Showing posts with label New Technology. Show all posts
Showing posts with label New Technology. Show all posts

Tuesday, 24 September 2013


سیوٴل…این جی ٹی…با دلوں کو چھونے کی خواہش تقریبا ً ہر دل میں ہوتی ہے جسے پوری کرنا اب ممکن ہے ۔ کورین فنکاروں کے تیار کردہ اس منفرد فن پارے کے ذریعے نہ صرف بادلو ں کو چھونے کی خواہش پوری کی جا سکتی ہے بلکہ ان کے ساتھ کھیل انہیں اپنی مرضی کا رنگ روپ بھی دے سکتے ہیں۔ اس ملٹی میڈیا پروجیکشن آرٹ ورک کو دیکھنے والے نہ صرف بچے بلکہ بڑے بھی اس کا لطف اٹھا کر اپنے بچپن کے خواب کو پورا کر کے خوشی سے ہنستے مسکراتے نظر آتے ہیں۔

 جرمنی میں دنیا کی سب سے لمبی بس تیار کی گئی ہے جس کی کل لمبائی 101فٹ ہے۔سفید رنگ کی اس بس میں لمبائی کی مناسبت سے 256افراد باآسانی اس میں بیٹھ کر ایک سے دوسری جگہ سفر کر سکتے ہیں۔ تین بسوں کو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کر ایک مکمل شکل میں تیار کی گئی اس بس کو چلانے میں کسی دشواری کا بھی سامنا نہیں کر نا پڑتا کیو نکہ تیاری کے مراحل میں کئی تجربات کے بعد اسے حتمی شکل دی گئی ہے۔ بجلی کی طاقت سے چلنی والی اس بس کو انفرادیت کے باعث ورلڈ ریکارڈ بکس میں بھی شامل کیا جا چکا ہے۔

Wednesday, 21 August 2013



سیوٴل…این جی ٹی…آرماڈیلو جیسی گاڑیاں آج تک سائنس فکشن فلموں میں ہی نظر آتی تھیں تاہم کوریا کے ذہین دماغوں نے اسے حقیقت بنا ڈالا ہے۔ کوریا کے ایڈوانس انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے انجینئرز نے آرماڈیلو ٹی(Armadillo-T)نامی الیکڑک گاڑی ڈیزائن کرڈالی ہے جو پارکنگ کے وقت تہہ ہوکر آدھی رہ جاتی ہے۔992پونڈ وزنی یہ گاڑی37میل فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے جس کی اصل لمبائی110انچ ہے جو تہہ ہوجانے کے بعد فقط65انچ رہ جاتی ہے۔ فقط دس منٹ میں چارج ہوجانے کی صلاحیت رکھنے والی یہ الیکٹرک کار مکمل چارج کیساتھ62میل تک کا سفر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

Tuesday, 20 August 2013



نیویارک…این جی ٹی…امریکہ میں ایک ایسی گاڑی بنالی گئی ہے سڑک پر دوڑنے کے ساتھ ساتھ ہوا میں پرواز بھی کر سکتی ہے ۔Terrafugia Transitionنامی اس کار کی امریکہ میں پہلی بار ایک ائیر شو میں عوام کے سامنے پیش کیا گیا ۔ جدید ٹیکنالوجی کا مظہر یہ گاڑی اس انداز میں تیار کی گئی ہے کہ یہ ایک جہاز میں بھی تبدیل ہو سکتی ہے جس میں ایسے خصوصی پر لگائے گئے جو بٹن دبانے پر کھل جائیں گے ۔ یہ گاڑی ایک سو پندرہ میل فی گھنٹہ کی دوڑنے اور سوknotsکی رفتارسے اڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے جس کی آٹھ گھنٹے کی کامیاب آزمائشی پرواز بھی کی جاچکی ہے ۔

