی گیشن سینٹر کی تحقیق کے مطابق ہائی بلڈ پریشر سے امراض قلب، فالج اور دیگر سنگین امراض کا خطرہ کافی بڑھ جاتا ہے، تاہم اس مسئلے پر باآسانی قابو پایا جاسکتا ہے۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ کافی یا خصوصاً چائے کے روزانہ 4 یا اس سے زائد کہ استعمال کرتے ہیں ان میں بلڈ پریشر میں کم اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ ان کی دل کی دھڑکن اور دباؤ بھی کافی کم رہا۔

محقق ڈاکٹر برونو پاننیر کے مطابق چائے میں شامل جز فلیونوائڈ سے خون کی رگوں کو سکون ملتا ہے اور اس سے بلڈ پریشر کم ہوتا ہے۔

Tuesday, 2 July 2013

ایک چپ ہزار تکلیفوں سے بچالیتی ہے، اس میں حقیقت ہے یا نہیں مگر سائنس کا تو کہنا ہے کہ بیوی یا شوہر سے لڑائی کے دوران آپ کی خاموشی کسی بڑے فساد کو بچالیتی ہے۔
یہ دلچسپ دعویٰ سان فرانسسکو یونیورسٹی نے اپنی ایک تحقیق میں کیا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ لڑائی سے بچنے کے لئے چہل قدمی یا کسی کام میں مصروف ہوجانا کوئی اچھا طریقہ نہیں بلکہ خاموشی سے بات سننا آگ پر پانی ڈالنے کا کام کرتا ہے۔
اس سے پہلے سمجھا جاتا تھا کہ جھگڑے کے دوران خاموشی سے فساد زیادہ بڑھتا ہے مگر جی ایسا بالکل نہیں اب تو اس تحقیق میں ثابت کردیا گیا ہے یہ تو باعث امن ہے۔

Monday, 1 July 2013

Going to The Beach Also Useful For Health

Posted by Unknown on 23:21 with No comments

ساحل سمندر پر جانا صحت کے لئے بھی مفید

کیا آپ کسی ساحل پر جا کر خود کو تروتازہ یا پرسکون محسوس کرنے لگے ہیں؟ اگر ہاں تو سائنس نے اس کی وجہ ڈھونڈ لی ہے۔

ایکسٹر یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق سمندر کے قریب وقت گزارنے کے بہت زیادہ طبی فوائد ہوتے ہیں۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا ہے کہ جب کوئی شخص کسی ساحل پر جاتا ہے تو وہ پرسکون تو محسوس کرتا ہی ہے تاہم اس کے ساتھ ساتھ اس کی صحت کو بھی فائدہ ہوتا ہے۔

محقق مچل وائٹ کے مطابق جو لوگ ساحل کے قریب رہتے ہیں وہ صحت کے اعتبار سے مضافات یا شہر کے مرکز میں رہنے والے افراد سے بہتر ہوتے ہیں۔

تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ساحل کے قریب عام طور پر امیر افراد ہی رہائش پذیر ہوتے ہیں تاہم متوسط یا نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والے وہاں وقت گزار کر بھی کافی فوائد سمیٹ سکتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق سمندر کے قریب جانے سے اندرونی تناؤ کم ہوتا ہے اور جسمانی سرگرمیوں کے لئے حوصلہ ملتا ہے۔