Tuesday, 16 July 2013

drone-ready
Nokia lumia 1020  کولانچ ہوئے چند ہی دن ہوئے ہیں لیکن فرنچ UAS(unmanned aerial systems) کمپنی کا کہنا ہے کہ Lehman Aviation فوٹوگرافی ڈرون کے بنائےجانے کی بات کررہا ہے کہ LA300 ڈرون کی بدولت 15 کلو میٹر اونچائی سے 41 میگا پکسل ریزولوشن والی تصاویر بنائی جاسکتی ہے۔
مینوفیکچررز کےمطابق یہ ڈرون مکمل طور پرآٹومیٹک ہےاوراسے اس طرح سےڈیزائن کیاگیا کہ اسے بغیر پائلٹ کےکوئی بھی باآسانی آپریٹ کرسکتاہے۔
کمپنی کادعویٰ ہے کہ ہائی ریزولوشن اسمارٹ فون  کیمرااستعمال کرنے کا یہ دنیا کا پہلا ڈرون ہے، فی الوقت نوکیا ہی ہے جس کے اسمارٹ فون میں ہائی ریزولوشن والا کیمرا موجود ہے۔
یہ ڈرون فوم اور کاربن فائبر سےبنایاگیاہے، پرواز کیلئےاس میں 92 سینٹی میٹر کا پنکھا لگارکھاہے جبکہ نوکیا لومیا 1020 نصب کرنے کیلئے جگہ بھی بنائی گئی ہے، فون سمیت اس پورے ڈرون کا وزن 950 گرام ہے۔
اس ڈرون کواونچائی سےتصاویر یا نقشے بنانے کے پیشہ ورانہ استعمال کیلئے ڈیزائن کیاگیاہے، یعنی عمارتوں کی تعمیر کیلئے اونچائی سے کسی مقام کی نشاندہی کرنا یا علاقے کا نقشہ بنانا ہوتو یہ اس میں استعمال ہوسکتا ہے۔
drone-ready-2اس ڈرون کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ Windwos 8 ٹیبلٹ سے بھی کنٹرول ہوسکتا ہے۔Operation Centre نامی آپلیکیشن کے بدولت ڈرون کے پورے روٹ کو اپنی اسکرین پرترتیب دیاجاسکتا ہے، ڈرون کواڑانے کے بعد یہWi-Fi کے ذریعےاپنے طے شدہ روٹ پرچلتاہوااپنے مقررہ مقام پر لینڈ کرسکتا ہے۔
یہ ڈرون 15 کلو میٹر اونچائی تک 80 کلو میٹر فی گھنٹہ رفتار کے ساتھ جاسکتا ہے اور یہ ڈرون تقریباً 30 منٹ تک فضاء میں اڑنے کے صلاحیت رکھتا ہے۔
LA300 ڈرون کی قیمت 4990 یورو یعنی 7153  امریکی ڈالر ہے۔
droneپہلی نظر میں تو یہ بالکل غیرمعمولی لگے گا مگر ایک کی بورڈ، ایک سائیکل کا پہیہ اور ٹیلیفون اگر ڈرون بنے نظر آئے تو کیا ہو؟
جی ہاں ایک ڈچ موجد جیسپر وان لیوڈین نے ان چند معمولی چیزوں کی مدد سے ایسی کٹ تیار کی ہے جس کے ذریعے کسی بھی چیز کو ڈرون بناکر اڑانے کا شوق پورا کیا جاسکتا ہے۔
اس کٹ میں تھری ڈی پرنٹڈ پلاسٹک شکنجہ، 4 موٹرز، بلیوٹوتھ موڈیول، اوپن پائلٹ سی سی تھری ڈی فلائٹ کنٹرولر اور دیگر چیزیں موجود ہیں، جس کے ذریعے تاریں وغیرہ جوڑ کر کسی بھی روزمرہ کی شے کو ڈرون کی طرح اڑانے کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے۔
ڈچ موجد کا کہنا ہے کہ ان ڈرونز کی تیاری میں خیال رکھا جائے کہ کسی بھاری چیز کی بجائے صرف ہلکی اشیاء کو اڑانے کیلئے تیار کیا جائے۔

Thursday, 11 July 2013

آپ نے synesthesia یا جسم کے کسی ایک حصے کا استعمال بدن کے دوسرے حصے پر کرنے کے بارے میں سنا ہوگا مگر کیا کبھی سوچا ہوگا کہ آنکھوں کا کام اب کان کریں گے۔
جی ہاں ایسی انوکھی ڈیوائس تیار کرلی گئی ہے جس کے ذریعے نابینا افراد دنیا کو دیکھنے کا کام اپنے کانوں سے لے سکیں گے۔
برطانوی یونیورسٹی باتھ کے سائنسدانوں نے یہ ڈیوائس تیار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے ذریعے دماغ کو ایسی تربیت دی جاسکتی ہے کہ وہ ذہنی تصاویر کو کانوں کے ذریعے حقیقی شکل میں نابینا افراد کو دکھا دے گی۔
یہ ڈیوائس چیزوں کی آواز کو سن کر اسے نابینا افراد کو دکھائے گی۔
اس سلسلے میں کئی تجربات بھی کئے جاچکے ہیں اور لوگوں کو آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر چیزوں کی شناخت کرائی گئی ہے۔

Tuesday, 9 July 2013

سائنسدانوں نے ایسی موبائل اپلیکشن تیار کرلی ہے جس کے ذریعے زلزلوں کی آمد کی پیشگوئی کی جاسکے گی۔

کیلیفورنیا انسٹیٹوٹ آف ٹیکنالوجی کی تحقیق کے مطابق اسمارٹ فونز کی ایک اپلیکشن تیار کی گئی جو ارتھ کوئیک کی فالٹ لائن پر موجود علاقوں میں زلزلہ پیما کے طور پر کام کرتے ہوئے زلزلے کی وائبریشن کو چیک کرسکے گی۔

تحقیقی ٹیم میں شامل رچرڈ گائے کا کہان ہے کہ یہ اپلیکیشن متاثرہ علاقوں میں زلزلوں کی نگران کے لئے اہم ثابت ہوگی۔

ان کے بقول اسمارٹ فونز کے ذریعے لوگوں کو قبل از وقت معلوم ہوجائے گا کہ زلزلہ آرہا ہے اور اس کی شدت کیا ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ اس سے لوگوں کو کچھ وقت قبل معلوم ہوسکے گا کہ انہیں کس تباہی کا سامنا ہوسکتا ہے۔
سائنسدانوں نے ایسی موبائل اپلیکشن تیار کرلی ہے جس کے ذریعے زلزلوں کی آمد کی پیشگوئی کی جاسکے گی۔
کیلیفورنیا انسٹیٹوٹ آف ٹیکنالوجی کی تحقیق کے مطابق اسمارٹ فونز کی ایک اپلیکشن تیار کی گئی جو ارتھ کوئیک کی فالٹ لائن پر موجود علاقوں میں زلزلہ پیما کے طور پر کام کرتے ہوئے زلزلے کی وائبریشن کو چیک کرسکے گی۔
تحقیقی ٹیم میں شامل رچرڈ گائے کا کہان ہے کہ یہ اپلیکیشن متاثرہ علاقوں میں زلزلوں کی نگران کے لئے اہم ثابت ہوگی۔
ان کے بقول اسمارٹ فونز کے ذریعے لوگوں کو قبل از وقت معلوم ہوجائے گا کہ زلزلہ آرہا ہے اور اس کی شدت کیا ہے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ اس سے لوگوں کو کچھ وقت قبل معلوم ہوسکے گا کہ انہیں کس تباہی کا سامنا ہوسکتا ہے۔
- See more at: http://urdunews.thenewstribe.com/editors-choice/2013/07/10/smartphones-used-to-predict-earthquakes/#sthash.RLxyVHLt.dpuf
سائنسدانوں نے ایسی موبائل اپلیکشن تیار کرلی ہے جس کے ذریعے زلزلوں کی آمد کی پیشگوئی کی جاسکے گی۔
کیلیفورنیا انسٹیٹوٹ آف ٹیکنالوجی کی تحقیق کے مطابق اسمارٹ فونز کی ایک اپلیکشن تیار کی گئی جو ارتھ کوئیک کی فالٹ لائن پر موجود علاقوں میں زلزلہ پیما کے طور پر کام کرتے ہوئے زلزلے کی وائبریشن کو چیک کرسکے گی۔
تحقیقی ٹیم میں شامل رچرڈ گائے کا کہان ہے کہ یہ اپلیکیشن متاثرہ علاقوں میں زلزلوں کی نگران کے لئے اہم ثابت ہوگی۔
ان کے بقول اسمارٹ فونز کے ذریعے لوگوں کو قبل از وقت معلوم ہوجائے گا کہ زلزلہ آرہا ہے اور اس کی شدت کیا ہے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ اس سے لوگوں کو کچھ وقت قبل معلوم ہوسکے گا کہ انہیں کس تباہی کا سامنا ہوسکتا ہے۔
- See more at: http://urdunews.thenewstribe.com/editors-choice/2013/07/10/smartphones-used-to-predict-earthquakes/#sthash.RLxyVHLt.dpuf
سائنسدانوں نے ایسی موبائل اپلیکشن تیار کرلی ہے جس کے ذریعے زلزلوں کی آمد کی پیشگوئی کی جاسکے گی۔
کیلیفورنیا انسٹیٹوٹ آف ٹیکنالوجی کی تحقیق کے مطابق اسمارٹ فونز کی ایک اپلیکشن تیار کی گئی جو ارتھ کوئیک کی فالٹ لائن پر موجود علاقوں میں زلزلہ پیما کے طور پر کام کرتے ہوئے زلزلے کی وائبریشن کو چیک کرسکے گی۔
تحقیقی ٹیم میں شامل رچرڈ گائے کا کہان ہے کہ یہ اپلیکیشن متاثرہ علاقوں میں زلزلوں کی نگران کے لئے اہم ثابت ہوگی۔
ان کے بقول اسمارٹ فونز کے ذریعے لوگوں کو قبل از وقت معلوم ہوجائے گا کہ زلزلہ آرہا ہے اور اس کی شدت کیا ہے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ اس سے لوگوں کو کچھ وقت قبل معلوم ہوسکے گا کہ انہیں کس تباہی کا سامنا ہوسکتا ہے۔
- See more at: http://urdunews.thenewstribe.com/editors-choice/2013/07/10/smartphones-used-to-predict-earthquakes/#sthash.RLxyVHLt.dpuf
سائنسدانوں نے ایسی موبائل اپلیکشن تیار کرلی ہے جس کے ذریعے زلزلوں کی آمد کی پیشگوئی کی جاسکے گی۔
کیلیفورنیا انسٹیٹوٹ آف ٹیکنالوجی کی تحقیق کے مطابق اسمارٹ فونز کی ایک اپلیکشن تیار کی گئی جو ارتھ کوئیک کی فالٹ لائن پر موجود علاقوں میں زلزلہ پیما کے طور پر کام کرتے ہوئے زلزلے کی وائبریشن کو چیک کرسکے گی۔
تحقیقی ٹیم میں شامل رچرڈ گائے کا کہان ہے کہ یہ اپلیکیشن متاثرہ علاقوں میں زلزلوں کی نگران کے لئے اہم ثابت ہوگی۔
ان کے بقول اسمارٹ فونز کے ذریعے لوگوں کو قبل از وقت معلوم ہوجائے گا کہ زلزلہ آرہا ہے اور اس کی شدت کیا ہے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ اس سے لوگوں کو کچھ وقت قبل معلوم ہوسکے گا کہ انہیں کس تباہی کا سامنا ہوسکتا ہے۔
- See more at: http://urdunews.thenewstribe.com/editors-choice/2013/07/10/smartphones-used-to-predict-earthquakes/#sthash.RLxyVHLt.dpuf

Monday, 8 July 2013

A Unique One Wheel Scooter

Posted by Unknown on 22:25 with No comments
ایک پہیے والا انوکھا اسکوٹر

آپ نے ایک پہیے والی سائیکل تو دیکھی ہوگی اب ایسے ہی انوکھے اسکوٹر کی سواری  بھی کیجئے جس پر بیٹھ کر گرناممکن نہیں۔
جی نہیں یہ ہمارا نہیں اس اسکوٹر کو تیار کرنے والے مؤجد کا دعویٰ ہے جو کہ الیکٹرک بیٹری کی مدد سے 25 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرسکتا ہے۔
پورٹ لینڈ کی کمپنی رینو موٹرز کے تیار کردہ اس اسکوٹر کوبنانے کا مقصد ٹریفک جام اور پارکنگ چارجز سے بچنا ہے۔
مگر یہ جان لیں کہ اس اسکوٹر میں بریکیں نہیں،اس کے ہینڈل کو آگے گھمائیں گے تو رفتار بڑھے گی اور پیچھے کریں گے تو کم ہوجائے گی۔
اس کی سب سے بہترین صلاحیت سوار کو متوازن رکھنے کی ٹیکنالوجی ہے،سوارکو کسی بھی وقت یہ فکر نہیں ہوگی کہ دیھان ہٹنے سے اسکوٹر نہ گرجائے۔
ستاون کلو وزنی اسکوٹر کو بالکل موبائل فونز کی طرح چارج کیا جاسکتا ہے اور اسے رواں برس اگست میں 2250 پاؤنڈز کی قیمت میں فروخت کے لئے پیش کردیا جائے گا۔

Sunday, 7 July 2013

فحش مواد سے پاک انٹرنیٹ سرچ انجن متعارف

انٹرنیٹ کی دنیا میں غیر اخلاقی اور فحش مواد سے پاک سرچ انجن ’’حلال گوگلنگ‘‘ متعارف کرایا گیا ہے۔

حلال گوگلنگ نامی سرچ انجن سرچنگ کے نتائج تو ”گوگل“ اور ”بنگ“ جیسے مشہور سرچ انجنوں سے ہی حاصل کرتا ہے لیکن یہ ایسے خود کار تطہیری نظام کے تحت کام کرتا ہے جو غیر اخلاقی اور فحش مواد کو صارف کی اسکرین تک نہیں پہنچنے دیتا۔
حلال گوگلنگ کی ٹیم کے مطابق اس سرچ انجن کی یہ خوبی ہے کہ یہ دیگر سرچ انجنوں سے کسی بھی متعلقہ موضوع سے متعلق فلٹر کرکے مواد صارف کو فراہم کرتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حلال گوگلنگ میں صارفین کو یہ سہولت بھی فراہم کی گئی ہے کہ اگر سرچنگ کے دوران ان کی اسکرین پر کوئی ایسا مواد نظر آتا ہے جو کہ حرام یا غیر اسلامی ہے تو وہ حلال گوگلنگ کو ای میل کے ذریعے اسے ہٹانے کی درخواست بھی کرسکتے ہیں۔
یاد رہے کہ دنیا بھر میں استعمال ہونے والے تمام سرچ انجنوں سے ہر قسم کا مواد صارفین کی پہنچ میں ہوتا ہے جس کی وجہ سے دنیا میں بسنے والے ڈیرھ ارب مسلمان اپنے بچوں کو غیراخلاقی مواد سے بچانے کے لیے متبادل نظام کی ضرورت محسوس کر رہے تھے۔

Saturday, 6 July 2013

ٹائی کی مدد سے کھیلیں وڈیو گیمز کہیں بھی

اب گھر ہو، دفتر یا شادی ہر جگہ جب بھی بیزار ہو تو ایک ٹائی آپ کو گیمز کی دنیا میں پہنچا دے گی۔

جی ہاں ایسی انوکھی ٹائی تیار کرلی گئی ہے جس کے ذریعے کسی بھی جگہ ایک وڈیو گیم ٹیٹریز کو کھیلا جاسکتا ہے۔

یہ ٹائی ایک طالبعلم نے تیار کی ہے اور اس کا خیال اسے ایک وڈیو گیم ٹیٹریز کھیلتے ہوئے آیا۔

اس ٹائی کو اس نے محض 4 گھنٹے میں ہی تیار کرلیا اور اپنی یونیورسٹی میں اسے استعمال کرکے اپنے دیگر ہم جماعتوں کو ٹیکنالوجی کے مقابلے میں مات بھی دے دی۔

اس ٹائی میں کئی طرح کے فنکشنز بھی موجود ہیں جن کے ذریعے وڈیو گیم آسانی سے کھیلی جاسکتی ہے۔
 

Friday, 5 July 2013



 ٹوکیو…این جی ٹی…جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو کے سائنس میوزیم میں انسانی صلاحیتوں کے حامل روبوٹ اسیمو(Asimo) کو بحیثیت گائیڈ تعینات کردیا گیا۔ دنیا کی بہترین ٹیکنالوجی کے حامل روبوٹس میں شامل کیا جانے والا اسیمو انسا نوں کی طرح نقل و حرکت کرنے کے ساتھ ساتھ سیڑھیاں چڑھنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اپنی انہی صلا حیتوں کے باعث یہ یورپ بھر کے سائنسی عجائب گھروں کا دورہ کر چکا ہے۔ تاہم جاپان کے مرائیکان سائنس میوزیم میں گائیڈ کے فرائض سنبھالتا یہ واکنگ ٹاکنگ روبوٹ پہلے ہی دن انسانوں کے درمیان گھن چکر بنا نظر آیا۔ جدید سینسرز سے لیس اسیمو اس بات کا تعین کرنے میں بُری طرح ناکام رہا کہ کون اُس سے سوال پوچھ رہا ہے اور کون اپنے اسمارٹ فون سے اُس کی تصاویر اُتار رہا ہے، لہٰذا باربار یہی سوال دھراتا رہا کہ کون اسیمو سے سوال کرنا چاہتا ہے؟ بحیثیت گائیڈ ناکامی سے دوچار ہونے والے اس روبوٹ کی جدت پر ناقدین اب سوال اٹھاتے نظر آرہے ہیں کہ آیا اس روبوٹ کی صلاحیتوں میں کسی قسم کا اضافہ کیا بھی گیا تھا یا نہیں؟

Wednesday, 3 July 2013

Unique Shoes Created By 3D Printer

Posted by Unknown on 20:59 with No comments

تھری ڈی پرنٹر سے تیار کردہ انوکھے جوتے


ہڈیوں سے بنے جوتے پہننے کے بارے میں کیا خیال ہے؟ اگر ہاں تو جناب ایسے جوتے بھی تیار کرلئے گئے ہیں۔
جی ہاں ڈچ فیشن ڈیزائنر ایرس وان ہارپن نے پیرس فیشن ویک میں ایسے انوکھے جوتے متعارف کرائے ہیں جو جنگی حیات سے متاثر ہوکر تیار کئے گئے ہیں۔
تھری ڈی پرنٹر کے ذریعے تیار کئے گئے ان جوتوں کے بارے میں ڈیزائنر کو توقع ہے کہ یہ فیشن کی دنیا میں ہلچل مچادیں گے۔
اس سے پہلے اسی طرز کے ہائی ہیل جوتے معروف گلوکارہ لیڈی گاگا بھی استعمال کرتی رہی ہیں تاہم یہ تھری ڈی پرنٹر سے تیار ہونے والے پہلے جوتے ہیں۔

Tuesday, 2 July 2013

بھارت میں طالبعلموں کے ایک گروپ نے ایپل، گوگل اور سونی جیسی بڑی کمپنیوں کو پچھاڑتے ہوئے دنیا کی پہلی اسمارٹ واچ متعارف کرادی۔
یہ گھڑی بلیوٹوتھ، جی پی ایس، وائی وائی اور بلٹ ان کیمرے جیسے فیچرز سے لیس ہے اور اس سے کسی کو بھی فون یا ایس ایم ایس کیا جاسکتا ہے۔
گوگل کے آنڈروئیڈ آپریٹنگ سسٹم سے چلنے والی اس پہلی اسمارٹ واچ میں 16 جی بی تک ڈیٹا بھی محفوظ کیا جاسکتا ہے، جبکہ اس کی قیمت ڈیڑھ سو پاؤنڈز رکھی گئی ہے۔
اگرچہ سونی یا کچھ اور کمپنیوں کی گھڑیاں بھی موبائل فون سے کنکٹ ہوسکتی ہیں مگر Androidly نامی یہ گھڑی پہلی اسمارٹ واچ ہے جس سے فون پر بات بھی کی جاسکتی ہے۔
یہ اسمارٹ واچ 4 بھارتی طالبعلموں نے ملکر تیار کی ہے اور وہ اس پر کافی عرصے سے کام کررہے تھے۔

Thursday, 27 June 2013

مائیکروسافٹ نے باضابطہ طور پر اپنے نئے آپریٹنگ سسٹم ونڈوز 8.1 کا ریلیز کردیا ہے۔
سان فرانسسکو میں سالانہ ڈویلپرز کانفرنس کے دوران مائیکروسافٹ نے ونڈوز 8 کا نیا اپ ڈیٹ ورژن متعارف کرایا، جس کا ٹیسٹ ورژن مفت ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے جب کہ رواں سال کے آخر تک اس کا مکمل ورژن فروخت کے لیے پیش کردیا جائے گا۔
مائیکروسافٹ کے چیف ایگزیکٹو اسٹیو بالیمر نے تصدیق کی ہے کہ ونڈوز 8.1 میں اسٹارٹ بٹن پھر شامل کرلیا گیا ہے، جسے ونڈوز 8 سے ہٹا دیا گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم اسٹارٹ بٹن کو واپس شامل کررہے ہیں اب آپ اپنے ڈیسک ٹاپ کو اپنی مرضی سے چلاسکیں گے۔
اس نئے ورژن میں سرچ آپشن کو زیادہ بہتر بنایا گیا ہے جس سے صارف کمپیوٹر میں دستاویزات، اپیلیکشنز اور انٹرنیٹ پر کچھ بھی ایک ہی سرچ بار پر ڈھونڈ سکیں گے۔
اسی طرح اس میں صارف اپنی تمام اپلیکشنز کی فہرست ایک ہی جگہ دیکھ سکے گا۔

 ایمسٹرڈیم…نیدر لینڈ میں ایک ایسا منفرد لمپ تیار کیا گیا ہے جو روشنی پھیلانے کے ساتھ ساتھ ہوا میں اُڑنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے نیدر لینڈ میں دو دو ماہر ڈزائنرز نے ایک ایسا منفرد لمپ تیار کیا ہے جو آن کرنے کے بعد اس کے اوپری حصے میں نصب شیڈ ہوا میں اُڑنا شروع کر دیتا ہے جسے پکڑ کر ٹوپی کی طرح لمپ کے اوپر سے ہٹایا اور دوبارہ رکھا بھی جاسکتا ہے اس کے علاوہ اس لمپ کو چھو کر اس کی روشنی کم اور زیادہ بھی کی جاسکتی ہے ۔

Wednesday, 26 June 2013

عالمی شہرت یافتہ کمپنی “گوگل” نے انٹرنیٹ صارفین کے لیے ایک اور ناممکن کا حصول ممکن بناتے ہوئے دبئی میں تعمیر ہونے والی دنیا کی بلند ترین عمارت”برج الخلیفہ” کی سیر ممکن بنا دی ہے۔
اب کوئی بھی شخص با آسانی “گوگل اسٹریٹ ویو” گیلری میں 163 منزلہ دنیا کی اس فلک بوس عمارت کی سیر کرسکے گا۔
گوگل کمپنی کی ٹیم نے مسلسل تین روزہ محنت کے بعد اس مشکل کو سر کیا۔
برج الخلیفہ کے گوگل اسٹریٹ ویو میں شامل کیے جانے کی تقریب پیر کے روز دبئی میں اسی ٹاور میں منعقد ہوئی۔
تقریب کے دوران تین دن سے جاری مساعی کے نتیجے میں ٹاور کے اندراور باہر کے مناظر کی عکس بندی پر مبنی 360 ڈگری کی تصاویر پیش کی گئیں اور دنیا کی 828 میٹر بلند عمارت کے مسحور کن مناظر دکھائے گئے۔
برج الخلیفہ کے اسٹریٹ ویو کے بارے میں گوگل کمپنی نے اپنے عربی زبان کے بلاگ میں جاری ایک بیان میں بتایا کہ “برج الخلیفہ میں ڈیفالٹ رومنگ” کی خصوصیات کی حامل تکنیک پہلی بار استعمال کی گئی اور اسی ڈیفالٹ رومنگ کے ذریعے ٹاور کے تصویری مناظر سے انٹرنیٹ صارفین تک پہنچائے ہیں۔
بتایا گیا کہ برج الخلیفہ کے اندرونی اور بیرونی منظرکی عکس بندی کے لیے تین دن تک متحرک ٹرالی کی مدد لی گئی۔ جس کی بدولت اعلیٰ معیار کے 360 ڈگری کی تصاویر حاصل کی جا سکی ہیں۔
گوگل کی برج الخلیفہ کی سیر کرانے کی نئی سروس کی بدولت اب کوئی بھی شخص گھر بیٹھے اس بلندو بالا عمارت کی آخری منزل تک کی سیر کرسکتا ہے۔
علاوہ ازیں خلیفہ ٹاور کی اندر دیگر مقامات کی سیر کے لیے 22 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی سیڑھی کو استعال کرتے ہوئے76 ویں منزل پر موجود پیراکی کے تالاب سے بھی لطف اندوز ہوا جاسکتا ہے۔ یہ تمام مناظر گوگل کی اسٹریٹ ویو گیلری میں موجود ہیں جہاں انہیں اپ ڈیٹ بھی کیا جاتا ہے۔

Saturday, 22 June 2013



 ٹوکیو… این جی ٹی…والدین اپنے بچوں کو مصروف رکھنے اور ان کے کھیلنے کیلئے انھیں کھلونے دیتے ہیں جنھیں بچے اپنا دل بہلانے کے بعد گھر میں پھیلا کر ماؤں کا کام بڑھادیتے ہیں ۔ والدین کی اس مشکل کو آسان کر نے کیلئے جاپان میں ایک ایسا روبوٹ تیار کیا گیا ہے جو بچوں کے پھیلائے ہوئے کھلونوں کو سمیٹنے کا کام سر انجام دے گا۔ جدید ٹیکنالوجی کی سہولت کی مدد سے کنٹرول ہو نے والے اس روبوٹ میں ایسے جدید سینسرز نصب ہیں جو انسان کی رہنمائی میں فرش اور گھر کے دیگر حصوں میں پھیلے ہوئے بچوں کے کھلونوں کو اٹھا کر ڈبے میں ڈال کر محفوظ کر کے والدین کا ہاتھ بٹھائے گا ۔


 برلن…این جی ٹی…جرمنی کے شہر برلن کی ایک مقامی یو نیورسٹی کے ما ہرین نے ایسا منفرد گیند نما کیمرہ تخلیق کیا ہے جسے ہوا میں اچھال کر چاروں اطراف کے مناظر کی تصاویر کھینچی جاسکتی ہیں۔ ایک عام گیند کی شکل والے اس 2میگا پکسل کیمرے میں 36موبائل فون کیمرے نصب ہیں جو ہوا میں اس گیند کے اچھلتے ہی زمینی سطح کے ساتھ ساتھ 360ڈگری کے زاویے سے اردگرد کے مناظر کی مکمل تصویر کشی کر نے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کیمرے کے مختلف لینسز سے لی گئی تصاویر خود کار نظا م کے تحت ایک ہی تصویر کی شکل اختیار کر لیتی ہیں جس میں چا روں اطراف کے ماحول کے مناظر کا باآسانی نظارہ کیا جا سکتاہے۔

ٹوکیو…این جی ٹی…جاپان میں ماہرین نے ایسا جدید ٹیکنالوجی کا حامل ٹی وی ریمو ٹ کنٹرول تخلیق کیا ہے جو بٹن کے بجائے ہاتھ کی حر کات سے کام کر تا ہے۔ اس منفرد ریمو ٹ کنٹرول میں بیٹری کی تبدیلی کا جھنجٹ بھی نہیں ہے کیو نکہ یہ مکمل طور پر سورج کی توانائی سے چلتا ہے۔ اس ریمو ٹ میں بٹن تو نہیں ہے لہذٰا اسے ہاتھ کی مدد سے مو ڑنے پر ٹی وی کی آواز ،گھمانے پر چینل کی تبدیلی اور ٹی وی آن اورآف کرنے کیلئے اسے نزاکت سے ہلا یا جا تا ہے۔ اس ریمو ٹ کو جلد ہی فروخت کیلئے بھی پیش کر دیا جائے جس کے ذریعے وہ افراد جن کی قریب کی نظرکمزور ہے انھیں با ربار ریموٹ کو استعمال کرنے کیلئے نظر کا چشمہ لگانے کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